25 جولائی کو انتخابات ہونے دیں۔۔۔۔ثاقب اکبر

ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم، ان کی بیٹی اور داماد کو سزا سنائے جانے کے بعد جو خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ پاکستان میں عوام اس کے خلاف احتجاج کریں گے، وہ تو ٹل گیا اور اس کے ٹلنے میں مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی حکمت عملی کو بہت عمل دخل ہے۔ انہوں نے اس فیصلے میں اپنے ردعمل میں کہا کہ عوام اور پاکستان مسلم لیگ نون اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس پر اپنا احتجاج انتخابی اجتماعات اور ریلیوں میں کریں گے۔ یعنی انہوں نے احتجاج کی عمومی کال نہیں دی۔ دوسری طرف میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی جن کی سیاسی حکمت عملی شروع سے ہی مختلف رہی ہے، ان کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ اب جبکہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ 13 جولائی بروز جمعہ لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے، تو دیکھنا یہ ہے کہ اس موقع پر وہ کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے عوام کو عمومی طور پر احتجاج کی کال دی اور نون لیگ کے تمام ٹکٹ ہولڈرز کو عوام کو اپنے ہمراہ لے کر ایئرپورٹ پہنچنے کے لئے کہا، جیسا کہ لندن سے اشارے آ رہے ہیں تو صورت حال کوئی اور رخ بھی اختیار کرسکتی ہے۔ بظاہر ابھی تک میاں شہباز شریف کی طرف سے کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، لیکن جب پہلے مریم نواز نے اسلام آباد محاصرے کا اعلان کیا تھا تو ان کے کزن حمزہ شہباز نے عوام سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے کی اپیل کی تھی۔ اگر یہ اپیل بدلے ہوئے پروگرام کے مطابق لاہور کے لئے بھی کی گئی تو پھر اس کے نتائج پر بھی غور کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ حکومت اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک مرتبہ نواز شریف اپنے معاہدے کی مدت پوری ہونے سے پہلے جب اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچے تو سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے طیارے میں انہیں اسلام آباد سے ریاض لے گئے تھے۔ اسی طرح کینیڈا سے تشریف لانے والے ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک مرتبہ لاہور ایئرپورٹ پر اترنے سے روک دیا گیا تھا جبکہ عوام بڑی تعداد میں ان کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ پر پہنچ چکے تھے۔ ان کے طیارے کا رخ اسلام آباد موڑ دیا گیا تھا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ 10 سال کے لئے قید کی سزا پانے والے مجرم سابق وزیراعظم نواز شریف کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور جواباً ان کے بارے میں کیا حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ اگر میاں شہباز شریف کا پہلا ردعمل سامنے رکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلم لیگ نون انتخابات سے پہلے کسی ہنگامہ آرائی میں ملوث ہو جائے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مختلف طرح کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ بظاہر حمزہ شہباز بھی مریم نواز کے طرز عمل کے شاکی رہے ہیں۔ ان کی جارحانہ سیاست کے خلاف وہ میڈیا میں بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرچکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا اب ان کی رائے تبدیل ہوگئی ہے؟ راقم کی رائے تو یہ ہے کہ ان کی رائے تبدیل نہیں ہوئی، اول تو حالات کچھ بدل گئے ہیں، دوسرا عدالتی فیصلے نے ان کی کزن کے ساتھ ان کی رقابت کا سلسلہ فی الحال ختم کر دیا ہے۔ اب مریم نواز ان کی سیاسی رقیب نہیں رہیں، اس لئے اگر ان کا بھرپور استقبال کر بھی جائے تو سیاست مریم نواز کی نہیں بلکہ حمزہ شہباز کی چمکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عوامی استقبال کا حکم لندن سے آیا ہو اور شہباز شریف اور ان کے خاندان کے لئے اس پر عملدرآمد سے کوئی مفر نہ ہو۔
تاہم مسئلہ اتنا بھی سادہ نہیں ہے۔ اگر سیاسی قوتیں دانشمندی سے کام لیں اور غیر سیاسی قوتوں کو مداخلت کا موقع نہ دیں تو انتخابات بروقت ہوسکتے ہیں۔ اس کے لئے میاں شہباز شریف کی حکمت عملی کو ہم خود پی ایم ایل این کے لئے مفید سمجھتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ قوتیں چاہتی ہوں کہ ایسی فضا پیدا ہو جائے کہ پاکستان میں انتخابات غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو جائیں۔ یہ قوتیں بیرونی بھی ہوسکتی ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ احتمال درست نہ ہو تو پھر عوام کے جمع ہو جانے کے باوجود کسی مخمصے سے بچایا جاسکتا ہے اور لاہور ایئرپورٹ پر اترنے والی مطلوب سواریوں کو اسلام آباد منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ جس نے بھی کرنا ہے، اس کے طرز عمل سے پاکستان، اس کے آئین اور جمہوریت کے ساتھ اس کی کمٹمنٹ ظاہر ہوگی۔ علاوہ ازیں کچھ نئے مسائل بھی تیز رفتاری سے سر اٹھا رہے ہیں۔ قبل ازیں نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے یوٹرن لیتے ہوئے انتخابات سے قبل نئی گرفتاریوں کا سلسلہ روکنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ نیب اور دیگر ادارے بعض فیصلوں میں تیزی دکھا رہے ہیں۔ آج (9 جولائی2018ء) کی خبر کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر پیپلز پارٹی کی طرف سے ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے۔ نیز آصف علی زرداری کے قریب سمجھے جانے والے حسین لوائی کی گرفتاری پر بھی تبصروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں منی لانڈرنگ کرنے والے بڑے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ بہرحال اگر احتجاج کے سلسلے سندھ اور پنجاب میں شروع ہوگئے تو اس کا کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس طرح کے فیصلے اور اقدامات نے سیاسی دانش کو نئے امتحان میں ڈال دیا ہے، کیونکہ اس کے بعد اگر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر ردعمل کی شدت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک آئینی طریقے سے پچھلی دونوں حکومتیں اپنے اختتام کو پہنچی ہیں اور آئین کے تقاضوں کے مطابق عبوری حکومت بن چکی ہے اور 25 جولائی کو عام انتخابات کے اعلان کے بعد اس کے مختلف مراحل آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس میں اگر رخنہ آیا تو ملک کے لئے کئی طرح کے نقصانات کا احتمال ہوسکتا ہے۔ اولاً پاکستان کا ماضی گواہ ہے کہ جب آئینی سلسلے ٹوٹ جاتے ہیں تو پھر ان کے جڑنے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر طرح طرح کے دباﺅ کا شکار ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کر دیا ہے اور بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے خطرات موجود ہیں۔ پاکستان کو آئی ایم ایف اور دوسرے اداروں کے بھاری قرضوں کی قسط جلد واپس کرنا ہے۔ داخلی طور پر پاکستان کی کرنسی جس تیز رفتاری سے نیچے کی طرف آئی ہے، اس سے قرضوں کے بوجھ اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے دیگر مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ اگر کوئی منتخب حکومت نئے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ سامنے نہیں آتی تو ان مسائل کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے ہم تمام متعلقہ جماعتوں اور اداروں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ 25 جولائی کو انتخابات ہونے دیں اور کسی جذباتی کیفیت اور ہیجان سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔ پاکستان سے محبت کا یہی تقاضا ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *