نمبروں کا جال اور ہماری خوشیاں ۔۔۔۔ضعیغم قدیر

آج اگر آپکے خالی اکاؤنٹ میں آپکو روزانہ کے دو ہزار روپے آتے ہیں تو آپ کچھ دنوں تک بہت زیادہ خوش نظر آئیں گے کہ مفت کی رقم ہے ہم کونسا محنت کررہے ہیں مگر کچھ ہی عرصے بعد آپ مفت کی رقم کے بارے بھی اس بات کا شکوہ کرنے لگ جائیں گے کہ یار اس دو ہزار روزانہ سے کچھ نہیں ہوتا ،مجھے اکاؤنٹ میں پانچ ہزار روزانہ کے چاہئیں۔ اسی طرح اگر آپ دس ہزار روپے کی تنخواہ کے عوض کسی جگہ نئے نئے ملازم لگتے ہیں تو شروع شروع میں آپکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا مگر کچھ ماہ بعد آپکو اپنی تنخواہ کم لگنی شروع ہوجاۓ گی مگر جونہی آپکی تنخواہ دوبارہ سے بڑھے گی تو آپ دوبارہ سے خوش ہوجائیں گے اور پھر کچھ عرصے بعد آپ دوبارہ سے ناخوش ہی نظر آئیں گے۔

یہی حال ہمارا سوشل میڈیا پہ ہے ہمیں جتنے زیادہ لائیکس ملتے ہیں ہم اتنے ہی زیادہ خود کو سوشل میڈیا پہ “ایکسیپٹڈ”محسوس کرتے ہیں،ہماری کرکٹ ٹیمز جتنا زیادہ سکور بناتی ہیں ہم اتنے ہی خوش ہوتے ہیں،ہمارے اکاونٹ میں جتنے زیادہ پیسے آتے ہیں ہم اتنا زیادہ ہی خوش ہوتے ہیں مگر کیا آپکو پتا ہے کہ نمبر کبھی ختم نہیں ہوتے؟۔۔۔۔آج اگر آپ دس ہزار کی تنخواہ پہ خوش نہیں تو کل کو آپ بیس ہزار پہ بھی غیرمطمئن ہی نظر آئیں  گے،آج اگر آپکے اکاؤنٹ میں دولاکھ ہیں تو بھی آپ احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گے اور بیس لاکھ پا کر بھی، باب مارلے کہہ گیا تھا کہ ”پیسے نمبر ہیں اور نمبر کبھی ختم نہیں ہوتے،اگر آپ اپنی خوشیوں کو زیادہ پیسوں کی مدد سے تلاش کررہے ہیں تو یاد رکھیے گا آپکا یہ سفر کبھی بھی ختم نہیں ہوگا“ ۔

افسوس ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی خوشیوں کو بڑے نمبر سے منسلک کردیتے ہیں اور پھر اپنی زندگی نمبروں کے اس نا ختم ہونے والے سفر میں گزار دیتے ہیں انکے مطابق اگر انکے فالورز نمبر زیادہ ہوگا،پیسوں کا نمبر زیادہ ہوگا تو وہ خود کو زیادہ خوش محسوس کریں گے مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ نمبر کبھی بھی ختم نہیں ہوتے۔ اسی لیے  خوشی کا اصل ذریعہ نمبروں کی زیادہ تعداد کبھی بھی نہیں ہوسکتا بلکہ خوشی تب ہوتی ہے جب آپ اپنے حال پہ مطمئن نظر آتے ہیں،اس لیے  نمبروں کے چکر سے نکلیں اور جتنا آپکے پاس ہے اس پہ خوش ہونے کی کوشش کریں ،کیونکہ نمبر کبھی ختم نہیں ہوتے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *