اپنی خُو چھوڑ دیجئے جناب۔۔۔سلیم فاروقی

بابا گرو نانک کے ساڑھے پانچ سویں جنم دن پر بھارتی سکھوں کے لیے کرتارپور والا راستہ کھولنے کا ارادہ سفارتی محاذ پر یقیناً ایک اچھا قدم ہوسکتا ہے لیکن اس سلسلے میں چند اہم گذارشات۔

یہ راستہ کھولنے کا فیصلہ کرنے اور سنانے کا اختیار جنرل باجوہ صاحب کے پاس کہاں سے آگیا؟ جو انہوں نے نومنتخب وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کے موقع پر نومنتخب وزیراعظم کے ذاتی بھارتی دوست کو شاہانہ انداز میں اعلان فرمایا۔ یہ تو میٹھے چاولوں میں ریت ڈالنے والی بات ہوگئی۔

انہوں نے سدھو کو خوشخبری کی آڑ میں دراصل، حسب عادت، نومنتخب وزیراعظم کے کام میں دخل اندازی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تو ایک عوامی وزیراعظم کی توہین ہے جناب۔

آپ کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ حکومتی معاملات میں دخل اندازی روکنی ہوگی۔ اپنی یہ خُو چھوڑ دیں کہ سول حکومت کے معاملات میں جب چاہیں من مانی کرتے رہیں۔ عوام کے منتخب رہنما کے معاملات دخل اندازی بالکل ایسے ہی ہے کہ کوئی عوامی نمائیندہ آپ سے کہے کہ فلاں میجر صاحب کو فلاں پر ترجیح دیکر کرنل بنادیں۔ سوچیں جس دن ایسا ہوا کتنی مرچیں لگیں گی آپ کو۔

اگر آپ اس راستے کو کھولنا درست سمجھتے تھے، اور بجا طور پر درست سمجھتے تھے، تو اس کا یہ طریقہ ہرگز نہ تھا جو آپ نے اختیار کیا۔ یہ سیدھے سیدھے وزیراعظم کے معاملات میں دخل اندازی ہے۔ اس کا مناسب طریقہ یہ ہوتا کہ آپ وزیراعظم کو تنہائی میں یہ پیغام دیتے کہ وہ سدھو سے ملاقات میں کرتارپور والا راستہ کھولنے کا اعلان کردیں۔ یقین کیجیے اس طرح نہ صرف نومنتخب وزیراعظم کا اعتماد بڑھتا بلکہ بین الاقوامی طور پاکستان جس تنہائی کا شکار ہو چکا ہے، اس کو ختم کرنے میں مدد بھی ملتی۔

یاد رکھیے میں عمران خان کا بہت بڑا ناقد تھا اور ہوں۔ لیکن وہ ایک سیاسی جماعت کا چئیرمین عمران خان تھا، لیکن یہ میرا سویلین وزیراعظم عمران خان ہے۔ آپ بطور ادارہ جس طرح سابقہ تمام وزراء اعظم کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کے عادی رہے ہیں اگر اسی طرح وزیراعظم عمران خان کے معاملات میں دخل اندازی کریں گے تو ایک جمہوریت پسند ہونے کے ناتے عمران کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوں گا۔ آپ عوام کی آواز کو   میڈیا پر تو روک سکتے ہیں۔ میڈیا کے ہر مالک کی کتنی فائیلیں آپ کے پاس ہوں گی اور آپ کی کتنی فائیلیں میڈیا والوں کے پاس ہونگی یہ کوئی راز نہیں رہا لیکن ان فائیلوں کے زور پر آپ دونوں “بقائے باہمی” کے اصول پر عوام کو حقائق جاننے سے محروم تع رکھ سکتے ہیں لیکن جناب اب وہ دور نہیں ہے جب لوگ رات ساڑھے آٹھ اور سوا دس بجے سارے کام کاج چھوڑ کر مارک ٹیلی کی رپورٹ سننے کے لیے ریڈیو کے گرد گھیرا ڈال کر بیٹھا کرتے تھے۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں گولی بندوق سے نکل کر سو میٹر دور اپنے ہدف تک بھی نہیں پہنچ پاتی ہے کہ اس کی خبر دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔

جمہوریت پسندی کے زبانی کلامی دعوے نہ کیجیے بلکہ عملی طور پر جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیجیے ورنہ یقین کیجیے اس کا اانجام نہ ملک کے حق میں بہتر ہوگا نہ عوام کے حق میں اور نہ ہی آپ کے حق میں۔ یقین کیجیے یہ ملک ہے تو آپ کی آن بان شان ہے ورنہ فوج تو دنیا میں افغانستان، یمن اور حتیٰ کہ عرب ممالک کی بھی ہے لیکن ان کی دنیا میں جو عزت ہے اس سے آپ کے علاوہ کون اچھی طرح واقف ہوگا۔ اپنی وضع بھلے نہ چھوڑیں لیکن اپنی خُو ضرور بدلیں ورنہ یاد رکھین ایک شہنشاہ ایران کی ساوک ہوتی تھی ایک سوویت یونین کی کے جی بی ہوتی تھی، سبق سیکھیں ان سے۔ ان کو کسی باہر کے دشمن نی نہیں مارا ان کو اندرونی مرض نے مارا تھا۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *