رسول اکرمؐ اور شہادت امام علیؑ کی پیشگوئی

رسول اکرمؐ اور شہادت امام علیؑ کی پیشگوئی
ثاقب اکبر
متعدد ایسی روایات شیعہ سنی کتب میں نقل ہوئی ہیں، جن کے مطابق رسول اکرمؐ نے مختلف مقامات پر حضرت علیؑ کی شہادت کی پیش گوئی کی ہے۔ بعض ایسی روایات بھی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی شہادت رمضان شریف میں وقوع پذیر ہوگی۔ روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امام علی کی شہادت اس صورت میں ہوگی کہ آپ کے سر پر ایک شقی تلوار کی ضرب لگائے گا اور اس خون سے ریش مبارک رنگین ہو جائے گی۔ آیئے اس سلسلے میں چند ایک روایات کا مطالعہ کرتے ہیں:
آنحضرتؐ کا ایک نہایت مشہور خطبہ ہے، جسے خطبۂ شعبانیہ کہتے ہیں۔ یہ خطبہ ایک ایسے موقع پر دیا گیا، جب ماہ شعبان ختم ہو رہا تھا اور رمضان المبارک کی آمد آمد تھی۔ آنحضرتؐ نے صحابہ کرامؓ کو آنے والے مہینے کی خصوصیات سے آگاہ فرمایا اور بتایا کہ یہ مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کا پیغام بن کر آرہا ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اللہ کے نزدیک بہترین مہینہ ہے اور اس کے دن دیگر مہینوں کے دنوں سے بہتر اور اس کی راتیں دیگر مہینوں کی راتوں سے افضل ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس مہینے میں اللہ نے بندوں کو اپنا مہمان ہونے کی دعوت دی ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ اس مہینے میں تمھاری سانسیں تسبیح قرار پائیں گی اور تمھاری نیند عبادت بن جائے گی۔ اسی طرح آپؐ نے اس مہینے کی دیگر خصوصیات بیان فرمائیں۔

یہ خطبہ حضرت علیؑ سے بھی منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ کا خطبہ تمام ہوا تو میں کھڑا ہوگیا اور عرض کی: یارسول اللہ! اس مہینے میں بہترین کام کون سا ہے۔؟
آپؐ نے فرمایا: اے ابو الحسن! اس مہینے میں بہترین کام اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنا ہے۔
یہ جملہ ختم کرکے آنحضرتؐ رونے لگے۔
میں نے عرض کی یارسول اللہؐ آپ کے رونے کا سبب کیا ہے۔؟
فرمایا: اے علی! میں اس بات پر رویا ہوں کہ تمھاری حرمت اس مہینے میں ضائع کی جائے گی۔ میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ تم اللہ کے حضور حالت نماز میں ہو کہ اولین و آخرین میں سے ایک بدبحت ترین شخص جو حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کرنے والے قوم ثمود کے شخص کا بھائی ہے، کھڑا ہوگیا ہے اور اس نے تمھارے سر پر ایک ضرب لگائی ہے اور تمھاری ریش تمھارے خون سے رنگین ہوگئی ہے۔
حضرت علیؑ کہتے ہیں، میں نے عرض کی: یارسول اللہؐ! کیا اس حالت میں میرا دین تو سالم ہوگا۔؟
آنحضرتؐ نے فرمایا: ہاں تمھارا دین سالم ہوگا۔
پھر مزید فرمایا: اے علی! جس نے بھی تجھے قتل کیا، اس نے گویا مجھے قتل کیا اور جو بھی تجھے دشمن رکھتا ہے، وہ مجھے دشمن رکھتا ہے اور جو کوئی تجھے برا کہتا ہے، وہ مجھے برا کہتا ہے، کیونکہ تو مجھ سے ہے، تو میری جان کی طرح ہے، تیری روح میری روح سے ہے اور تیری سرشت میری سرشت سے ہے۔(عیون اخبار الرضا،ج۱)

ایک اور روایت کے مطابق جب سورہ عنکبوت کی پہلی دو آیات نازل ہوئیں تو رسول اکرمؐ نے حضرت علی ؑ کو ان کی شہادت کی خبر دی۔ یاد رہے کہ ان آیات میں مومنین کے امتحان کا ذکر کیا گیا ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ جب جنگ احد تمام ہوئی تو حضرت علیؑ نے نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کی: یارسول اللہؐ! کیا آپ نے مجھے بشارت نہیں دی تھی کہ شہادت تیرے انتظار میں ہے۔؟
رسول اللہؐ نے فرمایا: ہاں اسی طرح ہے، مجھے بتاؤ کہ جب ایسا موقع آئے گا ’’فکیف صبرک اذن‘‘(تو تمھارے صبر کی کیا حالت ہوگی؟)
حضرت علیؑ نے عرض کی: شہادت مقام صبر نہیں بلکہ مقام شکر ہے۔(نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۶، بحارالانوار،ج ۴۱)
جابر بن عبداللہ انصاری سے ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے امام علیؑ سے فرمایا تم میرے خلیفہ ہو، تمھیں قتل کر دیا جائے گا اور تمھاری داڑھی تمھارے سر کے خون سے خضاب ہوگی۔(المعجم الکبیر ،ج۲)
ام المومنین حضرت عائشہؓ سے بھی ایک روایت ہے: ’’رایت النبی التزم علیا وقبّلہ‘‘ (میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ علی کوآ غوش میں لئے ہوئے تھے اور ان کا بوسہ لے رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ ’’بابی الوحید الشہید‘‘(میرا باپ شہید تنہا پر فدا ہو)(تاریخ دمشق، ج۴۲)

طبقات ابن سعد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا: اے علی! تمھیں معلوم ہے کہ اولین اور آخرین میں سے سب سے شقی کون ہے۔؟
حضرت علی نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
تب اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: “أشقی الأولین عاقر الناقۃ وأشقی الآخرین الذی یطعنک یا علی، و أشارہ الی حیث یطعن” اولین میں سے سب سے شقی حضرت صالح کی اونٹنی کو کاٹنے والا ہے، جبکہ آخرین میں سے سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے، جو اے علی تمھیں ضرب لگائے گا، یہ کہتے ہوئے آپ ؐ نے ضرب کے مقام کی طرف اشارہ کیا۔ اس حدیث کو محدث البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔(السلسلۃ الصحیحہ، ج۳)
رسول اللہ سے منقول ایسی متعدد روایات ہیں، جن میں آنحضرتؐ نے امیرالمومنین امام علیؑ کے قاتل کو شقی ترین اور بدبخت ترین شخص قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ روایات ہم اوپر درج کرچکے ہیں مزید دیکھیے: اسد الغابہ، ج۴، تاریخ دمشق، ج۴۲۔ السیرۃ النبویہ ابن ہشام، ج۲۔
ان کے علاوہ بھی متعدد کتب میں حضرت علیؑ کے قاتل کے بارے میں اس طرح کے الفاظ آئے ہیں: “أشقی الآخرین ” یعنی آخرین میں سے شقی ترین شخص۔

متعدد محدثین نے ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی الاصابۃ میں ابن ملجم کے بارے میں لکھتے ہیں: و ھو اشقی ھذہ الأمۃ بالنص الثابت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقتل علی بن أبی طالب۔ رسول اللہؐ سے ثابت شدہ نص کے مطابق حضرت علی ابن ابی طالب کے قتل کی وجہ سے ابن ملجم اس امت کا شقی ترین اور بدبخت ترین شخص ہے۔ ان روایات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضرتؐ کو حضرت علی سے بے پناہ محبت تھی۔ یہاں تک کہ آپؐ ان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے گریہ فرماتے تھے۔ ظاہر ہے کہ امام علیؑ کی شہادت کے بعد اس دل فگار سانحہ کو یاد کرکے آنسو بہانا آنحضرتؐ ہی کی سنت ہے اور اسلامی فطرت کا تقاضا ہے۔
مندرجہ بالا روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت علیؑ خود بھی راہ خدا میں اپنی شہادت کے مشتاق تھے۔ یہ بات بہت ایمان افروز ہے کہ جب رسول اکرمؐ نے خطبۂ شعبانیہ ارشاد فرما کر امام علیؑ کی شہادت کی خبر دی تو آپؐ نے فقط یہ پوچھا کہ کیا اس وقت میرا ایمان تو سالم ہوگا تو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ تمھارا دین اور ایمان سالم ہوگا۔ حضرت علیؑ کا ابن ملجم کی ضرب کے بعد یہ کہنا (فزت و رب الکعبہ) یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا، بعید نہیں کہ اسی پیشگوئی کے پس منظر میں ہو۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *