• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاراچنار کے شہریوں اور ہزارہ برادری کے قتل عام کی بنیادی وجوہات

پاراچنار کے شہریوں اور ہزارہ برادری کے قتل عام کی بنیادی وجوہات

ایک سینئر صحافی دوست سے ایک سنجیدہ سوال جواب (کچھ ایڈیٹنگ کے ساتھ حاضر ہے)
ان کا سوال:
پاکستان میں صرف پاراچنار اور ہزارہ برادری کے شیعہ ہی نشانہ کیوں بنتے ہیں؟ جب کہ ملک کے مختلف حصوں شیعہ بستے ہیں۔
میرا جواب:
پہلی بات تو یہ ہے کہ گذشتہ بم دھماکوں کے واقعات دیکھ لیے جائیں تو ملک کے مختلف حصوں میں شیعہ اجتماعات، آبادیوں حتی ٰکہ مسافروں اور مختلف طبقات حیات سے وابستہ سرکردہ لوگوں کو عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے جس سے آپ صحافی اور اس موضوع پر دسترس رکھنے والے کالم نگار کے طور پر بخوبی آگاہ ہیں۔
تاہم پاراچنار اور ہزارہ برادری کے حالیہ نشانہ وار قتل عام کے متعدد اور مختلف اسباب ہو سکتے ہیں:
پہلی وجہ:
کوئٹہ اور پاراچنار دونوں ایسے علاقوں میں ہیں جہاں سکیورٹی کی صورت حال باقی شہروں سے زیادہ ابتر ہے۔
کوئٹہ اور فاٹا کے علاقوں میں ریاست کے خلاف مسلح جنگ کرنے والے عسکریت پسندوں اور مذہبی دہشت گردوں کا فعال تنظیمی نیٹ ورک موجود رہا ہے بلکہ اب بھی ہے۔
دوسری وجہ:
ان دونوں جگہ شیعہ آبادی متعین و مخصوص جگہوں پر محدود ہونے کے باعث یہ دہشت گردوں کا آسان اہداف ہیں۔
تیسری وجہ:
اتنے قتل عام کے باوجود انہوں نے ریاست کے خلاف ابھی تک اسلحہ نہیں اٹھایا اور اب بھی ریاست سے انصاف اور تحفظ کی بھیک مانگ رہے ہیں۔
چوتھی وجہ:
فرقہ وارانہ بنیادوں پر شیعہ مخالف زہریلی آئیڈیالوجی بھی بنیادی سبب ہے۔
پانچویں وجہ:
پاراچنار کی سرحدی حیثیت کی وجہ سے مقامی و ہمسایہ ملک کے عسکریت پسندوں کے پاکستانی ریاست کے خلاف عزائم میں پاراچنار سب سے بڑی رکاوٹ ہے ورنہ فاٹا کی باقی ایجنسیوں میں پاکستانی فوج اور ریاست کے خلاف جنگ اور اس کے قومی نقصانات سے آپ آگاہ ہیں۔
چھٹی وجہ:
ماضی بعید کے قبائلی و فرقہ وارانہ فسادات کے منفی اثرات کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔ جس میں ماضی کے کسی شخص یا گروہ کے کسی جرم کی سزا تین نسلوں بعد ان کے بے گناہ بچوں کو دی جا رہی ہے۔
ساتویں وجہ:
ہزارہ برادری اور پاراچناریوں کے قتل عام کو قومی سطح پر مسلمہ اقدار کی حیثیت ملنا بھی اس قتل عام کی بنیادی وجہ ہے جس کی سماجی قبولیت کے لیے عدلیہ، صحافت، حکومت، ریاست اور سول سوسائٹی سمیت ہر طبقہ حیات نے اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ آج یہ تمام سو لاشوں پر نوحہ کناں غم خواروں کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

محمد حسین
محمد حسین
محمد حسین، مکالمہ پر یقین رکھ کر امن کی راہ ہموار کرنے میں کوشاں ایک نوجوان ہیں اور اب تک مختلف ممالک میں کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین، اساتذہ اور طلبہ کو امن، مکالمہ، ہم آہنگی اور تعلیم کے موضوعات پر ٹریننگ دے چکے ہیں۔ ایک درجن سے زائد نصابی و تربیتی اور تخلیقی کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کرنے کے علاوہ اندرون و بیرون پاکستان سینکڑوں تربیتی، تعلیمی اور تحقیقی اجلاسوں میں بطور سہولت کار یا مقالہ نگار شرکت کر چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *