مزارات، حکومت اور محکمہ اوقاف

گزشتہ روز کی اطلاعات کے مطابق بلاول شاہ نورانی کے مزار پر بم دھماکہ کے بعد اسے سیل کرکے محکمہ اوقات کے حوالے کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے اور اب اسے زائرین کے لئے رمضان شریف میں کھولا جائے گا۔ کیا محکمہ اوقاف کی سرپرستی میں دینے سے دھماکوں کا سلسہ بند ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر داتا دربار پر دھماکہ کیوں ہوا؟ کیا محکمہ اوقاف کے پاس تربیت یافتہ سیکورٹی سٹاف موجود ہے ؟ عوام کے جان و مال کا تحفظ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت وقت اسکی جوابدہ ہے۔

محکمہ اوقاف بھی حکومتی ادارہ ہے لیکن اسکی کارکردگی دیکھنی ہو تو کسی بھی مزار پر تشریف لے جائیں۔ گذشتہ دنوں بابا فرید گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضری کا موقع ملا۔ جس ذہنی آسودگی کے لئے حاضر ہوئے وہ سکون تو نہ مل سکا بلکہ ذہنی کوفت کے بعد بہت سے سوالات سے جنم لیا۔ باکس لگے ہوئے تھے کہ چندہ صرف اسی میں ڈالیں کسی غیر متعلقہ شخص کو نوازنے سے پرہیز کریں۔ آپ کی محکمہ سے واقفیت ہے تو پروٹوکول کے ساتھ زیارت سے مستفید ہوں۔ لیکن عوام دس فٹ دور ہی فاتحہ کے لئے ہاتھ بلندکریں۔ مرد و خواتین کے لئے کسی طرح کا بھی ایسا کوئی بندوبست نہیں تھا کہ محرم یا نامحرم میں کوئی تفریق کی جا سکے۔ جگہ جگہ فنکار بھکاری مختلف طریقوں سے لوٹنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ بعض دھاگہ، کڑا ہاتھ میں پکڑا کر روحانیت جھاڑتے اور جواباً نذرانہ بٹورنے والے بھی موجود تھے۔لنگر کا بھی بہت ناقص انتظام دیکھنے کو ملا جس کے باعث ایک شریف آدمی دھینگا مشتی کرنے کی بجائے دور سے گزرنے کو ہی ترجیح دے گا۔ مزار میں داخل ہوتے وقت اپنے جوتے جمع کروائیں اور دس روپے کی ادائیگی کریں کیونکہ اس کے ٹھیکے بھی کثیر رقوم کے عوض محکمہ اوقاف نے دیے ہوئے ہیں۔

مزار سے ملحقہ بیت الخلا استعمال کرنے ہوں تو دس روپے کے ہدیہ کے بعد ہی اس سہولت سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے احتجاجاً کہا کہ زائرین سے پیسے بٹورنے کیلئے بس یہی کام رہ گیا تھا ۔ جواب ملا کہ محکمہ اوقاف سے 65 لاکھ کا ٹھیکہ لیا گیا ہے۔ کچھ ہم بھی تو کمائیں گے۔ ہر مزار پر ہدیہ چندہ اور نذرانہ کے علاوہ بیت الخلا کا ٹھیکہ بھی حکومت یا حکومتی ادارہ محکمہ اوقاف کے خزانے میں ہی جمع ہوتا ہے ۔ اب یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ لیٹرینوں کی کمائیوں سے حکومتی خزانے بھرے جائیں گے۔ اگر حکومت حاصل آمدنی کا بیس فیصدبھی زائرین کی فلاح پر خرچ کرے تو سب شکایات کا ازالہ ہو سکتا ہے۔

زائرین سے ہوٹل مافیا ایک دن کا اتنا کرایہ وصول کرتی ہے جتنا پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بھی کسی ہوٹل کا کرایہ نہیں ہوگا۔ محکمہ اوقاف اگر اس مافیا کا ذمہ دار نہیں تو ایسے سرائے تعمیر تو کر سکتی ہے جہاں سستے داموں رہائش میسر ہو۔

جی تو پھر حکومت کو آخر خیال آ ہی گیا کہ ایک اور مزار کو بھی متعلقہ محکمہ کے حوالے کرکے عوام کومزید سہولیات سے بہرہ مند کیا جائے اور فول پروف سیکورٹی مہیا کر کے مزید دھماکوں سے بچا جا سکے۔۔۔

محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *