مائیٹوکانڈریا، کینسر اور لبرل ازم

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق 14.6 فیصد انسانی اموات کا سبب “کینسر”ہے. جبکہ 175000 کینسر کے ایسے مریض ہیں جنکی عمریں پندرہ سال سے کم ہیں۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کینسر کے مرض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔عالمی سطح پر سالانہ کینسر کے مریض اپنے علاج پہ 1.19 ٹریلین امریکی ڈالر خرچ کرتے ہیں. (1)
جبکہ ایکسپریس ٹریبون کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ تین سالوں میں 270,000 افراد کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن 62 ممالک میں شامل ہے جہاں سابقہ بیس سالوں میں کینسر کے مرض کی شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔(2) یونیورسٹی آف واشنگٹن نے کینسر کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے پاکستان میں ایک واضح قومی حکمت عملی کی ہنگامی بنیادوں پر سفارش کی ہے.
گذشتہ بیس سالوں میں پاکستان میں مردانہ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں دوگنا جبکہ زنانہ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے. ڈاکٹر کرسٹینا فرٹزمورس کے مطابق کینسر پاکستان میں اور دنیا بھر کے لوگوں کی صحت کے لئے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں غیرمتعدی امراض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے. لیکن پاکستان میں کینسر سے نمٹنے کیلئے اداروں کی تعداد انگلیوں پہ گنی جا سکتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اگلے بیس سالوں میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں 70 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر کینسر کے 70 فیصد مریضوں کا تعلق افریقہ، ایشیا اور وسطی و جنوبی امریکہ سے ہے۔انسانی خلیے ایک سے دو اور دو سے چار میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی خلیوں کی موت کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ انسانی خلیوں کی ایک اکائی جسے “مائیٹوکانڈریا”کہا جاتا ہے کو خلیے کا پاور ہاؤس بھی کہتے ہیں. یہ انسانی خلیے کو تقسیم کرنے کیلئے توانائی پیدا کرتا ہے. مائیٹوکانڈریا توانائی دے گا تو انسانی خلیہ تقسیم ہو گا، اور اگر مائیٹوکانڈریا توانائی نہیں دے گا تو خلیہ تقسیم نہیں ہو گا. لیکن اگر کسی وجہ سے یہ ضرورت سے زیادہ توانائی دے گا تو نئے انسانی خلیے ضرورت سے زائد بننا شروع ہو جائیں گے۔ ضرورت سے زائد انہی انسانی خلیوں کا اجتماع کینسر کا سبب بن سکتا ہے.(3)

2007ء میں کینسر کے علاج کی تحقیقات میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہوئی، مگر اکثریتی دنیا اُس پیش رفت سے واقف نہیں ہے. کیوں؟ کیونکہ آزاد منڈی کی معیشت کو ایسی تحقیقات سے شدید نفرت ہے. جب ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آزاد منڈی کی معیشت اور نجی ملکیت کا فلسفہ ہی ترقی کا ضامن ہے تو ہم مارکس وادی چیخ اٹھتے ہیں کہ سرمایہ داری کے یہ لبرل دانشور جھوٹ بول رہے ہیں۔ جملہ حقوق اور نجی ملکیت ہی آج انسانی ترقی، سائنسی ترقی، طب کی ترقی و ترویج، علاج معالجے کے میدان میں تحقیقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں.

2007ء میں یونیورسٹی آف البرٹا میں طب خصوصاً کینسر کے علاج کی تحقیق میں مصروف کچھ ماہرین نے بتایا کہ ایک واحد اور اکلوتا مالیکیول DCA کینسر کے خلیوں میں مائیٹوکانڈریا کو دوبارہ درست اور نارمل حالت میں سرگرم کر سکتا ہے. اُن محققین نے ثابت کیا کہ DCA کینسر کی بیشتر قسموں کے خلاف موثر وکارگر ہے. لہذا کینسر کا مکمل اور ایک بار ہی میں علاج ممکن ہو سکتا ہے.
لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے تحت منافع کی ہوس اور مقابلے بازی کی نفسیات کو نجی ملکیت کی آزادی نے محفوظ راستہ دیا ہوا ہے. دوا سازی ایک صنعت کا روپ دھار چکی ہے، جو اب سرمایہ داروں کے پاگل پن کی وجہ سے ایک مافیا بن چکی ہے۔اِس صنعت کے دل و دماغ میں ایسے مریضوں کا علاج کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے جو اُن کی پہلے سے بھری ہوئی تجوریوں کو مزید بھرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام میں دوا ساز صنعت کیلئے مریض ایک بیمار جسم کی بجائے ایک خریدار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ دوا ساز سرمایہ داروں کو وہ مریض پسند ہے جو اُن کی مہنگی ترین ادویات ساری زندگی تادمِ مرگ خریدتا رہے۔ دوا ساز سرمایہ داروں کو ایسی تحقیقات سے شدید نفرت ہے جو کینسر جیسے منافع بخش مرض کا مکمل ایک بار علاج ممکن بنا دیں۔
جب یونیورسٹی آف البرٹا کہ محققین نے DCA کو کلینیکل سطح پر سمجھنے، پرکھنے اور بروئے کار لانے کیلئے فنڈز کی مانگ کی تو کوئی سرکاری و غیرسرکاری ادارہ اُن کو فنڈ دینے کیلئے تیار نہیں ہوا۔ بلکہ اُن محققین کی تحقیق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اُن کو یہاں تک کہا گیا کہ اگر اُن کو ایسی غیرمنافع بخش تحقیقات کا بہت شوق ہے تو فنڈ بھی خود پیدا کر لیں۔
آج سائنسی ترقی اور تحقیق اِس مقام پر ہے کہ کینسر جیسے امراض کا مکمل اور شافی علاج ممکن ہے، مگر مسئلہ منافع اور شرح منافع کا ہے جس کے تحت مالیاتی ترجیحات کا تعین ہوتا ہے۔ سرمایہ داری کے انسان دشمن نظام میں جہاں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں ستر فیصد اضافے کا خطرہ موجود ہے، اگر یہ خطرہ سات سو فیصد بھی ہو جائے، حکمران اشرافیہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگے گی، کیونکہ یہ اشرافیہ طبقہ یا تو خود سرمایہ دار ہیں یا پھر سرمایہ داروں کے لائے ہوئے مہرے ہیں. سرمایہ داری کے کینسر کا واحد حل منصوبہ بند معیشت یعنی سوشلسٹ نظامِ معیشت کا قیام ہے۔

Reference:
1. World Cancer Report 2014. World Health Organization. 2014.
2. ‘The Global Burden of Cancer 2013’, published in the Journal of the American Medical Association (JAMMA) on May 28, 2013.
3. Wei-Xing Zong, Joshua D. Rabinowitz, Eileen White (http://dx.doi.org/10.1016/j.molcel.2016.02.011)

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *