نیا سفر اور انصافینز۔۔۔۔ انعام رانا

سب سے پہلے تو انصافینز کو بہت مبارک۔ اپ وہ نسل ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے مذاق، تضحیک اور طعنوں کا نشانہ بنے، لیکن اپ نے ہمت نہیں ہاری، آپ ڈٹے رہے اور آج مخالفین جو بھی الزام لگائیں، تاویل کریں، عمران خان وزیراعظم بن چکا اور ملک کے تین صوبوں اور مرکز میں آپ کی حکومت ہے، الحمداللہ۔ آپ کی جدوجہد، اپ کی کمٹمنٹ کو سلام۔

آج جب تحریک انصاف حکومت میں آ چکی، تو منزل پا لینے کا احساس آپ کو سست نا بنا دے۔ یہ منزل نہیں فقط اک پڑاؤ ہے۔ آپ کی جدوجہد عمران کو وزیراعظم بنانا نہیں بلکہ عمران جیسے بہادر اور ایماندار لیڈر کی قیادت میں ایک ایسے پاکستان کا حصول تھا جہاں انصاف ہو، ترقی ہو، کرپشن سے پاک ہو، یکساں نظام تعلیم اور مواقع ہوں۔ اس پڑاؤ کے بعد شروع ہونے والا یہ سفر کٹھن بھی ہے اور زیادہ محنت، زیادہ کنٹری بیوشن کا متقاضی بھی۔ سو رکنا نہیں، تھکنا نہیں؛ چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی۔

انصافیو، آپ کی اب تک کی تربیت ایک اپوزیشن کی تھی، ایک ایسی پارٹی کی جو اقتدار کیلئیے جدوجہد کر رہی ہو۔ اب آپ حکمران پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں کی ایتھیکس، دونوں کا انداز مختلف ہے۔ اوّل تو اب اپ کو اپنے اندر زیادہ تحمل، زیادہ برداشت پیدا کرنا ہو گی۔ اپ کو ہر دن چھیڑا جائے گا، اپ کو ہر دن للکارا جائے گا مگر آپ کو یہ سب اگنور کرنا ہو گا، برداشت کرنا ہو گا، ہنس کر ٹالنا ہو گا۔ اپ کی منزل اتنی اونچی ہے کہ ان باتوں میں الجھ کر اپنی انرجیز کو ضائع مت کیجئیے گا بلکہ ہر سطح پر برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوے نئے پاکستان کیلئیے یوں جدوجہد کیجئیے گا کہ پانچ سال بعد اپ کے اکثر مخالف اپ کے ووٹر بن چکے ہوں۔

تحریک انصاف کی دو کمزوریاں ہیں۔ اوّل، اس پارٹی میں عمران کی کرشماتی شخصیت اور انصافینز کی کمٹمنٹ کے باعث نازی پارٹی بننے کی شدید گنجائش ہے۔ سو اپنی اپوزیشن خود بن کر رہیے گا۔ اس سے ایک تو اپ ایک نازی پارٹی نہیں بنیں گے اور دوسرا اپ کے مخالفین کو کم سے کم موقع ملے گا اپ پہ سوال اٹھانے کا۔

تحریک انصاف کی دوسری کمزوری اسکی نا تجربہ کاری ہے۔ ابھی حکومت سے بہت سی غلطیاں ہوں گی، غلط فیصلے ہوں گے۔ مخالفین اس پر بہت شور منائیں گے۔ ایسے میں آپکو اپنی اپوزیشن خود بننا ہو گا اور ساتھ ہی حکومت کی حفاظتی شیلڈ بھی۔ عمران کی قیادت یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ اپ کا احتجاج سنتی ہے، اس قوت کو اپنے حق میں استعمال کریں۔ دوسرا ہر چھوٹی سی بات پر اپنی حکومت کے خلاف ایشو مت بنائیے کہ اپ کے مخالفین اپ کی اس قوت کو اپنے حق میں استعمال کرنے لگیں۔ قیادت کے فیصلوں پہ اعتماد کیجئیے، انکو پرفارم کرنے کا موقع دیجئیے اور اگر غلطی ہو تو خود شدید تنقید کیجئیے۔مجھے یقین ہے کہ یہ عوامی حکومت اپ کی بات سنے گی۔ دوسرا شاید اب اس ملک میں جلد “جمہوری سول بالادستی کی حتمی جنگ” لڑی جائے، ایسے میں اپ کا کردار بہت اہم ہو گا۔ یہ نکتہ اہم ہے مگر ابھی قبل از وقت سو اس پہ پھر کبھی۔

آخر میں یاد رکھئیے کہ اب عمران اس پورے پاکستان کا وزیراعظم ہے فقط ہمارا لیڈر ہی نہیں۔ اب وزیراعظم عمران خان کے کچھ اقدامات اگر “غیر انصافی” بھی لگیں تو انکو پاکستان کے مفاد پہ رکھ کر پرکھئیے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، عمران ہیں، تحریک انصاف ہے۔ ہم سب کو مل کر، اور اپنے مخالفین تک کو ساتھ ملا کر ایک نیا پاکستان بنانا ہے، ایسا پاکستان جسے نئی نسل کے حوالے کرتے ہوے ہم یوں شرمندہ نا ہوں جیسے سابقہ نسلیں آج ہم سی شرمندہ ہیں۔
پاکستان زندہ باد

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نیا سفر اور انصافینز۔۔۔۔ انعام رانا

  1. رانا جی. ناتجربہ کار کہاں ہے. ماشاءاللہ 13 میں سے 8 وزراء اور 5 میں سے 3 مشیر جناب پرویز مشرف صاحب کی کابینہ میں شامل رہے ہیں. پرویز الہی اور فہمیدہ مرزا اور جہانگیر ترین جیسے قرضہ معاف کروانے کے سپیشلسٹ بھی ساتھ موجود ہیں. آپ پریشان نہ ہوں.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *