اینکر۔۔۔۔۔ سخاوت حسین

سر میں اینکر بننا چاہتا ہوں۔ سر میری متنوع موضوعات پر تحقیقی استعداد بھی قابل تعریف ہے۔ میں نے صحافت میں ایم اے بھی کیا ہوا ہے۔ سر میں چاہتا ہوں میں کچھ عرصے آپ کے ساتھ کام کروں تاکہ ایک دن میں بھی بہتر اینکر کے روپ میں سامنے آسکوں۔ وہ کتنی دیر سے ملک کے مشہور اینکر کے سامنے دست سوال بلند کئے ہوئے تھا۔

دیکھو بیٹا! تم اینکر بن سکتے ہو یا نہیں اس کے لیے مجھے تم سے کچھ سوال کرنے ہوں گے۔ تبھی میں فیصلہ کروں گا کہ تمھیں اپنے ساتھ رکھوں یا نہیں۔ کیا تم آمادہ ہو ان سوالات کے لیے۔۔
محترم سرآپ حکم کیجئے۔ آپ مجھے تعمیل کرنے والوں کی فہرست میں اول درجے پر پائیں گے۔
دیکھو اینکر بننے کے لیے جو پہلی شرط تھی وہ تم نے یہی خوشامد کرکے پوری کردی۔
اب یہ بتاؤ۔۔ فرض کیا تمھیں اینکر بنا دیا جائے تمھارے پاس چند اہم مسائل ہوں۔ تب تم کیا کروگے؟ کیسے ایسے معاملات سے باہر آؤ گے.
سر میں اسے مسئلے کو بیان کروں گا  جو سب سے زیادہ ضروری ہو۔ جس کا حل کیا جانا ضروری ہو۔
یعنی تم مسائل کو حل کی طرف لے کر جاؤ  گے؟
جی سر آپ بالکل درست سمجھے۔

فرض کرو ایک طرف سیاستدان کا کوئی چٹکلا ہاتھ لگا ہے اور دوسری طرف پانی کا مسئلہ ہے تم کس مسئلے کو اہمیت دو گے؟
سر میں پانی کے مسئلے کو اہمیت دوں گا۔
ہاہاہا۔۔۔شہزادے یعنی تم پروگرام کی ریٹنگ کی واٹ لگا دو گے۔
چلو چھوڑو یہ بتاو۔ تم سیاستدانوں کو سٹوڈیو بلاؤ  گے اور کوئی مسئلہ سامنے رکھو گے تو سیاستدانوں پر کیا ہوم ورک کرکے جاؤ گے۔؟
سر میں، وہ خوشی سے بولا، میں سیاستدانوں سے زیادہ مسئلے پر ہوم ورک کروں گا۔ میری کوشش ہوگی اس مسئلے پر سیاستدانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑوں ۔
واہ بیٹا اور مسئلے کو حل کرتے ہوئے سیاستدان آپس میں لڑ پڑے تب تمھارا لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟۔۔اینکر نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔
سر میں کوشش کروں گا کہ پروگرام میں وقفہ لے کر ان کی لڑائی کو ختم کروں۔ ان کی توجہ مسئلے کی جانب مبذول کروں۔
ہاہاہا۔۔۔۔یعنی تم لڑائی نہیں ہونے دو گے۔؟
قطعی نہیں سر۔۔۔سیاستدانوں کی لڑائی کا قوم کو کیا فائدہ ہوگا۔
بیٹا اس کا مطلب ہےچینل کا فائدہ تم سوچو گے ہی نہیں۔۔۔

چھوڑو یہ بتاؤالیکشن کے موقع پر رپورٹنگ کیسے کرو گے؟
سر متوقع نتائج دیکھ کر، عوام کی بے باک رائے دیکھ کر، علاقے کا سروے کرکے، لوئر کلاس اور مڈل کلاس کے پاس جاکر اور مسائل کی نشاندہی  کرکے ، علاقے کے سابقہ ایم این ایز ، ایم پی ایز , لوکل باڈیزاور موجودہ الیکشن میں کھڑے امیدواروں کے درمیان  بحث و مباحثہ کی روایت کو تشکیل دے کر رپورٹنگ کروں گا ۔ کوشش کروں گا کہ سٹوڈیو میں علاقے کے چند سفید پوشوں کو بھی بلا کر بولنے کا موقع فراہم کروں.۔۔

کیا تم انہیں سٹوڈیو میں لے آؤ گے۔؟ اینکر نے حیرانی سے پوچھا۔
بالکل سر!جب یہ ہمیں سنتے ہیں۔ ہمیں دیکھتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں ہم ان کے مسائل کا حل کریں گے تو کیا ہمارے اوپر لازم نہیں کہ ہم ان کی بھی سنیں۔ انہیں بھی سمجھیں۔انہیں بھی اتنی اہمیت دیں۔
ہاہاہا۔۔۔۔اینکر زور سے ہنسا! بیٹا!، جب تم نے میری تعریف کی تھی مجھے لگا تھا تمھارے اندر اینکر بننے والی تمام خصوصیات ہیں۔ مگر۔۔۔۔۔۔
مگر کیا سر جی؟۔۔۔۔۔
بیٹا ! سوشل میڈیا استعمال کرتے ہو؟
جی سر۔۔۔
کس قسم کی ٹویٹ کرتے ہو۔ کیسی پوسٹیں کرتے ہو۔؟
سر میری کوشش وہاں بھی یہی ہوتی ہے کہ میں شخصی تنقید کی بجائے مسائل پر زیادہ توجہ دوں ۔
ھاھاھا،بیٹا اینکر بننے کا شوق ہے۔ سچ پوچھو تودنیا میں تم جیسے کافی لوگ ہوں گے۔ ایسا کرو کہ فیس بک پر اپنے ہم خیال لوگوں کا ایک گروپ بناو۔ وہاں جو کہنا ہے کہو۔مگر تم میڈیا پر نہیں آسکتے۔
کیوں سر! وہ مایوسی سے بولا۔
کیوں کہ بیٹا میڈیا میں آنے کے لیے تمھیں ان سب کے الٹ چلنا پڑے گا جن سب کے ساتھ ابھی تم چل رہے ہو. ان سب کے جو ابھی تم کہتے ہو , الٹ کرنا پڑے گا۔ جس دن تمھارے اندر موجود خصوصیات کی متبادل خصوصیات آجائیں تم میرے پاس چلے آنا۔۔۔۔اینکر نے یہ کہتے ہوئے غصے سے گارڈ کو آواز دی۔

وہ مایوسی سے کمرے سے نکلا۔ اینکر ، ٹیبل اور دیوار کی سائیڈ پر لگی قائد کی تصویراور لکھے فرمودات۔۔ اور اینکر کی گارڈ کو دی جانے والی گالیاں۔۔۔۔وہ بھی اس لیے کہ ایک پاگل کو کیوں اس کے پاس بھیجا۔ اس نے مایوسی سے بڑی بڑی باتیں کرنے والے اینکر کے کمرے کو دیکھا اور چپ چاپ سڑک کی جانب بڑھنے لگا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *