جزیرہ لاڈیگ اور عمر بھر سلگاتی اک شام۔۔۔۔سید مہدی بخاری

وکٹوریا کی بندرگاه چھوڑے گھنٹہ بیت چکا تھا۔ فیری اب بحر ہند کے کھُلے سمندر میں جھولتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی سمت مڈغاسگر کی طرف تھی۔ براعظم افریقہ کی حدود میں آسمان شفاف اور روشن تھا۔ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ میں بحر ہند کے ایک جزیرے لا ڈیگ پر جا رہا تھا۔ تین کلومیٹر لمبا اور محض ایک کلومیٹر چوڑا یہ جزیرہ ناریل کے درختوں میں گھِرا اُتھلے پانیوں کے شفاف ساحلوں کی وجہ سے دیکھنے کے قابل ہے۔ ایسا گماں ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے بہت سوچ کر اپنے تخیل کے زور پر بنا دیا ہو۔ فیری ہال میں یورپی سیاحوں کی کافی تعداد سفر کر رہی تھی۔ ہال ائیر کنڈیشنڈ تھا۔ سمندر پر ڈولتی فیری کے اندر زیاده دیر بیٹھا نہیں جا سکا تو میں اُٹھ کر جہاز کے عرشے پر چلا آیا۔ عرشہ سنسان پڑا تھا میرے علاوه کوئی موجود نہیں تھا۔حدِنظر تک نیلے پانی تھے ،کھُلا سمندر تھا۔

آسمان پر بادل کے ٹکرے بکھرے ہوئے تھے جن کا عکس پانیوں پر جھلکتا مگر فیری کے انجن سے پیدا ہونے والی لہریں سطح پر ارتعاش پیدا کر دیتیں۔ میں نے دو چار تصویریں لیں اور عرشے پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ ہوا سے بال بکھر رهے تھے۔ پانی کی پھوار بھگو رہی تھی۔ سمندر کے اندر ایک دنیا آباد ہے مگر سمندر کے اوپر بھی زندگی موجزن تھی۔ فلائنگ فِش پانی سے نکلتیں اور دور تک ہوا میں اپنے پنکھ پھیلا کر اڑتی جاتیں اور پھر پانی میں غائب ہو جاتیں۔ سطح سے چند انچ اوپر اڑتے ہوئے یہ مچھلی بالکل پرنده معلوم ہوتی تھی۔ وہیں اوپر کالے رنگ کے پرندے منڈلا رہے تھے جو ان مچھلیوں کے شکاری تھے۔ ایک فلائنگ فِش نے پانی سے باہر نکل کر اڑان بھری تو پرندے نے شکار کر لیا اور اسے چونچ میں دبا کر دور اڑ گیا ،پھر نظر کے سامنے مصور کی تصویر کھُلی۔ فیری نے بھونپو بجایا اور لا ڈیگ کے ساحل پر لنگر ڈال دیا۔۔

ساحل پر اترا تو یوں لگا جیسے میں کسی پینٹنگ کا حصہ بن گیا ہوں۔ سبز شفاف اُتھلے پانیوں کا ساحل تھا جس کے کناروں پر چٹانیں اور سفید ریت تھی۔ ناریل کے درخت تھے۔ سورج کی روشنی پانی کی تہہ تک اترتی اور منعکس ہو کر یوں لگتا جیسے کناروں پر پانی کی نہیں روشنی کی لہریں ہوں۔ اندر سفید اور رنگین چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تیرتی دکھائی دیتیں ، وہیں کہیں سے اکارڈین کی آواز گونجی۔ دُھن محسور کن تھی ۔ایک کالا فنکار بڑے سے پتھر پر بیٹھا مست ہو کر اکارڈین بجا رہا تھا۔ میں اس کے سامنے رک کر سننے لگا. اس نے ہیٹ اتار کر خوش آمدید بولا تو میں نے پچاس مقامی روپے اس کے سامنے رکھ دیے۔ دن بھر اکارڈین کی دھنیں گونجتی رہیں۔ میں فوٹوگرافی کرتا رہا اور کبھی تھک کر ریت پر بیٹھ جاتا۔ شام ڈھلنے لگی تو فیری نے واپسی کا بھونپو بجا دیا.

واپسی کا سفر شروع ہوا تو شام ڈھل رہی تھی۔ جہاز کے عرشے پر کھڑا میں ڈھلتے سورج کو دیکھ رہا تھا ۔۔پھر شام کے رنگ بکھرنے لگے۔بادلوں کے ٹکرے رنگے گئے۔ پانیوں پر عکس جھلکنے لگا۔ کھلے سمندر میں غروب آفتاب دیکھ کر دل میں بھی لہریں اٹھنے لگیں۔ تصویریں لے کر میں نے کیمرہ  رکھ دیا۔ کچھ پل یا کچھ لمحے صرف اپنے لیے ہوتے ہیں جن کو فوٹوگراف نہیں کیا جا سکتا۔ بحیره عرب پر سورج ڈوبتا جا رہا تھا پھر پانی میں اتر کر بجھ گیا۔ ہوا میں نمی بھر آئی۔ تاریکی پھیلنے لگی۔ سامنے وکٹوریا کی بندرگاه کی روشنیاں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ فیری نے بھونپو بجایا تو اس کی آواز بحر ہند کی نم فضا کو تار تار کرتی پھیل گئی۔ کھلے سمندر میں ایسا منظر میں نے پہلی بار دیکھا تھا اور قدرت کا شکرگزار تھا کہ اس نے اپنے رنگوں میں سے کچھ رنگ مجھے دکھا دیے تھے۔ سامنے بندرگاه تھی اور میں جیسے جہاز کے عرشے پر کھڑا بت بن چکا تھا۔ میرے مقدر کی لکیر میں روم کے سفر کی لکیر اُبھر آئی تھی۔ اگلی صبح مجھے روم نکل جانا تھا۔ بحر ہند کے کھلے سمندر پر بیتی شام نے اب ایک عمر تک مجھے سلگائے رکھنا ہے۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *