ایک غیر سیاسی طلسماتی کہانی۔۔۔عبدالرحمن قدیر

آج سے پوری دس صدیاں قبل۔۔۔ چاند، سورج، اور زمین بالکل متوازی آگئے تھے۔ سورج کے طوفان براہ راست جب چاند پر پڑنے لگے تو چودھویں کا چاند خون کی طرح سرخ ہو چکا تھا۔ تمام چرند پرند۔۔۔ انسان حیوان، ڈر کے مارے اپنے اپنے مسکن میں چھپ کر ڈرے سہمے بیٹھے تھے۔ ہر ایک کو لگ رہا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ مگر ایسی حالت سے بہتر کیا ہو سکتا تھا جادو کے عمل کے لیے؟

اسی طرح ایک مکروہ صورت جادوگرنی نے بہترین موقع پا کراپنے سنگین حد تک مکروہ ارادوں کو سرانجام دینے کی کوشش کی۔ یعنی کہ دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنے کی۔ ابھی وہ اپنا منتر پڑھ ہی رہی تھی کہ سورج اور چاند کے ملنے سے سمندر میں اٹھنے والی فلک شگاف لہروں نے بجلی کی وہ کڑک پیدا کی کہ جو بھی کھلی فضاء میں تھا، وہیں کا وہیں ڈھیر ہو گیا۔ جادوگرنی مر گئی مگر جادو کا اثر ہو چکا تھا۔ سب سے پہلے نکلنے والے چند جانور اس سے متاثر ہو گئے۔ ان جانوروں میں ایک بھیڑیا اور ایک چمگادڑ شامل تھے۔۔

پھر یہ ہوا کہ جس انسان کو بھی اس چمگادڑ نے کاٹا، وہ رات کا راہی بن گیا۔ اس قسم کے انسان سورج کی روشنی سے پاگل پن کی حد تک ڈرنے لگے۔ خون کی اشد پیاس اور تاریکی کی بے حد محبت میں گرفتار ہوگئے۔ ہاں کچھ فائدہ بھی ہوا انہیں، کہ انکے زخم لمحوں میں بھر جاتے تھے۔ مگر یہ دنیا سے کٹ گئے۔ اور آج بھی صرف جنگلوں اور بیابانوں میں رہتے ہیں۔

کچھ لوگوں کو اسی جادو سے متاثرہ بھیڑیے نے کاٹا اور پھر وہ بذاتِ خود ہر چودھویں کے چاند کی رات بن مانس نما بھیڑیے بن جاتے، اور جو نظر میں آتا چیر پھاڑ کر رکھ دیتے۔

مگر ان جانوروں میں صرف ایک بھیڑیا اور ایک چمگادڑ ہی نہیں، بلکہ ایک کوا اور ایک گدھا بھی شامل تھے۔

جنہیں   کوے نے کاٹا وہ بے تحاشا اور بے لحاظ بولنے لگ جاتے۔ اسی طرح جب ایسا انسان کسی اور کو کاٹ لے تو وہ بھی ویسے ہی بن جاتا ہے، بالکل ویمپائر اور وقتی بھیڑیے کی طرح۔ پھر انہیں شاید کسی کی دعا یا بد دعا لگی، کہ اب وہ جہاں بھی اکٹھے نظر آئیں دھمال ڈالتے، گانوں پر ناچتے نظر آتے ہیں۔ انقلاب کی باتیں کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ دنیا نئی بنائیں گے۔ اور ہر شخص کو “ویئر کوّا” بنا کر ہی چھوڑیں گے۔ اوپر سے وہ کوّا بھی “چٹّا” تھا. ویمپائرز اور ویئر وولوز کے برعکس یہ صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔۔

جن کو گدھے نے کاٹا، ان کی تو عقل بالکل ہی ماؤف ہو گئی۔ کچھ روایات کے مطابق اس مخلوق کی تخلیق گدھے کا گوشت کھانے کے باعث ہوئی۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ انہیں ایک ہزار سال عمر کے گدھے نے کاٹا تھا۔ اور اب یہ عام انسان نہیں بلکہ ایک طلسماتی مخلوق ہیں۔ ورنہ انہیں کیسے پتہ چلتا کہ دنیا میں خلائی مخلوق بھی موجود ہے۔ ابھی چند روز پہلے ہی اقتدار میں تھے۔ ان کے آثار پاکستان کے علاوہ قطر میں بھی نظر آئے ہیں۔

لیکن اب دنیا مکمل طور پر کشمکش میں ہے۔ کیونکہ ویمپائرز اور ویئر وولوز کی طرح، “ویئر کوّا” اور “ویئرکھوتا” بھی ہمیشہ ایک دوسرے کے جنگی حریف ہی ہیں۔ انسان اقتدار میں نہیں آ سکتے۔ اب انسانوں کو ان دونوں مخلوقات میں سے کس کی غلامی نصیب ہوتی ہے، یہ ایک معمّہ ہے۔ جاننے کے لیے دیکھتے رہیے۔۔۔ سٹار مائنس۔

عبدالرحمن قدیر
عبدالرحمن قدیر
ایک خلائی لکھاری جس کی مصروفیات میں بلاوجہ سیارہ زمین کے چکر لگانا، بے معنی چیزیں اکٹھی کرنا، اور خاص طور پر وقت ضائع کرنا شامل ہے۔ اور کبھی فرصت کے لمحات میں لکھنا، پڑھنا اور تصویروگرافی بھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *