قانون اور اشرافیہ

آج جب گھر سے نکلا تو ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہو گئی۔ اس موسم میں گاڑی ڈرائیو کرتے ہوے ہلکی موسیقی اور سگریٹ مجھے بہت بھایا. نہ جانے کیوں اس موسم میں بھی پاکستانی اشرافیہ اورقانون ذہن میں آ گئے۔ لاحول پڑھنے کے بعد ذہن میں اچھے اچھے خیالات لانے کی کوشش کی تو میڈیم ایشوریا آ پہنچی، کیوں کہ میری چڑھتی جوانی میں وہی خیالوں کی محور تھی اس وقت میں راجہ بازار سےگزر رہا تھا۔ بغیر رکاوٹ گزرنے کا خوشگوار احساس لئے تجاوزات والوں کو ایک سائیڈ پرکھڑے دیکھتے اور شکریہ اللہ میاں بولتے قصاب کی دوکان کے قریب سے گزرا تویاد آیا کہ کچھ دنوں پہلے اس قصاب کا مردہ جانور بیچنے کا سکینڈل آیا تھا اور ساری زندگی کے کھائے ہوے کباب اور رول باہر آنے کا سوچنے لگے تو پاس پڑی پیپسی کا گھونٹ لیا ،جو کہ شاید 4 نمبر تھی۔ بھری بوتل بیچ سڑک کے پھینک کر ملاوٹی ٹولہ ذہن میں گھوم گیا ۔
پچھلےدنوں جب دودھ بہت خراب آنا شروع ہواتو گوالے سے شکایت کی کہ بھائی دودھ تو خالص دیا کرو ،اس نے بھی پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا چھوڑیں صاحب یہاں دین خالص نہیں ملتا آپ دودھ کی تلاش میں نکلےہیں۔ میری غضبناک نظروں کو دیکھتے ہوئے مزید دانت نکالے اور کہا ریٹ بڑھا دو مل جائے گا خالص ۔برملا میرے منہ سے نکلا ،دین یا دودھ ؟اب باری اس کی تھی پریشان ہونے کی ۔بہرحال وہ جواب دیے بغیر نکل گیا.بارش تھوڑی تیز ہوگئی اور سڑک پر کھڑا پانی دیکھ کر شرارت کرنے کو من چاہا ۔گاڑی تیز کر کے چھینٹے اڑاتے ہوے ایک گڑھے میں جا ماری ایسا لگا کہ انجن گر گیا ہو گا لیکن بچت ہو گئی ۔پتہ نہیں کب یہ سڑک ٹھیک ہو گی اور دوبارہ اشرافیہ اور قانون میری سوچوں کا محور بن گئے۔
سوچوں کے دھارے میں بہتے ہوئے تصور کرنے لگا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب پاکستان کا قانون عام شہری اور طاقتور کیلئے ایک سا ہوگا. جب کوئی امیر کسی بچے سے گھر میں مشقت نہ کروا سکے گا۔ پولیس والے کو دیکھ کر اپنے تحفظ کا احساس ہوگا نہ کہ لٹ جانے کا. نہ جانے کب وکیل قانون کا پاسدار ہوگا، نہ کے قانون توڑنے والوں کا مشیر۔ سیاست دان اپنےلئے نہیں ریاست کا سوچے گا۔ میڈیا اشتہارات کے لئے نہیں حق کےلئے کھڑا ہوگا آخرکب! آخر کب! ۔۔۔۔۔
ابھی ا تنا ہی سوچ پایا تھا کہ اچانک نا جانے کہاں سے ایک ٹریفک سارجنٹ وارد ہوا اور گاڑی روکنے کا اشارہ کیا ۔بھاگنے کا کوئی چانس نہ نظر آنے پرمجبوراً رک گیا۔
سارجنٹ سے روکنے کی وجہ پوچھی تو کچھ یوں گویا ہوا ،سیٹ بیلٹ، کالے شیشے،سگنل توڑنا۔ اب لائسنس اور کاپی دیں۔
میں نے مسکراتے ہوے فون پر اس ایریا کے وارڈن انچارج جو کہ میرا دوست تھا کو کال کر کے بات کروائی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
تو کہا ں تک سوچا تھا پاکستان کے قانون اور طاقتور کے بارے میں ؟اس سارجنٹ نے سارا ستیا ناس کر دیا۔

Avatar
شیراز شیخ
میرانام شیراز شیخ ہے راجپوت گھرانے سے تعلق ہے ،اباؤ اجداد نے اسلام قبول کیا تو شیخ کا لقب پایا اسی کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں کیا پتہ تھا کل شیخ ہونے پر لطیفے سننے کو ملے گے۔ پیشہ سے ڈیزاہنر ہوں پڑھنے کا شوق ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”قانون اور اشرافیہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *