کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے

پورا ملک تقریباً دوسال سے ایک فیصلے کے انتظار میں بیٹها سڑ رہا تها وہ فیصلہ جو بارہا محفوظ ہوا، مفلوج ہوا لڑکهڑاتا ہوا آج پوری دنیا کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا پہلے سپریم کورٹ اور اب جے آئی ٹی نے ثابت کردیا کہ وزیراعظم اور اس کا پورا خاندان کرپٹ ہے منی لانڈرنگ ثابت ہوگئی نوازشریف کی دبئی میں بهی آف شور کمپنیاں سامنے آگئیں اور مریم نواز نیلسن اور نیکسول کی مالک نکلیں جن کا دعوی ٰ تها کہ ان کی تو پاکستان تک میں کوئی پراپرٹی نہیں ہے دبئی اور جدہ کے حوالے سے تمام دستاویزات سامنے آگئیں ہر چیز سامنے آگئی ایسے ملک میں جہاں لوگ غربت اور بیماری اور دہشت گردی سے دن رات موت اور موت سے بهی بدتر حالت میں زندگیاں گزاررہے ہیں کتنی شرمناک بات ہے کہ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کی بجائے ہمارا وزیراعظم پوری دنیا میں اپنی اور اپنے کنبے کی آف شور کمپنیاں اور جائیدادیں بنانے میں مصروف رہا ہے او روہ بھی کئی دہائیوں سے۔

یہ کرپشن چند سالوں کی روداد نہیں اس کی جڑیں کئی دہائیوں تک پہنچی ہوئی ہیں اور کتنے معصوم ہیں پاکستان کے وہ پڑهے لکهے عوام بلکہ بنیاد پرست کہنا زیادہ بہتر ہوگا جو گیدڑ کو اتنے سالوں سے شیر سمجھ کے اپنا لیڈر مانتے رہے اور یہ شیر بنا ملک کی جڑوں میں زہربهرتا رہا اور اپنی آنے والی نسلوں تک کو ملک کا بادشاہ بنانے اورعوام کو معاشی طور پہ اپنا غلام بنانے کے سوا کچھ نہ کرسکا۔ یہی وزیراعظم جو 2013 میں یوسف رضا گیلانی کے استعفے کے لئےواویلا کر رہاتها آج پوری دنیا کے سامنے مجرم ثابت ہوکر عدالتوں کو چیلنج کررہاہے دو ججز جسے نااہل قرار دے چکے ہوں جے آئی ٹی نے ان کے اور ان کے خاندان کے ایک ایک اثاثے اور منی ٹرانسفر کی رپورٹیں کهول کے پوری قوم کے سامنے رکھ دیں ،اتنی لوٹ مار۔ آخر اتنی ماراماری کے پیچھے ماسٹرمائنڈ کون ہوگا۔ کیا یہ قوم سوچ سمجھ سے مفلوج ہے جو اب بهی لوگ ایسے کرپٹ حکمرانوں کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔؟

ابهی چند دن پہلے ایک آئل ٹینکر سے تیل چوری کرنے والوں کی اخلاقیات پہ ہرکوئی فتوے دے رہاتها یہ جوپورا ملک لوٹ کر آف شور کرگئے ان کوکوئی پوچهنے والا نہیں جب سب کچھ عدالتوں میں ثابت ہوگیا تو پهر ان لٹیروں کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی جارہی ہے سب کچھ واضح ہوگیا، ثبوت بهی موجود ہیں تو آخر ہمارے ادارے کب ان ملک دشمن عناصر کے خلاف فوری طور پر کوئی اقدام کریں گے کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ وزیراعظم خود کبهی مستعفی نہیں ہوں گے اگر ایسا ہونا ہوتا تو پانامہ کے انکشافات کے فوراً بعد ہوجاتا یا پهر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہوجاتا مگر اب تو جے آئی ٹی رپورٹ کو بهی آئے ہوئے دودن پورے ہونے والے ہیں لیکن حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے الٹا وہ جگہ جگہ پریس کانفرنسز کررہے ہیں جس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کوجهوٹا اور بے معنی کہا جارہا ہے۔ میاں صاحب کیسے مستعفیٰ ہوں گے اپنے عہدے سے جہاں سے انہوں نے محض لوٹنے کے اور کچھ نہیں کیا ان کی تولائف سپلائی بند ہوجائے گی۔

جب سارا پاکستان، تمام سیاسی جماعتیں سر پیٹ رہی ہیں کہ وزیراعظم مستعفی ہوں تو وزیراعظم آخرکس کے لیے رکے ہوئے ہیں محض اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے؟۔ اور ان کے وزرا اپنے وزیراعظم کو معصوم ثابت کرنے کے لیے ہر طرح سے نبرد آزما ہیں ۔ ایک ایسا بندہ جسے پہلے فوج، اداروں اور عدالتوں نے جهوٹا اور نااہل قراردے دیا آخر اس کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں ہورہی ہمیں مزید کس آسمانی مدد کا انتظار ہے کہ ملک سچ میں کسی کے ہاتھ بک جائے گا تب سب کوہوش آئے گا مجهے حیرت اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو اب بهی ان کا ساتھ دے رہے ہیں، پوری قوم کو عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جو شریفوں کو عدالتوں میں لایا ،کبهی نہیں گهبرایا، ہر لمحہ ڈٹارہا سیاست دان اور تجزیہ نگار اسے امیچور سیاستدان کہتے ہیں وہ واقعی سیاستدان نہیں ہے وہ صرف پاکستان سے مخلص ہے سچا ہے کهرا ہے تو پهر واقعی میچور سیاستدان کیسے ثابت ہوسکتا ہے لیکن پاکستان بننے سے لے کر اب تک ہمیں محض سیاستدان ملے کوئی پاکستانی نہیں ملا جس کا ہر فعل پاکستان کی فلاح وبہبود اور بقا کی خاطر ہو ہم نے سب کو موقع دے کر یکھ لیا، لٹ گئے بربادبهی ہوگئے اب بهی نہ سدهرے تو کب سدهریں گے۔

ملک و قوم کے پیسے پر صرف پاکستانیوں کا حق ہے ہم میں اتنی عقل تو ہونی چاہیے کہ اگر کوئی ہماری جائیدادوں اور مالیت کو ناجائز طریقے سے اپنا بنا رہا ہو تو ہم اس کو مسترد کریں اور اس کے خلاف کهڑے ہوں اور اس مرتبہ تو ہر چیز جمہوری طریقے سے جمہوری دور حکومت میں سامنے آئی ہے کوئی مارشل لاء نہیں کوئی ڈنڈے کا زور نہیں بلکہ قانونی طریقے سے سب سامنے آیا ہے اورکچھ نہیں تو بہتری کی امید تو کی ہی جاسکتی ہے۔

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *