لو جہاد۔۔۔۔۔عمران حیدر

تھانے کے چکر لگاتے ہوئے چتن بھیل کو آج تیسرا دن تھا
اسکی بیٹی اغواء ہوئی تھی
اسکے جگر کا ٹکڑا لاڈوں پلی سونیا جو ایک دن بھی بابل سے دور نا رہی آج تیسرا دن ہونے کو تھا مگر اسکا کوئی اتا پتا نہیں تھا
سپاہی نے آج بھی ٹرخا دیا کہ گھر جاؤ خود ہی آجائے گی
وہ تھانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا اپنے چادر نما رومال سے پسینہ صاف کر رہا تھا جس میں آنسو بھی شامل تھے
گاؤں سے پیدل شہر آتے آتے اسکا برا حال تھا بھوک اور پیاس کا تو ویسے ہی ہوش نہیں تھا اوپر سے سخت گرمی نے بوڑھے کسان کو نچوڑ کے رکھ دیا
اس نے خشک ہونٹوں سے آسمان کی طرف دیکھا
ہے بھگوان ۔۔۔۔ مگر اس سے آگے کچھ نا کہہ سکا اور اپنی چادر میں منہ چھپا لیا
ایسے ہی ناجانے کتنی دیر بیٹھا رہا کہ پیچھے سے کسی نے آواز دی
اوئے اٹھ یہاں سے ۔ سیڑھیوں میں کیوں بیٹھا ہے؟
آواز سے چونک کر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو بڑے صاحب دو سپاہیوں کے ساتھ کھڑے تھے
اس نے جلدی سے اٹھ کر ہاتھ باندھ لیے
اوئے تو وہی ہے ناں جسکی بیٹی بھاگ گئی ہے۔ ایک سپاہی نے سوال کیا
نہیں  جناب وہ بھاگی نہیں اغواء ہوئی ہے اس نے روہانسی آواز میں کہا۔
اچھا اچھا تمہارا جو بھی مسئلہ ہے یہاں مت بیٹھو میرے کمرے میں آؤ ۔ بڑے صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش کروا دیا
وہ جلدی سے پسینہ پونچھ کر چادر کندھوں پہ ڈال کر انکے پیچھے پیچھے چل دیا
آفس میں پہنچ کر بڑے صاحب نے اسے بیٹھنے کو کہا
اس نے خوفزدہ نظروں سے اپنے ساتھ کھڑے سپاہیوں کو دیکھا اور ایک سپاہی کا اشارہ پا کر کرسی پر بیٹھ گیا
ہاں اب بتاؤ ۔ بڑے صاحب نے بیٹھتے ہی پوچھا
مائی باپ کچھ دن پہلے میری بچی ۔۔۔۔۔۔ ابھی اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ اسکی آواز بھر آئی اور چادر میں چہرہ چھپا کر رونے لگا
پانی پلاؤ اسے ۔۔۔۔ بڑے صاحب نے ایک سپاہی کو حکم دیا
مگر دونوں سپاہی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے
کیا ہوا ؟ میں نے کہا پانی پلاؤ بڑے صاحب نے غصے سے کہا
وہ سر اسکا نام چتن بھیل ہے مٹھن خان کی ہندو بستی سے آیا ہے
ایک سپاہی نے ہلکی سی آواز میں کہا
بڑے صاحب نے حیرت زدہ نظروں سے چتن کی طرف دیکھا
ہاں بھئی یہ رونا دھونا بند کرو اور بتاؤ کیا ہوا تھا۔ ؟ بڑے صاحب نے اسکو مخاطب کیا
چتن بھیل نے چہرہ صاف کرکے چادر اپنی گود میں رکھی اور وقوعہ بتانے لگا
وہ صاحب میری بچی تین دن پہلے گھر سے سلائی کڑھائی کا کام سیکھنے کے لیے گئی مگر گلی کی نکڑ پر تین لوگ اسکو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔
کون لوگ تھے وہ؟ کیا تم جانتے ہو ان لوگوں کو؟ کسی سے دشمنی وغیرہ یا رشتے کا تنازعہ تو نہیں ہے؟ بڑے صاحب نے پوچھا
نہیں سرکار میں تو گھر پہ نہیں تھا مجھے نہیں پتا وہ کون تھے اور غریب کسان کی کسی سے کیا دشمنی ہوگی اور رشتے کا تنازعہ کہاں سے ہوگا ابھی تو اسکی عمر صرف 14 سال ہے ۔ یہ کہتے ہوئے چتن بھیل کی پھر سے آنکھیں بھر آئیں
اچھا تو جب تم گھر پہ ہی نہیں تھے تو کیسے کہہ سکتے ہو وہ اغواء ہوئی ہے؟ یہ بھی ہو سکتا ہے وہ خود ہی کہیں چلی گئی ہو۔
نہیں صاحب وہ تو میرے بنا دو پل نہیں رہ سکتی اسکے جوتے کپڑے سب گھر میں ہیں کچھ بھی غائب نہیں میری بچی تو ابھی بس۔۔۔۔۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ پھر سے رونے لگا
اچھا اچھا رو مت تم ایسا کرو کل آنا میں کچھ کرتا ہوں ۔ بڑے صاحب کے اتنا کہنے کی  دیر تھی کہ ایک سپاہی نے اسے کندھے سے ہلا کر اٹھنے کا اشارہ کیا
وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا اور دونوں سپاہی اسے لیکر باہر نکل آئے
” اوئے جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ دفع ہوجاؤ تو سیڑھیوں پر کیا کر رہے تھے؟ ایک سپاہی نے غصے سے پوچھا
وہ صاحب میں تو بس سانس لینے کے  لیے بیٹھا تھا
اچھا اچھا اب جا اور کل آجانا
سنتری کا حکم سن کر وہ باہر کو چل دیا
پیچھے سے اسے سنتری کی مدھم سی آواز آئی
چوہڑے نے  بزتی کروا دی ہماری
اس نے ان سنی کرتے ہوئے دھوپ سے بچنے کے لیے چادر کو سر پہ رکھا اور گاؤں کی طرف چل دیا۔
۔۔۔
آج چوتھا دن تھا وہ دوبارہ تھانے کے باہر کھڑا تھا
اندر داخل ہوتے ہی اسے ایک سپاہی نے پہچان لیا ۔ ہاں بھئی چتن مبارک ہو تیری بیٹی مل گئی
کیا ۔۔۔۔ خوشی سے اسکا چہرہ کھل اٹھا
کہاں ہے؟
بڑے صاحب کے کمرے میں
وہ دوڑتا ہوا بڑے صاحب کے کمرے کی طرف بڑھا اندر اسکی بیٹی ایک کرسی پر بیٹھی تھی
وہ کانپتی ہوئی ٹانگوں سے اسکو سینے سے لگانے کے لیے لپکا مگر ایک سپاہی نے روک لیا
میری بچی ہے۔۔۔ اس نے اپنی بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سپاہی سے کہا
ہاں ہاں تمہاری ہی بچی ہے مگر پہلے بیٹھو۔۔۔۔
وہ حیرت سے بیٹی کا سپاٹ چہرہ دیکھنے لگا جو اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں  ہوئی تھی اور کرسی پر بیٹھ گیا
دیکھو۔۔۔ تمہاری بیٹی نے اپنی مرضی اور خوشی سے اسلام قبول کرکے اس لڑکے سے شادی کر لی ہے ۔ یہ دیکھو مدرسے اور عدالت کا سرٹیفیکیٹ
کیا؟ چتن بھیل پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔
وہ دیوانوں کی طرح لڑکے اور اپنی بیٹی کو دیکھنے لگا جسکا چہرہ کسی پتھر کی مانند سپاٹ ہو چکا تھا
اس لیے۔۔۔ بڑے صاحب کی دوبارہ آواز گونجی
اب ہم یہ بچی تمہارے حوالے نہیں کر سکتے یہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے
یہ جھوٹ ہے صاحب ۔ چتن نے ہاتھ جوڑ دیے
میری بچی دھرم تو چھوڑ سکتی ہے مجھے نہیں چھوڑ سکتی ہمارے ساتھ یہ ظلم نہ  کریں میں تو جیسے تیسے رہ لوں گا مگر میری بچی میرے بنا نہیں رہ سکتی
بتا ناں سونیا ! اپنے بابل کے ساتھ جائے گی ۔ گھر میں تیری ماں انتظار کر رہی ہے
چل اٹھ میری بچی ۔۔ اس نے اٹھ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام لیا
ساتھ بیٹھے لڑکے نے فورا ً ہی چتن کا ہاتھ جھٹک دیا
اب یہ سونیا نہیں نازیہ ہے خبردار جو دوبارہ اسے اپنا ناپاک ہاتھ لگایا
چوہڑا  ۔۔ پراں ہٹ ۔۔ اس نے دھکا دیکر پیچھے کردیا
چتن نے بیٹی کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں دیکھا جو خلا میں کہیں گھور رہیں تھیں بلکل سپاٹ چہرا اور پتھرائی ہوئی آنکھیں
چتن بھیل نے اردگرد بیٹھے سب لوگوں کی طرف دیکھا کچھ دیر بیٹی کا چہرہ دیکھتا رہا اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا لیے اور واپس چل دیا
مگر اسکی چادر وہیں گر چکی تھی
کچھ دیر بعد سونیا نے سب کی نظروں سے بچتے ہوئے چادر اٹھائی اور اس میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *