آخری منظر۔ مریم مجید

پہلا منظر۔
“جوان بیٹی کو  گھربٹھانے کا مطلب؟ بارود کے ڈھیر کو سلگتے انگاروں کی انگیٹھی پر رکھ دینا! بر تلاش کرو اور امانت حقدار کے حوالے کرو جلد از جلد!”۔

دوسرا منظر-
“وہ نہیں مانتی! کہتی ہے اسے ابھی مزید پڑھنا ہے۔ اپنے خواب پورے کرنے ہیں”۔

تیسرا منظر۔
نوچے ہوئے بالوں، نیل زدہ بدن اور مر چکی آنکھوں کے ساتھ ایک زندہ لاش نیم اندھیرے کمرے میں موم بتی کے شعلے کی مدد سے اپنی تعلیمی اسناد جلا رہی ہے۔ انگلیوں کی کھال جلنے کی مدھم بو میں روشنائی کی مہک بھی محسوس ہوتی ہے۔

چوتھا منظر۔
” بیٹی!! مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں،قبول کرو(یعنی صرف قبول کا راستہ ہی تمہارے لئیے کھلا ہے)۔
سرخ کامدار کفن والی لاش نے قبول کیا ۔مگر جانے کیوں؟ قلم سے دستخط کرنے کے بجائے انگوٹھا سیاہ کر کے نشان شکست نکاح فارم پر ثبت کر دیا(وہ اب کبھی بھی قلم نہیں تھامے گی، یہی طے ہوا تھا)۔

پانچواں منظر۔
“خدا جانے کس جرم کی سزا میں میرے پلے باندھ دی گئی ہو۔ ساکت ،جامد، مردہ عورت”!!(بستر پر لاش اور کفن الگ الگ بکھرے ہوئے ہیں)

چھٹامنظر-
“اے کمبخت! انوکھا بچہ پیدا کرنے چلی ہے؟ ہم نے بھی یہ وقت دیکھ رکھا ہے۔ ہونہہ! ہر وقت چکر اور متلی کے بہانے بستر پر پڑی اینڈتی ہے منحوس ماری! “(لاش کے پھولے ہوئے پیٹ میں ایک اور لاش ہاتھ پیر چلاتی ہے)

ساتواں منظر۔
“سات نسلوں سے ہمارے خانوادے میں پہلوٹھی کا بیٹا ہوتا ہے۔ اور اس کمبخت نے پہلی ہی بدشگونی کر دی؟؟ دیکھ لیجیو!! تسبیح کے ٹوٹے دانوں کی مانند اب  ایک کے بعد ایک ، لڑکیاں ہی لڑکیاں دے گی۔ منحوس!”(لاش کے پیٹ سے نکلنے والی لاش ہاتھ پاوں چلاتے رو رہی ہے)
آٹھواں منظر۔
” تین سال !! اور تین لڑکیاں؟ اب اور نہیں!! میں دوسری شادی کر رہا ہوں۔ (لاشیں سہم کر اس کی ٹانگوں سے لپٹی ہیں اور پیروں کے قریب ایک بیگ رکھا ہے۔ ہاتھوں میں سفید کاغذ پر سیاہی سے تحریر مقدر ہے”
آخری منظر۔
“ارے ہائے ظالمو!! خدا پوچھے ۔ میری بچی کا یہ حال کرنے والو۔۔
بیٹی! تو فکر مت کر! تیرے باپ کا گھر تیرے لئیے موجود ہے۔ یہاں سے تجھے بے دخل کرنے کی جرات کوئی نہیں کر سکتا”!
لاش زہر خند ہوئی” میری بے دخلی اور سیاہ قسمتی کا آغاز اسی گھر سے ہوا تھا”۔
اس نے تینوں چھوٹی لاشوں کے ساتھ اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا۔
اگلے دن کے اخبار میں آخری صفحے پر ایک چھوٹی سی خبر لگی تھی۔
“گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر ایک عورت نے تین بچیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد خود کشی کر لی۔”

پس منظر۔
اس نیم اندھیرے کمرے میں اب جلے کاغذ کی بو، سرخ کفن کی گوٹا کناری اور نوچے ہوئے بالوں کے ساتھ چار روحیں بھی رہتی ہیں۔ جن کے نیلگوں منہ اور پھٹی ہوئی زبانوں سے جھاگ بہتی رہتی ہے۔۔۔۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آخری منظر۔ مریم مجید

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *