کالام میں سیاح دوستی

چند روز پہلےگلگت میں ایک خاتون کو سیاح نوجوانوں کے ایک گروپ کی جانب سے تنگ کئے جانے پر ہم سب پر وصی بابا کا ایک کالم‘‘شمال والو! بدتمیزی کا علاج بتاؤں؟’’ شائع ہوا، جس میں انہوں نے شمالی علاقہ جات کے مکینوں کو اپنی روایت کا تحفظ کرنے، جس سیاح کے خلاف بدتمیزی کا واقعہ رپورٹ ہو اس سے جرمانہ وصول کرنے اور دوبارہ مخصوص عرصے کے لیے اپنے علاقے میں گھسنے نہ دینے کا مشورہ دیا اور امید ظاہر کی کہ جب دو چار کو پانچ دس ہزار جرمانہ ہو گا تو لڑکے لڑکیوں سے کئی گز دور رہیں گے۔ اس تحریر پر ایک تبصرہ نگار نے پٹھانوں میں اجنبیوں، مسافروں اور خواتین کے ساتھ تعاون واحترام کے چند واقعات قلمبند کرتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے۔

یہ کالم اور اس پر تبصرہ پڑھ کر مجھے کالام سوات کے حوالے سے اپنے کچھ مشاہدات ا ور تاثرات یاد آئے۔ یہ آج سے پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ گرمیوں کی تین مہینے کی تعطیلات کے لیے سکول بند ہوگٗئے،تو ہم چند دوستو نے یہ چھٹیاں خاندان کے ہمراہ پاکستان کے سوئٹزر لینڈ سوات کے علاقے کالام میں گزارنے کا ارادہ کیا۔ وہاں جانے سے پہلے ہم نے گھر کرائے پر لے لیے تھے۔ تین مہینے کے لیے، اُس وقت ایک مناسب گھر دس سے پندرہ ہزار میں مل جاتا تھا ۔ 2010 کے سیلاب سے ابھی سڑکیں خراب نہیں ہوئی تھیں۔ ہم سہولت سے پہنچے بھی اور وہاں ہمارا قیام بھی بڑاخوشگوار رہا۔ ہم چار دوست روزانہ میلوں پیدل آس پاس علاقوں کے چکرلگاتے رہتے اور ہفتے میں ایک بار دورافتادہ مقامات پر گاڑی میں بھی جاتے ۔اس دوران کئی ایک یادگار واقعات پیش آئے جن سے ایک دوواقعات وصی بابا کے کالم اور اس پر تبصرہ کی تائید کرتے ہیں۔

ہم نے کالام بازار سے مغرب کی طرف تین کلومیٹر بلندی پر واقع ایک گاؤں جالبنڑ میں جگہ کرائے پر حاصل کی تھی۔ جالبنڑ سے مغرب کی طرف اونچائی پرایک بڑا پہاڑ ہے اور ایک آبشار بھی ہے جس پر چھوٹا سا بجلی گھر بنایا گیا ہے۔ مشرق کی طرف اونچائی پر برف سے لدی ہوئی پہاڑی چوٹیاں نظر آتی ہیں۔ شمال کی طرف بھی پہاڑیاں اور وسیع جنگلات دکھائی دیتے ہیں جبکہ اس کے جنوب میں ایک پہاڑی ہے جس کے اُس طرف گیل کی مشہور وادی ہے۔ گیل اور جالبنڑ کے درمیانی پہاڑ کی چوٹی پر وسیع رقبے پر محیط ایک محل نما گھر اور باغ تھا، اس کے چاروں طرف خاردار تاریں اور آہنی جنگلے لگے ہوئے تھے۔ علاقے کے مکینوں کا کہنا تھا یہ لاہور کے شریف خاندان کا سرمائی گھر ہے۔

جالبنڑ سے بازار آنے جانے کے لیے کھیتوں کے درمیان ایک سڑک بنی ہوئی تھی۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔گیل کی وادی تک پہنچنے کے لیے جالبنڑ سے ایک انتہائی سخت چڑھائی والی پگڈنڈی لوگوں نے بنائی ہوئی تھی۔ ان راستوں پر نیچے آنے اور پھر واپس جانے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ پٹھے مضبوط ہونے شروع ہوئے تو دم بھی آہستہ آہستہ پختہ ہوتا گیا۔ آغازمیں معمولی سفر کے بعد آرام کرنا پڑتا لیکن پھر میلوں سفر پر بھی اس کی ضرورت نہ پڑتی۔ یوں تو ہر ایک کو فائدہ ہوا مگر ہمارے ایک لحیم دوست جس کا وزن کالام جانے سے پہلے ۱۱۰ کلوگرام تھا ان سیاحتی مٹرگشتیوں کے بعد ۸۰ کلو تک آگئے۔

جالبنڑ کے لوگوں کو بڑا ملنسارپایا۔ جس شخص کا مکان ہم نے کرایہ پر لیا تھا وہ حاجی صاحب کہلاتے تھے۔ انہوں نے ہماری دعوت کی۔ اس کے بعد کئی دوسرے افراد نے بھی مہمان نوازی کی۔ پنجاب اور دوسرے علاقوں کے لوگ بھی یہاں رہ رہے تھے اور وہ بھی بڑے خوش اور مطمئن تھے۔ایک روز جالبنڑ میں عشاء کی نماز کے بعد شوروغوغا بلند ہوا۔ پتہ چلا کسی سیاح پنجابی جوڑی کو کسی نے بازار سے اوپر جالبنڑ آتے ہوئے نقدی اور زیورات سے محروم کردیا ہے۔ کچھ بزرگ حضرات رونے والی لڑکی اور پریشان لڑکے کی ڈھارس بندھانے لگے جب کہ اس دوران لاؤڈ سپیکروں پر جوڑے کے لٹنے کا اعلان کرکےکہا گیا کہ سب لوگ نکل آئیں تاکہ چوروں کو پکڑا جا سکے۔ آناً فاناً اپنے علاقے کی اس طرح بدنامی پر بپھرے اور لاٹھیوں سے مسلح جوان ادھر ادھر پھیل گئے۔ تھوڑی دیر بعد دو نوجوان ان کے قبضے میں تھے۔ انہیں بزرگوں کے سامنے پیش کیاگیا مگر اس سے پہلے ا ن کی اچھی خاصی مرمت کی جا چکی تھی۔
معلوم ہوا یہ لڑکے بھی سیاح کے طور پرباہر سے آئے تھے۔ ان سے رقم اور زیورات لےکر جوڑے کےحوالے کر دئیے گئے۔ وہ ڈاکو روتے دھوتے معافی مانگتے رہے کہ آئندہ وہ یہاں ایسا کچھ نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ سوات آئیں گے۔ بعد میں غالباً انہیں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

ایک اورناقابل فراموش واقعہ کالام سے سولہ کلومیٹردور شمال میں واقع اتروڑ وادی میں پیش آیا۔ اتروڑ سے شمال کی جانب چار میل کی مسافت پر واقع جھیل کنڈول یا کنڈل جھیل (ڈھنڈ) کو جانے کا راستہ دشوار گزار ہے، پانچ چھے گھنٹہ کا پیدل سفر ہے اور اوپر آکسیجن کی کمی بھی پیش آتی ہے جس کے لیے مقامی لوگوں نے ایک مقامی بوٹی کو مسلسل سونگھتے رہنے کی ہدایت کی۔ وہ واقعی ایک کٹھن سفر تھا۔ ہمارے لحیم دوست کی سانس تو لگ بھگ ٹوٹ گئی تھی اور ہمارے ہاتھوں کےطوطے اڑ گئے تھے لیکن خدا خدا کرکے کنڈل جھیل پہنچ گئے تو ایک اورامتحان ہمارا منتظر تھا۔ ہمارے ساتھ لاہور سے تعلق رکھنے والے پانچ لڑکوں کا ایک گروپ بھی تھا۔ ہم وہاں پہنچ گئے تو لاہوری بھائیوں کے درمیان کسی مسئلے پر توتو میں میں شروع ہوگئی ۔ دیکھتے ہی تین لڑکے ایک سنگل پسلی لڑکے پر ٹوٹ پڑے اور اس سے پہلے کہ ہم بیچ بچاؤ کراتے وہ لڑکا اور اس کے ایک اور ساتھی کے سر اور چہرے سے خون بہنے لگا۔ ان کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ گئے تھے۔ ہم نے لڑکوں کو روکنے کی کوشش کی تو وہ ہم سے بھی الجھ گئے کہ ہمارا ان کے ذاتی معاملے میں کیا کام۔

جو قصور اس لڑکےکا ان سے معلوم ہوا وہ بہت معمولی تھا مگرلاہوری دوست ہمارے منع کرنے اور اس لڑکے کی بچاؤ بچاؤ کی دہائی کے باوجود اس دوران اس کو ٹھڈے مارتے رہے۔ اس دوران مارنے والوں میں سے ایک نے آواز لگائی، اس۔۔۔ کے کپڑے نکال دو۔ ہم ابھی اپنے اگلے طرزعمل پر سوچ ہی رہے تھے کہ اس دوران کچھ فاصلے پر موجود تین لڑکوں کا ایک گروپ تیزی سے قریب آیا۔ ایک لڑکے ، جس نے لمبا کوٹ اور چادر اوڑھی ہوئی تھی، نے آتے ہی مارنے والوں کو کہا کہ ہاتھ روک دیں اور ساتھ ہی ہمیں بھی کھری کھری سنائیں کہ پٹھان ہونے کے باوجود ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور مظلوم کو بچانہیں رہے۔ بپھرے ہوئے لاہوری جوانوں نے اس کو بھی جھڑک دیا۔ اس لڑکے نے اچانک چادر اتار پھینکی اور کوٹ کے نیچے ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو اس میں کلاشنکوف تھی۔

اس نےکلاشنکوف کا رخ ان کی طرف کرکے انہیں ہاتھ اوپر اٹھانے اور آنکھیں بند کرکے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اس لڑکے کو اٹھایا اور اپنے ساتھیوں سے بھاری بھاری بدلہ لینے کا کہا۔ وہ لڑکا رونےلگ گیا کہ میں انہیں معاف کرتا ہوں آپ بھی انہیں معاف کردیں۔ کلاشنکوف والا لڑکا کہنے لگا۔ نہیں لیکن اگر یہ خود آپ سے معافی مانگ لیں۔۔۔ لڑکے جو اس سے پہلے بڑے تیس مار خاں بنے ہوئے تھے، فوراً لڑکے کے پاؤں پڑ گئے۔ لڑکے نے انہیں اٹھا کر گلے لگایا۔ اس کے بعد ہم سب نے ہنسی خوشی اکٹھے کھانا کھایا۔ کلاشنکوف والا لڑکا پھروہاں سے پہاڑکی جانب چلا اور جلد ہی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔

ایک اور عجیب و غریب مشاہدہ یہ رہا کہ کالام میں آپ کہیں بھی کسی کھیت یا باغ کے اندر مصروف کار لوگوں سے کوئی سبزی یا پھل مانگ لیں تو وہ آپ سے پیسے نہیں لیتے۔ بازار کی بات الگ ہے۔ گھر سے آپ کو دودھ بھی پیسوں سے نہیں مفت ملے گا اگر ہوگا تو۔ وہ کہتے ہیں کھیت، باغ اور گھر سے مانگنے کی کوئی چیز پیسوں سےبیچنا ان کی روایات کے خلاف ہے۔ ایک روز حاجی صاحب اور جالبنڑ کے چند اور بزرگوں کے ہمراہ ہم گیل وادی میں ’’شریف محل‘‘ میں ایک دعوت سے فارغ ہوکر واپس آرہے تھے کہ پہاڑ کی چوٹی پر راستے سے کافی دور ایک لڑکا لڑکی جھاڑیوں میں ’’راز ونیاز‘‘ کرتے نظر آئے۔ ہم ان کے پاس گئے کہ ان سے ’’تفتیش‘‘ کرلیں مگر حاجی صاحب نے ایک دو سوالات کے بعد ہی ہمیں انہیں چھوڑ کر نماز کے لیے مسجد کی راہ لینے پر آمادہ کر لیا۔ یوں ہمارا تجسس ان کی ’سیاح دوستی‘ کے مقابلے میں ہار گیا ۔

طاہرعلی خان
طاہرعلی خان
طاہرعلی خان ایک ماہرتعلیم اورکالم نگار ہیں اور رواداری، احترام انسانیت، اعتدال پسندی اورامن کو عزیز رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *