ہگز فیلیڈ اور ہگز بوزون۔۔۔۔نعمان رؤف ہاشمی

ہگز بوزون کو گاڈ پارٹیکل کیوں کہا جاتا ہے؟

ہگز بوزون کی کہانی ماس سے شروع ہوتی ہے اور ماس کیا ہے اگر ٹیکنیکل ٹرمز میں کہا جائے تو ماس کسی بھی باڈی کے  انرشیا کی پیمائش کا نام ہے سادہ الفاظ میں کہا جائے تو کوئی بھی باڈی اگر ریسٹ کی حالت میں ہے تو اُس کی حالت بدلنے کی کوشیش کرتے ہیں تو اُس کی سٹیٹ بدلنے پر آپکو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس مزاحمت کو ماس کہتے ہیں جیسے کسی کھڑی ہوئی گاڑی کو دھکا لگانے پر آپ اُس کے  ماس کو محسوس کرتے ہیں

ہم جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کو ماس نہ ہو وہ ویکیوم میں روشنی کی رفتار سے سفر کرے گا جیسے کہ فوٹانز ماس نہ ہونے کی وجہ ویکیوم میں یہ رفتار حاصل کر پاتے ہیں اب کوئی آبجیکٹ روشنی کی رفتار حاصل نہیں کر پا رہا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کچھ نہ  کچھ ماس ضرور رکھتا ہے
ہم ماس اور وزن کو  ایک ہی جیسا سمجھتے ہیں مگر وزن ماس سے مختلف ہے وزن میں گریویٹی کا بھی عمل دخل ہوتا ہے جب کہ ماس کا گریویٹی سے کوئی لینا دینا نہیں اس لئے کائنات میں کسی بھی باڈی کا ماس ہر جگہ یکساں رہتا ہے جبکہ وزن گریویٹی کے  حساب سے ہر جگہ مختلف ہوتا ہے اب اگر پوچھا جائے کہ یہ ماس آتا کہاں سے ہے تو ہم کہیں گے کہ باڈی مادہ سے بنی ہے وہی اسے ماس مہیا کر رہا ہے۔

کوانٹم لیول پر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے مادہ کی بنیاد کوارکس اور لیپٹانز ہیں اور کوارکس اور لیپٹانز کسی اور چیز سے نہیں انرجی سے بنے ہیں اسلئے اُن کا ماس نہیں ہونا چاہیے مگر ہمیں معلوم ہے اور ثابت شدہ ہے کہ لیپٹانز اور کوارکس بھی ماس کے  حامل ہوتے ہیں اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان کو ماس ملتا کہاں سے ہے اور یہاں یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ جب ان فنڈمینٹل پارٹیکلز کا ماس موجود ہے تو فوٹان ماس لیس پارٹیکل کیوں ہے؟

1960 میں فزیسسٹ نے ایلیمینٹری پارٹیکلز کو بہتر طریقے سے سمجھنے کیلئے Equations ڈویلپ کی جس کی مدد سے وہ پارٹیکلز کو سمجھ کر اُن کے  متعلق Prediction کر سکتے تھے مگر یہاں الجھن بڑھا گئی کیونکہ جب وہ الیکٹران اور کوارکس کو ماس لیس پارٹیکل Assume کرتے تو Equation ٹھیک سے کام کرتی تھی مگر جب کہ یہ ثابت شدہ تھا کہ الیکٹران اور کوارکس ماس کہ حامل پارٹیکلز ہیں اور ماس کی ویلیوز کے  ساتھ وہ ایکویشنز ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتی تھی
اسی دوران پیٹر ہگز ایک نئی تھیوری کے  ساتھ سامنے آئے جس میں اُنہوں  نے ہگز فیلیڈ اور ہگز بوزن کے  موجود ہونے کی Prediction کی.. اس تھیوری کے  مطابق جیسے اس کائنات میں ہر جگہ فیلیڈز موجود ہیں اور پارٹیکلز اُنہی فیلیڈز میں انرجی کی وجہ سے بنتے ہیں اور انرجی extract کرنے پر یہ پارٹیکلز بھی ختم ہوجاتے ہیں اور پیٹر ہگز کا ماننا تھا اسطرح کائنات میں ایک اور فیلیڈ بھی موجود ہے جسے انرجی دینے پر ہگز بوزون بنتے ہیں اُن کا ماننا تھا کہ سبھی پارٹیکلز فوٹان کی طرح ماس لیس ہوتے ہیں ان سبھی پارٹیکلز کو Higgs فیلیڈ ہی ماس مہیا کرتی ہے

جب بھی کوئی پارٹیکلز ہگز فیلیڈ میں انٹر ہوتا ہے تو جتنا  زیادہ ہگز فیلیڈ کے  ساتھ انٹریکٹ کرے گا اُتنا  زیادہ ماس کا حامل ہوگا جیسے کہ فوٹان ہگز فیلیڈ کے  ساتھ نہ ہونے کے  برابر انٹریکٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا ماس نہیں ہوتا اور الیکٹران ہگز فیلیڈ کے  ساتھ تھوڑا انٹریکٹ کرتے ہیں اس لئے ان کا ماس کم ہوتا ہے جبکہ کوارکس ہگز فیلیڈ کے  ساتھ   زیادہ انٹریکٹ کرتے ہیں اس لئے ان کا ماس  زیادہ ہوتا ہے۔

1964ْ میں پیٹر ہگز نے یہ تھیوری ایک سائینسی جریدے میں mathematical Equation کے  ذریعے ثابت کر کے  پبلش کی اُس وقت اس تھیوری کو پذیرائی حاصل نہ ہوسکی کیونکہ یہ بات ماننا کافی مشکل تھا کہ invisible fields کسی پارٹیکل کو ماس بھی دے سکتی ہیں فزیسسٹ کے  مطابق ہگز فیلیڈ کی موجودگی صرف Mathematically موجود تھی اس کو تجرباتی بنیاد پر ثابت نہ کیا جا سکا تھا اور اس کا تجرباتی بنیادوں پر ثابت کرنے کیلئے LARGE HADRON COLLIDER بنایا گیا اور Maths کی مدد سے ہمیں پتہ چلا کہ اگر ہماری سوچ ٹھیک ہے اور ہگز فیلیڈ موجود ہے تو بہت کم سپیس میں دو چارجڈ پارٹیکلز کو آپس میں ٹکرائیں تو یہ ٹکراؤ ہگز فیلیڈ میں کچھ دیر کیلئے ہلچل پیدا کر دے گا جیسے پانی میں دو تیز رفتار کشتیوں کے  ٹکراؤ سے پانی میں ہلچل پیدا ہوجاتی ہے اسی طرح اس ہلچل کی وجہ سے ہگز فیلیڈ سے ہگز بوزون پیدا ہوگا جسے ہم Detect کر سکتے ہیں Detect کرنے کیلئے ہگز بوزون کا Predicted Decay Pattern کو مانیٹر کیا جانا تھا

اس چیز کو استعمال کرتے ہوئے 4 جولائی 2012 میں LHC میں دو چارجڈ پارٹیکلز کو روشنی کی 99.9 سپیڈ پر آپس میں ٹکرایا گیا تو ہگز بوزون کا ڈیکے مانیٹر کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ ہگز بوزون وجود رکھتے ہیں جس سے پیٹر ہگز کی تھیوری کو پوری طرح صیح ثابت کر دیا جس کہ بناء پر 2013 میں پیٹر ہگز کو نوبل پرائز دیا گیا

ہگز فیلیڈ اور ہگز بوزون کو لے کر ایک یہ بھی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ہگز بوزون پارٹیکلز کو ماس مہیا کرتے ہیں مگر حقیقت مختلف ہے ہگز بوزون تو وہ پارٹیکلز ہیں جو ہگز فیلیڈ میں انرجی کی وجہ سے بنتے ہیں

اگر ہگز فیلیڈ نہ موجود ہوتی جس سے سائینٹسٹ 2012 تک انجان تھے تو سبھی پارٹیکلز ماس لیس ہوتے اور اس صورت میں مادہ کا وجود ہی نہ ہوتا سبھی پارٹیکلز لائٹ کی سپیڈ سے سفر کر رہے ہوتے الیکٹران نیوکلئیس کے  گرد موجود نہ ہوتے ،نہ ہی کوارکس آپس میں مل کر پروٹان اور نیوٹران بناتے نہ ہی ایٹمزبنتے نہ بانڈ بنتے غرضیکہ   مادہ کا وجود ہی نہ ہوتا نہ ہم ہوتے نہ ہی دُنیا ہوتی بس پارٹیکلز کی ادھر اُدھر ریس چل رہی ہوتی ہم یہ کہہ سکتے کائنات کے  وجود میں ہگز فیلیڈ ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے

جیسے کہ ہمیں معلوم ہے کہ کائنات میں ہر جگہ فیلیڈز موجود ہیں ان فیلیڈز کا ایفیکٹ ہر جگہ ایک جیسا نہیں کہیں یہ کم ایفیکٹ رکھتی ہیں اور کہیں  زیادہ مگر ہگز فیلیڈ ہر جگہ ایک جیسے ہی کام کرتی ہیں چاہے وہ دُنیا ہو یا کائنات کا کوئی  کونہ ،یہ سبھی جگہ ایک جیسی یونیفارم ایفیکٹ رکھتی ہے۔

ہگز بوزون کو گاڈ پارٹیکل کیوں کہا جاتا ہے؟

یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی اس کا نام گاڈ پارٹیکل گاڈ کہے حوالے سے نہیں رکھا گیا  انیسویں   صدی میں  Leon Lederman نے اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا نام اُنہوں نے The Goddam Particle رکھا مگر اُن کہ اس نام سے پبلیشر کا اختلاف تھا تو اُس نے اس کا نام بدل کر The God Particle رکھ دیا اُن کیلئے اس کے  پیچھے کوئی لاجک نہیں تھی  اُن کیلئے یہ صرف ایک اچھا نام تھا مگر میڈیا نے اس نام کو اتنا مشہور کر دیا کہ اس پارٹیکلز کو ہگز بوزون کے  بجائے گاڈ پارٹیکل کے  نام سے جانا جانے لگا.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *