پانامہ لیکس اور قطری شہزادہ

طاہر یاسین طاہر
اپریل میں پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے کی جانب سےمنظر عام پر آنے والی ایک کروڑ دس لاکھ دستاویزات میں دنیا بھر کے سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کے تعلقات، آف شور کمپنیوں اور اکاؤنٹس کے بارے میںدنیا کو پتا چلا تھا۔ان تمام شخصیات میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی بھی شامل ہے۔دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف کے تین بچوں کی آف شور کمپنیاں اور اثاثے ہیں جو ان کے خاندانی اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔آف شور کمپنیوں کی شناخت تین برٹش ورجن آئی لینڈ کی نیسکول لمیٹڈ، نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور ہنگون پراپرٹی ہالڈنگز لمیٹڈ کمپنیوں کے نام سے ہوئی ہے جنھیں بالترتیب سنہ 1993، 1994 اور 2007 میں بنایا گیا تھا۔ان کمپنیوں کو غیر ملکی اثاثے حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا جن میں لندن کے مے فیئر علاقے میں پارک لین کے قریب اپارٹمنٹس کی خریداری شاملہے۔ان الزامات نے میاں نواز شریف کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ یہ کمپنیاں کالا دھن سفید کرنے، چھپانے یا ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔پاناما لیکس کے بعد جب مسلم لیگ نون پر دباو بڑھا تو میڈیا میں دفاع کرنے والی پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ شخصیات کے خیال میں وزیر اعظم نواز شریف کے نام پر کوئی بھی آف شور کمنی یا اثاثے سامنے نہیں آئے ہیں اس لیے انھیں اس چیز کے لیے جوابدہ نہیں ہونا چاہیے جو ان کے بیٹوں کی ملکیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افشا ہونے والی دستاویزات کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی جرم سرزرد ہوا ہے۔ میاںنواز شریف خود بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ’افشا ہونے والی دستاویزات ان لوگوں کا کام ہے جو مجھے اور میرے خاندان کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے نشانہ بنا رہے ہیں۔اس معاملے پر سب سے زیادہ حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکمران جماعت کو آڑے ہاتھوں لیا ہواہے۔
عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف سے استعفے اور ان الزامات کی انکوائری چیف جسٹس آف پاکستان سے کروانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔قبل ازیں میاں نواز شریف بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاناما لیکس پہ کمیشن بننا چاہیے۔ اس حوالے سے مگر حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ٹی او آرز پر اتفاق نہ ہوسکا اور معاملہ با لآخر عدالت عظمیٰ میں چلا گیا ہے۔پی ٹی آئی،شیخ رشید،جماعت اسلامی وغیرہ نے اپنی درخواستیں عدالت مٰن دائر کر رکھی ہیں۔عدالت عظمیٰ نے سب درخواستوں کو یکجا کر کے ان پر سماعت شروع کر دی ہے۔دراصل معاملے اک ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دیکھا جائے اور قوم کو بتایا جائے کہ میاں نواز شریف اور ان کے بچوں نے دولت کو کیسے ملک سے باہر ٹرانسفر کیا؟ اور یہ کہ اس پہ ٹیکس ادا کیا گیا یا نہیں؟گذشتہ سے پیوستہ روز سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے مقدمے کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے جمع کروائی گئی دستاویزات میں قطر کے شاہی خاندان کے رکن حمد جاسم کی جانب سے ایک خط عدالت میں پیش کیا ہے جس کے مطابق شریف خاندان نے 1980 میں الثانی گروپ میں ریئل اسٹیٹ میں جو سرمایہ کاری کی تھی اس سے لندن میں بعد میں چار فلیٹ خریدے گئے تھے۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے جب پاناما لیکس کے بارے میں درخواستوں پر سماعت شروع کی تو مریم، حسین اور حسن نواز کے نئے وکیل اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ایک ایسا خط پیش کرنا چاہتے ہیں جو محض عدالت کے لیے ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر عدالت مناسب سمجھے تو اسے عام نہ کیا جائے لیکن جب قطر کے سابق وزیر اعظم اور شہزادے حمد جاسم بن جابر الثانی کی جانب سے لکھا گیا یہ خط عدالت کے سامنے رکھا گیا تو فوراً ججوں نے اس پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔حمد جاسم نے اپنے خط میں کہا تھا کہ ان کے والد کے مرحوم میاں محمد شریف کے ساتھ دیرینہ کاروباری مراسم تھے جو ان کے بڑے بھائی کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔خط میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان آج بھی ذاتی تعلقات ہیں۔ حمد جاسم نے لکھا ہے کہ ’انہیں بتایا گیا کہ 1980 میں میاں محمد شریف نے الثانی خاندان کے قطر میں جائیداد کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی۔ میری دانست کے مطابق اس وقت دبئی میں کاروبار کے فروخت سے ایک کروڑ بیس لاکھ درہم دیے۔
یہ امر واقعی ہے کہ عدالتیں جذبات کے بجائے شواہد کی بنا پر فیصلے کرتی ہیں۔آئینی و قانونی ماہرین اس حولاے سے بہتر رائے دے سکتے ہیں کہ عدالت میں پیش کیا گیا قطری شہزادے کا خط اس کیس پر کس حد تک اثر انداز ہو سکے گا؟البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کئی برسوں تک بھی اس بات کے شواہد ڈھونڈنا مشکل تر ہو گا کہ وزیر اعظم صاحب کی اولاد پیسہ کیسے پاکستان سے باہر لے کر گئی۔ خیال رہے کہ پہلے ہی مے فیئر فلیٹس اور دیگر کمپنیز کے حوالے سے حسین نواز،حسن نواز،اور مریم صفدر نواز کے بیانات میں بعد مشرقین ہے۔اس حوالے سے روزانہ ٹی وی چینلز پر وزیر اعظم ساحب کے خاندان کے مختلف افراد کے مختلف اوقات میں دیے گئے انٹرویوز اور بیانات ریکارڈ پر لائے جاتے ہیں۔بادشاہ بادشاہوں کے ساتھی ہوتے ہیں۔ یہ طبقاتی مسئلہ ہے اسے جمہوری و غیر جمہوری رویوں کے تحت دیکھنے کے بجائے مفادات مسہری پہ بیٹھے طاقتور طبقہ کے ذہنی رویوں کے تحت دیکھا جانا چاہیے۔ ممکن ہے آئندہ کچھ دنوں میں کسی اور عرب بادشاہ کا خاندان پاکستان کے ’’ارب پتی‘‘ خاندان سے اظہار یکجہتی کے لیے سامنے آجائے۔اگرچہ نون لیگ پاناما لیکس سے توجہ ہٹانے کے لیے سی پیک کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے اور ترقی ترقی کا ورد بھی کرتی ہے مگر پاناما لیکس پر قطری شہزادے کا خط ایک بار پھر اس معاملے کو گرم کر گیا۔یہ اسی قطر کا شہزادہ ہے جہاں طالبان نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے اپنا دفتر بھی بنایا تھا مگر بوجہ وہ مذاکرات نہ ہو سکے تھے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *