تجزیہ زبان و لسان۔ ۔۔۔۔ایم عثمان/قسط2

سابقہ  بیانیے میں وضاحت کی تھی کہ زبان لفظ و معنی کا مجموعہ ہے یا ایسی ساخت ہے جو معانی نہیں محض ایک علامت ہے جو دو لفظوں کے درمیان فرق کرتی ہے۔

اس کو مزید سمجھنے کے لیے ایک تجزیہ اور کرتے ہیں۔۔۔
زبان ایسی تجریدی کلی ہے جو عام و خاص ، مطلق و مقید دور قریب وغیرہ سے خالی ہوتی ہے۔ جب متکلم اسے ایک زماں کے اعتبار سے گفتگو میں استعمال کرتا ہے تو وہ زبان ایک خطاب کی شکل اختیار کر جاتی ہے متکلم کا مخاطب یا تو سامنے موجود ہوگا یا نہیں ہوگا یا وہ خود سے ہم کلامی کر رہا ہو گا یا غائب کو موجود سمجھ کر یا موجود سے اعراض کر کے اسے بھی بمنزلہ غائب کے تصور کر کے کلام کر رہا ہو گا۔ یا متکلم کے لیے غائب حاضر سب یکساں ہیں۔

تجزیہ زبان و لسان۔ ۔۔۔۔ایم عثمان/قسط1
کوئی بھی صورت ہو جب زبان کسی بھی رعایت سے استعمال ہو۔ وہ تفہیم کے لیے  ایک خاص نظام کی محتاج رہتی ہے۔

اگر زبان ساختی نظام ہے تو مخاطب و متکلم کو استعمال ہونے والی ہر ساخت کی شعریات۔(قواعد و ضوابط) کو جاننا ضروری ہے جس کی بدولت وہ ساخت میں فرق کر سکے۔جیسے ہر رنگ دیکھنے میں دوسرے رنگ سے ممتاز نظر آتا ہے۔

اگر زبان لفظ و معانی کا مجموعی نظام ہے تو اصول و ضوابط کے ساتھ اس مجموعی شعریات و تناظر اور دلالتی نظام کو سمجھنا ضروری ہے ورنہ صرف لفظ سے مطابقت معنی کا فہم حاصل نہیں ہوگا۔ اور لفظ کی مراد غیر مفہوم کے ساتھ اشتراک کر لے گی۔ اور جو رہنمائی مقصود ہے وہ حاصل نہیں ہو گی۔

2۔ زبان میں معنوی نظام کیسے پیدا ہوتا ہے؟ یا تصورات موجود ہوتے ہیں ان کے لیے الفاظ تراش لیے جاتے ہیں جو ان تصورات کا ظاہری نظام کہلاتے ہیں؟ یا الفاظ ایک سانچہ ہیں جس میں ہر معانی پرویا جاسکتا ہے؟ یا زبان ایک معنوی کلی ہے جو تصورات سے مرکب ہے جس میں تصورات کے اجزاء کو ہی معانی سمجھ لیا جاتا ہے ؟

کوئی بھی صورت ہو یا نظام ہو لفظ اور معانی کا مجموعہ اپنی زبان تک محدود رہتا ہے کہ نہ ہر زبان ایک ہے اور نہ ہر زبان میں ایک لفظ کے ایک معانی ہیں۔ اور نہ ہر لفظ دوسری زبان کا اشتراکی مواد ہے بلکہ ہر زبان اپنا الگ نظام رکھتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ دوسری زبان سے ممتاز ہوتی ہے۔

لفظ میں معنوی نظام خالص ذہنی ایجاد ہے جو ایک سماج کا ثقافتی عمل ہے جو اس سماج نے اپنی سمجھ کے لیے آزادانہ اختیار کیا تھا۔ جو زماں کے تسلسل سے عروج و زوال اور اختلط امم کے باعث جزوی تبدل کا شکار رہتا ہے۔۔

3۔الہامی ساختیں یا الفاظ و معانی۔
کوئی بھی الہامی ساخت جو جس زبان کا مواد بنی وہ ساخت یا لفظ بوقت نزول جس سماج و معاشرے کا حصہ بنی یا تو جدید ہو گی یا اسی سماج کے مستعمل الفاظ و معانی کا مجموعہ ہو گی جو تصورات اس ثقافت میں رائج تھے۔ ان کے لیے لفظوں کی صورت گری ایک خاص معانی کے ساتھ کر دی گئی۔۔
اگر جدید صورت تھی۔۔تو مخاطب کے فہم میں سوائے ان نقوش کے اور کچھ اضافہ نہیں ہو گا۔۔ یا جدید معانی کا بھی نزول ہو گا لیکن سماج سے الگ تصورات عقل میں موجود نہیں ہیں اس لیے فہم حصول مراد میں ناقص رہیں گے۔۔

اگر جدید نہیں ہیں تو الفاظ و ساختوں کے مجموعہ کی یوں صورت گری کی گئی جس سے ایک خاص ربط پیدا ہوا اور ربط و ترتیب سے وہ مفہوم پیدا کیا گیا جو ترتیب جدید سے نئے مفاہیم کو جنم دینے لگی۔ البتہ اس میں حرکت ان ہی تصورات سے پیدا ہوئی جو پہلے ہی سماج سے عقل حاصل کر چکی تھی۔۔اس طرح الہامی ساختیں قابل مفہوم ہوئیں  کہ جن کی ترتیب و ربط تو جدید تھی لیکن تصورات قدیم تھے اور اس ترتیب سے جدید معانی بھی حاصل ہوئے جو تصورات کے جزوی نظام تھے یا خاص عناصر جو کسی بھی تصور کا داخلی نظام کہلاتا ہے۔۔
الہامی ساخت قابل ترجمانی ہیں یا نہیں۔۔

جاری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *