اقوال زریں جدید اور پشتو کا برا لفظ

ڈائجسٹ کے صفحے پلٹتے ہوئے، یا میگزین کی ورق گردانی کرتے ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹے حاشیوں میں اقوال زریں لکھے ہوتے ہیں۔ یہ ایک خوشگوار وقفے کا کام کرتے تھے۔ کہانی یا مضمون مکمل ہونے کے بعد صفحہ پر بچنے والی اس جگہ کے کئی وارث ہوتے۔ کہیں اپنی ذہانت سے خیرہ کرتا آسکر وائلڈ نظر آتا تو کسی خانے میں شیکسپئیرکا چراغاں ہوتا۔کسی ڈبے کو منٹو اپنے چست فقرے سے گول کرتا تو کہیں کوئی اردو شعر ازلی تکون کا رونا روتا۔ چرچل کی حاضر جوابی ہوتی یا بیربل کے آگے اکبر کی لاجوابی۔ جگہ زیادہ ہوتی تو مرزا فرحت اللہ بیگ سے مستعار لی گئی کوئی ادبی پھلجڑی چھوٹتی۔گنجائش کم ہوتی تو’ہمیشہ وقت کی پابندی کریں‘ یا ایسی ہی کوئی نصیحت ۔ حکمت بھرے کنفیوشس سے لے کر کنفیوز کرتے شعر تک، اس بکھری ہوئی کہکشاں کا مواد کچھ بھی ہویہ پڑھنے کی روانی کو متاثر نہیں کرتی تھی۔ بالکل جیسے لذیذ پکوان کھانے کے بیچ ٹھنڈے پانی کا گھونٹ ۔
زمانے کی ترقی کے ساتھ جہاں دیگر تبدیلیاں آئیں، وہیں الیکٹرانک رجحان بڑھا۔ میگزین،ناول، کتاب، یا ڈائجسٹ کی جگہ ٹیلی ویژن، موبائل فون اور سوشل میڈیا لیتاگیا۔ نہ صرف مطالعہ کا وقت کم ہوتا گیا، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مطالعہ کا یہ تبرک جیسا حاصل، یعنی یہ لطف و دانائی بھرے فقرے بھی کم ہوتے گئے۔ مرحوم مختار مسعود نے قحط الرجال سے متعلق فرمایا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ آزادی کے بعد اس قوم نے صرف تاجر پیدا کیے ہیں۔ سچ بتائیے، اردو کے آخری ’اقوال زریں‘ کب پیدا ہوئے تھے؟ کچھ ایسا ہی احوال ،ایک معاصر ویب سائٹ پر وسعت اللہ خان نے انٹرویو میں بتایا کہ اردو کے آخری قابل ذکر لکھاریوں کی کھیپ آج سے کم از کم نصف صدی قبل نمودار ہوئی۔ ان ادیبوں کے جانے کے بعد جو کچھ تخلیق ہوا، اس میں زیادہ تر کے لیے پشتو میں بہت برا لفظ ہے (لسانیات کے لیے متجسس حضرات اپنے رسک پر یوسفی صاحب کے کابلی والا سے رابطہ کر سکتے ہیں)۔
اقوالِ زریں کی دنیا میں ایک trendکسی مشکوک شعر یا بات کو کسی بڑے نام سے منسوب کرنا بھی ہے۔ مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے کلامِ پاک پڑھ کر بخشنا تو سنا تھا لیکن یہاں مرحومین کو اشعار اور اقوال بھی بخشے جاتے ہیں۔کہیں پڑھا تھا کہ اگر ریلوے سٹیشن کے اطراف میں دیواروں پر لکھے اشتہارات دیکھ کر اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے سب سے بڑے مسائل کا حل یا تو عامل بابوں کے چِلے میں ہے یا پھر ’خاندانی حکیموں‘ کے نسخوں میں۔ یہ ’بخشے ہوئے جدید اقوالِ زریں‘ بتاتے ہیں کہ ہمارے دیرینہ مسائل میں سے اولین تو عشق ہے۔ اس کے بعد نمبر روحانیت کا آتا ہے۔ ان دونوں میدانوں (یعنی عشق اور روحانیت) کے دو بڑے نام احمد فراز اور اشفاق احمد صاحب ہیں اور سب سے زیادہ کلام انہی مرحومین کو’ بخشا‘ گیا ہے۔ آپ فیس بک پر اشفاق صاحب کے نام سے شیئر ہونے والے quotes دیکھ لیں یا احمد فراز کو Google کر کے دیکھ لیں۔نتائج میں ملنے والے زیادہ تر اقوال اور اشعار آپ حضرات کے مطبوعہ کلام میں کم ہی ملیں گے۔ مشتاق احمد یوسفی نے فرمایا تھا کہ دو الزام ایسے ہیں کہ کسی پر بھی لگا دو، لوگ فوراً یقین کر لیں گے۔ ان میں سے دوسرا الزام یہ ہے کہ موصوف پینے لگے ہیں۔ شاید کلام ’ بخشنے‘ والے بھی یہ گمان رکھتے ہیں ان دونوں موضوعات پر کچھ بھی کہہ دیا جائے، قاری ایمان لے آئے گا۔
اقوال کی جانب واپس آئیں تو محض اردو ہی کیا، تو شاید انگریزی کے بہترین اقوال یا quotes بھی کافی عرصہ قبل کہے جا چکے ہیں۔ آپ تصدیق کے لیے کتابوں کی مشہور ویب سائٹ goodreads.com پر سب سے زیادہ پسند کیے گئے اقوال کی فہرست دیکھیے۔ ان میں کم ہی کوئی بات یا فقرہ جدید ادب میں سے ہوگا۔اگر ہوا بھی تو زیادہ تر مکالموں کی صورت میں ہوگا۔ مثلاً ہیری پاٹر کے ڈائیلاگ۔ لیکن ایک بات کا اس ویب سائٹ سے سراغ ملتا ہے کہ اب ، کم از کم انگریزی زبان میں، اقوال کتابوں تک محدود نہیں رہے۔ یہ کسی انٹرویو کا حصہ، تقریر کا ٹکڑا، یا کسی فلم کا ڈائیلاگ بھی ہو سکتا ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ، گاندھی جی اور چرچل کے زیادہ تر اقوال ان کی تقاریر یا انٹرویوز کا حصہ تھے۔ یہی حال فلم کے ڈائیلاگ کا ہے۔ گاڈفادر کے فقروں کے کمالات ابھی کل کی بات ہیں۔ کم از کم ہمیں تو ایسا ہی لگا۔ پھر خیال آیا کہ ہمارے کئی فیورٹ quotes بھی تو کسی فلم کا مکالمہ ہی تو ہیں۔ جاتے جاتے میرا ایک پسندیدہ مکالمہ، بھارتی فلم ’اشوکا‘ سے۔ امید ہے آپ کو اچھا لگے۔ پس منظر یوں ہے کہ کہانی کا ہیرو شہزادہ اشوک، اقتدار کے لالچی، سوتیلے بھائیوں سے اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا ہے ۔ بھیس بدل کر، ایک عام مسافر کی طرح پھرتے ہوئے اس کا سامنا کچھ بھکشوؤں سے ہوتا ہے جو اشوک سے اس کی شناخت پوچھتے ہیں ۔
اشوک: میں ایک سادھارن ویکتی (عام انسان)۔
بھکشو: سورج بادلوں میں چھپ جائے، تب بھی اس کی روشنی نہیں چھپتی۔ تمہارا بھاگ(نصیب) کہتا ہے کہ تم سادھارن نہیں۔
اشوک: توپھر کیا کہتا ہے میرا بھاگ؟ میں سمراٹ(بادشاہ) بنوں گا؟ تخت پر بیٹھوں گا؟
بھکشو: سمراٹ بھی سادھارن ہوتے ہیں۔ تمہارا بھاگ سمراٹ سے بھی اونچا ہے۔
اشوک : سمراٹ سے بھی اونچا بھاگ کس کا ہوتا ہے؟
بھکشو: یاتری (روحانی مسافر، زیارت کرنے والا) کا۔ جب وہ اپنی یاترا پوری کر لے۔

کاشف محمود
کاشف محمود
طالب علم ہونا باعث افتخار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *