ایک کہانی یونیورسٹی سے۔۔۔ارسلان صادق

شیلف پر قدم جمائے ایک کپ پچھلے چھ منٹ سے مریم کو گھور رہا تھا۔ وہ انتظار میں تھا کہ کب گرما گرم کھولتا ہوا پانی اس کے تن کو اندر سے بھگوئے تاکہ اس جاڑے کی بڑھتی ہوئی سردی میں کچھ راحت کے لمحات میسر آئیں۔ مگر ایمان ہے کہ مسلسل بند کھڑکی کو دیکھ کر سوچ میں گم ہے کہ جب سے  احمر کو بتایا ہے۔۔ میں امید سے ہوں تو اس کا رویہ کتنا بدل گیا ہے؟ میں تو اس کے کہنے پر چھٹیوں میں گھر بھی نہیں گئی ۔ مختلف خیالات سوچتے ہوئے اس کے چہرے پر پریشان کن تاثرات تھے لیکن اس کے چہرے پر کاسمیٹکس ہونے کے باوجود  قدرتی حسن  زیادہ نمایاں تھا۔ اور ہاں اس کی بڑی بڑی آنکھیں ایسی تھیں جیسے فلک کسی جھیل میں اتر آیا ہو۔ وہ الیکٹریکل کیتل میں رکھے پانی سے بے خبر کھڑی تھی کہ اچانک الیکٹریکل کیتل سے اٹھتی بھاپ نے اس کو کپ کی طرف متوجہ کر دیا۔ اس نے پانی کپ میں انڈیلنا شروع کر دیا۔ خشک دودھ کا پیکٹ کھول کر کپ میں گھولا اور پھر ٹی بیگ کپ میں ڈال کر چمچ سے ہلاتی ہوئی واپس کمرے میں چلی گئی۔ سردی کی شدت سے بچنے کے لیے اس نے سرخ شال اپنے گرد لپیٹی ہوئی تھی جو اس کو پچھلی سردیوں  میں احمد نے بطور تحفہ دی تھی۔ وہ شال کا ایک پلو ہاتھ میں لیے ڈیزائن پر غور کرنے لگی اور ان دنوں کو یاد کرنے لگی جب وہ نئی نئی یونیورسٹی آئی تھی۔ پھر کیسے احمر کے ساتھ دوستی ہوگئی جو چند ہفتوں میں محبت میں بدل گئی؟ وہ یاد کرنے لگی کہ کس طرح وہ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں بیٹھےتھے کہ احمر نے اسے سیدھا شادی کے لیے پرپوز کر دیا؟ اس وقت سندس اور عائشہ بھی اس کے ساتھ ہوتی تھیں۔ پھراس کو وہ لمحات بھی یاد آئے جب سندس سے آخری بار لڑائی ہوئی جس کی وجہ احمر کے بارے میں خدشات تھے جو مریم کو بالکل پسند نہ آئے اور دونوں سہیلیوں میں تکرار پیدا ہوگئی۔ بچپن میں ایک سکول ایک کالج اور پھر ایک ساتھ ہی یونیورسٹی آنے والی لڑکیاں اب ایک دوسرے کو دیکھ کر راستہ بدلنے لگی تھیں۔ ابھی وہ ان خیالوں میں گم ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی؟ مریم نے دروازہ کھولا تو باہر احمر تھا جس کے منہ سے سردی کے باعث سانس کے ساتھ نکلنے والا دھواں کہیں ہوا میں گم ہو رہا تھا۔ احمر نظر انداز کرنے والے انداز میں سر جھٹکتے اور منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئےفلیٹ میں داخل ہوا اور کمرے میں چلا گیا۔ اس نے اپنے جوگر اتارے اور رضائی سیدھی کر کے لیٹ گیا۔ مریم خاموشی سے  بیڈ کے قریب ایک طرف بیٹھ گئی اور بولی احمر تم نے کھانا کھایا؟ احمر نے کوئی جواب نہ دیا اور موبائل میں مصروف ہو گیا۔ مریم پھر آرام سے بولی احمر خیریت تو ہے نا؟ مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی کیا؟ جو آپ میری بات کا جواب دینا بھی پسند نہیں کر رہے۔ احمر نے اکتائے ہوئے انداز میں حقارت سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ مریم آہستہ آہستہ احمر کے اور قریب آگئی اور التجائی لہجے میں بولی بتاؤ نا یار کیا بات ہے؟ تم ناراض کس بات پر ہو؟ اس کی آنکھوں میں تھما آنسوؤں کا سمندر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ دفع ہو جاؤ میرے پاس سے۔ میں تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ نکل جاؤ یہاں سے۔ مجھے تمہاری شکل نہیں دیکھنی۔ احمرغصے میں ایمان کو دھکا مارتے ہوئے بولا! مریم نے خود کو گرنے سے تو بچا لیا مگر وہ احمر کے لہجے میں خود کو اس قدر گرا ہوا دیکھ کر رک نہ سکی کہ دو سال پہلے مجھے ساری زندگی خوش رکھنے کا وعدہ کرنے والا آج میری شکل سے بھی نفرت کرنے لگا ہے۔ وہ اپنی خوبصورت آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے بھاگی لیکن کمرے کے باہر چند قدموں پر اپنا توازن برقرار نہ  رکھنے کی وجہ سے گر پڑی اور بے ہوش ہو گئی۔

احمراس سب سے بے خبر رضائی میں لیٹا موبائل استعمال کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد جب مریم کی آنکھ کھلی تو کمرے سے کچھ اس طرح کی آوازیں آرہی تھی؟ یار تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اس جیسی کو اپنی بیوی بناؤں گا۔ مجھے تو بس ایک نوکرانی چاہیے تھی جو یہاں فلیٹ میں میرے کام بھی کرے اور ایسی سردی میں مزے بھی کروائے۔ او ہوں تجھے بتایا تو تھا یار وہ نکاح وغیرہ سب ڈرامہ تھا اور ویسے بھی میں کسی شریف لڑکی سے شادی کروں گا اور اس جیسی کا کیا بھروسہ جو اپنے ماں باپ کو دھوکا دے سکتی ہے وہ کیا مجھے نہیں دے سکتی۔ مجھے تو یار یہ بھی شک ہے کہ اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ میرا ہے بھی یا نہیں؟ کیا پتہ میری غیر موجودگی میں کہیں اور بھی منہ کالا کرتی ہو اور ساتھ ہی ایک قہقہہ  کمرے میں بلند ہوا۔ یار تم بس صبح ڈاکٹر کا پتہ کرو۔ اس کا ابورشن کرواتے ہیں اور پھر اسے فارغ کرتے ہیں۔ میں اب اس کے مزے لے لے کر بور ہو گیا ہوں۔ دونوں بھائی اب کوئی نیا شکار کرتے ہیں۔ کچھ وقت کی خاموشی کے بعد پھر احمر بولا۔۔ٹھیک ہے یار تمھارا حصہ بھی رکھ لوں گا تم بس کل والا کام کروا دو پھر دو تین ہفتے اس کے مزے لوں گا اور اس کی ویڈیو بنا کر اس کو بھگا دوں گا۔ اس کے بعد تم بلیک میل کر کے مزے لیتے رہنا۔ پھر کمرے میں کچھ سیکنڈ کے لیے خاموشی چھا گئی اور آواز آئی ٹھیک ہے میں اب فون رکھتا ہوں صبح لے آؤں گا ابھی وہ دوسرے کمرے میں سو رہی ہے۔ مریم کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کتنا بڑا دھوکا کھا چکی ہے۔ وہ اپنے کمرے میں گئی اور ساری رات دیوار سے ٹیک لگا کر روتی رہی اور اس دن کو کوستی رہی کہ جب سندس نے اس کو احمر کے ساتھ فلیٹ پر رہنے سے منع کیا تھا مگر مریم نے یہ کہہ کر منہ بند کروا دیا کہ میری زندگی ہے میں جو مرضی کروں اور پھر اس کو ہر ہر وہ غلطی یاد آئی جب اس نے مشہور کپل بن کر بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کی حیثیت سے یونیورسٹی میں پھرنا شروع کیا تھا اور اپنے ماں باپ اور بھائی کی عزت کو بے آبرو کیا۔ وہ نیم پاگل حالت میں خود کے بال نوچ رہی تھی اور اپنی ہر ہر خطا پر نوحہ گر تھی کہ کیسے میں اس وحشی درندے کی باتوں میں آ گئی اور اس کے ساتھ گھر والوں سے چوری نکاح کر لیا۔ وہ مریم جس نے کبھی گھر میں گلاس تک نہ اٹھایا تھا وہ اویس کے فلیٹ کی صفائی بھی کرتی اور اس کے دوستوں کو چائے وغیرہ بھی بنا کر پلاتی۔

اگلے روز جب احمر صبح کلاسزز لے کر واپس آیا تو مریم نے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔ احمر آج خوشگوار موڈ میں لگ رہا تھا جیسے کسی بڑے مسئلے کا حل نکل آیا ہو۔ اس نے مریم کو زور سے گلے سے لگا لیا اور ہونٹوں سے چومنا شروع کر دیا۔ وہ بولا سوری یار میں نے تجھے بڑا ناراض کیا۔ لیکن آج سارا حساب برابر کردوں گا۔ احمر نے یہ کہہ کر اپنی شرٹ اتاری اور بیڈ پر لیٹا ہی تھا کہ مریم نے قینچی قریبی میز سے اٹھائی  اور پوری قوت کے ساتھ گلے سے آر پار کر دی جس سے خون کی ایک پھوار احمرکے چہرے پر گری مگر مریم نے یکے بعد دیگرے قینچی کے تین چار وار کیے اور احمر چند منٹوں میں ہی تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ مریم کی حالت غیر ہو چکی تھی۔ احمر کے خون کے چھینٹے اس کے چہرے کو مزید وحشت زدہ کر رہے تھے۔ وہ خود سے باتیں کر رہی تھی اور  بار بار سر پیٹ رہی تھی اور اونچی آواز میں چیخ رہی تھی۔ وہ جان چکی تھی کہ جو غلطیاں وہ کر چکی ہے اس کو کبھی سدھار نہیں سکے گی اور شاید نہ ہی وہ اب ایسا کرنا چاہتی تھی۔ اس کے کانپتے ہونٹوں پر ایک ہی بات تھی کہ اچھا ہوا میرے ساتھ، میں اسی کے   قابل تھی۔ وہ اٹھی اور لڑکھڑاتے قدموں سے چھت کی طرف چل پڑی اور آخری بار آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے نیچے گلی میں چھلانگ لگا دی۔

ارسلان صادق
ارسلان صادق
میرا نام ارسلان صادق ہے۔ میں جڑانوالہ فیصل آباد کا رہائشی ہوں۔ میں گونمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ کانون کا طالب علم ہوں۔ لکھنا میرا شوق ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *