• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ماضی کے چائلڈ فلم سٹار، اداکار و ہدایت کاررتن کمار مرحوم کی کچھ انمٹ یادیں۔۔۔احمد سہیل

ماضی کے چائلڈ فلم سٹار، اداکار و ہدایت کاررتن کمار مرحوم کی کچھ انمٹ یادیں۔۔۔احمد سہیل

رتن کمار ہماری فلمی تاریخ کا گم گشتہ ستارہ ہے۔ مگر میں اس مفروضے کو تسلیم نہیں کرتا۔ رتن کمار کو میری نسل کبھی بھلا نہیں سکتی۔ گو وہ قدرے کم مقبول اداکار رہے مگر ان کی فنکارانہ بوقلمی اوراداکاری بھلائی نہیں جاسکتی۔ وہ بطور فنکار طفل (چائلڈ آرٹسٹ)کے زیادہ مقبول ہوئے۔ بےبی ناز اور تبسم کے ساتھ ان کی اداکاری یادگار  ہے۔ مگر وہ بحیثیت ہیرو اتنے کامیاب نہ ہوسکے۔ یہ میرا مشاہدہ  ہے  کہ مقبول اور اچھا چائلڈ آرٹسٹ آگے چل کربہت کم ہی کامیاب اداکار بنتا  ہے۔

رتن کمار کا اصل نام نذیر رضوی  ہے۔ ان کی پیدائش 19 مارچ 1941 کو اجمیر شریف، راجھستان میں ہوئی۔ رتن کمار جتنے بڑے اداکار ہیں اور اتنے اچھے انسان بھی ہیں۔ وہ ایک ایسے فنکار ہیں جو فلم اور اداکاری کی جزیات کو ہنرمندی کے ساتھ سمجھتے بھی ہیں۔ انکے  بارے میں  میری یادیں فلم “بیداری”، “ناگن” ،” اور داستان” کے حوالے سے جڑی ہوئی ہیں اور آج بھی میرے ذہن و دماغ میں رچی بسی ہیں۔

رتن کمار نو سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ اجمیر شریف سےممبئی آگئے تھے۔ ان کے والد صاحب کرکٹر تھے۔ وہ 1932 کی ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بھی ر ہے ۔ رتن کمار کے بڑے بھائی وزیر علی بھی کرکٹر تھے۔ رتن  کمار بھی اچھے کرکٹر تھے۔ انکی دوستیاں فلمی لوگوں سے کم اور کرکٹ کے کھلاڑیوں سے زیادہ رہی۔
ماضی کے پاکستانی کرکٹرز حسیب احسن، نسیم الغنی اور مشتاق محمد ان کے قریبی دوستوں میں شامل تھے ۔

رتن کمار نے مجھے بتایا کہ افسانہ نگار کرشن چندر ان کے والد سلطان عباس صاحب کے قریبی دوست تھے۔ وہ ان دنوں فلم “راکھ” بنا ر ہے تھے۔ کرشن چندر نے اس فلم میں بچے کے ایک کردار کے لیے رتن کمار کو منتخب کرلیا۔ یہ ان کی پہلی فلم تھی۔

رتن کمار   راج کپور، مدھو بالا، کامنی کوشل، ثریا، نمی، راکیش مکرجی، کاردار اور محبوب خان کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے راج کپور (جن کو وہ ‘راج بھیا‘ کہتے تھے) کے متعلق بتایا کہ وہ سخت محنتی، صاف گو ، رحمدل، سادہ دل اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ بقول رتن کمار ” میں نے آج تک راج بھیا سے بڑا “شومین” نہیں دیکھا۔ انھیں ہندی اردو بہت اچھی آتی تھی مگر وہ اردو کو فوقیت دیتے تھے۔ اور اردو اسکرپٹ بھی لکھواتے تھے۔”

رتن کمار نے بھی اپنی ہر فلم میں اردو  سکرپٹ کا ہی انتخاب کیا۔ مدھو بالا کے متعلق بتایا کہ وہ طبعیت میں بہت سادہ اور مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آتی تھیں، خوب صورت اداکارہ تھیں اور ڈوب کر اداکاری کرتی تھیں۔ رتن کمار نے وادیا صاحب کی فلم “بالم” میں واسطی اور ثریا کے ساتھ کام کیا۔1952ء میں میناکماری اور بھارت بھوشن کی ناقابل فراموش فلم ’’بیجوباورا‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان میں بھی زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس فلم میں محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے گائے ہوئے بے مثال گیتوں نے ایک زمانے کو متاثرکیا۔ نوشادکی موسیقی اور شکیل بدایونی کے امرگیتوں نے ’’بیجوباورا‘‘ کو وہ شہرت عطا کی، جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

اس فلم میں بھارت بھوشن کے بچپن کا کردار ایک ایسے بچے نے ادا کیا ،جو بعد میں بہت بڑا چائلڈ سٹار بنا، اس کا نام تھا، رتن کمار۔ رتن کمار نے 1953ء میں بمل رائے کی شاہکار فلم ’’دو بیگھہ زمین‘‘ میں بلراج ساہنی اور نروپا رائے کے ساتھ اتنی زبردست اداکاری کی کہ فلم بین ہکا بکا رہ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فلم دیکھ کر لوگوں کے رومال آنسووں سے تر ہو جاتے تھے۔ 1954ء میں رتن کمار نے ناصرخان کے ساتھ فلم ’’انگارے‘‘ میں کام کیا۔ 1954ء میں ہی رتن کمار نے راج کپور کی مشہور زمانہ فلم ’’بوٹ پالش‘‘ میں کام کیا اور چونکا دینے والی اداکاری کی۔

ممبئی میں ان کا قیام باندرہ/ پالی ہل میں رہا۔ رتن کمار کے والد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سیاست دان عبد الحفیظ کاردار کے کہنے پر لاہور چلے گے کیونکہ کاردار نے ان کے بھائی وزیر علی کو پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شمولیت کا یقین دلوایا تھا۔ مگر وزیر علی پاکستان کی کرکٹ میں شامل نہ ہوسکے۔

رتن کمار نے  15 سال کی عمر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ 1956 میں پاکستان نقل مکانی کی ۔ پاکستان آکر فلم “بیداری” میں ناقابل فراموش اداکاری کی ۔ یہ فلم 6 دسمبر 1957 میں ریلیز ہوئی ۔ اصل میں یہ بھارتی فلم “جاگردی” کا چربہ تھی۔ “بیداری” حب الوطنی پر مبنی ایک خوبصورت اور ولولہ انگیزفلم تھی۔

مجھے یاد  ہے  کہ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تھی تو حکومت پاکستان نے اس فلم پر ٹیکس معاف کردیا تھا اور کراچی کے  سکولز کے بچے گروپ کی صورت میں یہ فلم دیکھنے جاتے تھے۔ راقم الحروف نے یہ فلم کراچی میں مشن روڈ پر ‘قسمت‘ سینما میں دیکھی تھی۔ اس فلم میں رتن کمار کا ہیر اسٹائل بہت مقبول ہوا اور ہر بچہ اور نوجوان اپنے بالوں کو اسی طرز پر سنوارتا تھا۔ اورہر لڑکا ان کی آدھی آستین  کی قیمض کو بھی سلواتا تھا۔

“بیداری” کی موسیقی فتح علی خان نے دی تھی۔ منور سلطانہ،سلیم رضا نے گلوکاری کے جوہر دکھائے۔ فیاض ہاشمی نے اس کے گانے لکھے تھےجو مقبول ہوئے۔ چند گانوں کے بول ملاحظہ کریں۔
*قائد اعظم تیرا احسان  ہے احسان
*ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
*آؤ بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

اس کے بعد رتن کمار نے سترہ (17) فلموں میں کام کیا۔ ان کی پسندیدہ فلموں میں، “چھوٹی امی”، بوٹ پالش” اور “داستان” شامل ہیں۔ “بوٹ پالش” میں ان پر فلمایا ہوا گانا۔۔۔‘ ننھے منے بچے تیری مٹھی میں کیا  ہے ” ۔۔۔۔ اپنے زمانے کا سب سے مقبول گانا تھا۔ “بوٹ پالش” میں راج کپور نے مرکزی کردار ادا کیا تھااور اس کے ہدایت کار پرکاش ارورا تھے۔ فلم میں رتن کمار نے ‘بھولا ‘اور بےبی ناز نے ‘بیلو‘ کا کردار ادا کیا تھا۔

رتن کمار کی فلموں فہرست یوں بنتی  ہے۔۔
1951۔۔۔۔۔۔ افسانہ ۔۔۔ بزدل ۔۔۔۔
1952۔۔۔۔۔۔ بیجوباورہ ۔۔۔ موتی محل ۔۔۔
1953۔۔۔۔۔۔ درد دل ۔۔۔دو بھیگے زمین ۔۔۔ لیلی مجنون ۔۔۔ نیا گھر ۔۔۔ دیوانہ
1954۔۔۔۔۔ جاگردی ۔۔۔ بہت دن ھوئے ۔۔۔ رادھاکشن ۔۔۔ بھاگےوان ۔۔۔ انگارے ۔۔۔ بوٹ پالش ۔۔۔۔۔۔
1955 ۔۔۔۔ ایک کاوش ۔۔۔

یہاں سے رتن کمار کی پاکستانی فلموں کا دور شروع ہوتا  ہے۔
1957 ۔۔۔۔ بیداری ۔۔ معصوم ۔۔
1958 ۔۔۔۔ واہ رے زمانے ۔۔۔
1959 ۔۔۔۔ ناگن ۔۔۔
1960 ۔۔۔۔ الہ دین کا بیٹا ۔۔۔ دو استاد ۔۔۔ کلرک ۔۔۔نیلوفر ۔۔۔
1961 ۔۔۔۔ تاج اور تلوار۔۔۔ غازی ابن عباس ۔۔۔
1962 ۔۔۔۔ حسن و عشق ۔۔۔۔
1963 ۔۔۔۔بارات ۔۔۔۔ سمیرا ۔۔۔ شیر اسلام
1964 ۔۔۔چھوٹی امی ۔۔۔۔
1965 ۔۔۔۔ گوپال کرشنا ۔۔۔
1966 ۔۔۔امرپالی ۔۔۔۔
1966 ۔۔۔۔ اسرا ۔۔۔۔ داستان ۔۔۔۔

رتن کمار نے فلم ‘داستان‘ بنائی۔ اور ہدایت کاری کے فرائص بھی خود  ہی  سرانجام دیے۔ اس فلم میں فیاض ہاشمی کا لکھا ہوا گانا جس کی موسیقی خلیل احمد نے ترتیب دی تھی بہت مقبول ہوا۔ گانے کے بول تھے ۔۔ ‘ قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے ۔۔ہم تیرے پیار پہ الزام نہ آنے دیں گے ‘۔۔۔

جس زمانے میں حسن طارق اور ان کی بیوی رانی کے  درمیان سنگین نوعیت کے ازدواجی   جھگڑے جاری تھے ۔وہ اس دوران اپنی  فلم ” بیگم جان ” بنا ر ہے  تھے گھریلو پریشانیوں کے سبب حسن طارق فلم کو وقت نہ دے پا رہے  تھے تو رتن کمار نے اس فلم کو مکمل کرنے میں حسن طارق کی بھرپرمدد کی۔

‘بیگم جان‘ کی کہانی پاکستان میں پشتون عورتوں کے گھر گھر جا کر اسمگل شدہ کپڑے بیچنے والی عورتوں کی کہانی پر محیط تھی۔ اس فلم میں رانی نے بیگم جان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس زمانےمیں شاعر احمد فراز پاکستان سنسر بورڈ کے کرتا دھرتا تھے ۔ انھوں نے اس فلم کو دیکھ کر ناراضگی کا اظہار کیا اور اس پر کئی اعتراضات کرتے ہوئے فلم کو ریلیز کی اجازت نہیں دی۔ مگر فیض احمد فیض کے سمجھانے بجھانے پر احمد فراز ‘بیگم جان‘ کو ریلیز کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔

1977 میں رتن کمار کی ساڑھے چار سالہ بچی سڑک کے حادثے میں اللہ کو پیاری ہو گی (اللہ پاک مخفرت فرمائے) جس نے انھیں توڑ  پھوڑ کر رکھ دیا اور وہ فلمی دینا سے دل برداشتہ ہوکر جرمنی چلے گئے۔

رتن کمار   اپنے بیٹے علی کامران رضوی، اور بیٹی فرحت حسن کے ساتھ سین ہوزے ، کیلی  فورنیا، امریکہ میں رہائش پذیر تھے ۔ ان کے دوسرے صاحب زادے علی عمران ، فینکس، ایرے زونا، امریکہ میں رہتے ہیں۔ انتقال سے چند دن قبل میری نذیر بھائی { رتن کمار} سے فون پر بات ہوئی تھی ۔ ان کو سانس لینے میں مشکل ہورہی تھی۔ ان کی ناک مِیں آکسیجن گیس کی نالی لگی ہوئی تھِی ۔ وہ ٹھیک طرح سے بول بھی نہیں پارہے تھے۔ مگر میری ان سے کوئی دس منٹ فون پر بات ہوئی۔

رتن کمار پھیپڑوں اور سانس کے مرض میں مبتلا تھے رتن کمار دو ہفتے سے ہسپتال میں داخل تھے۔ان کا انتقال گڈ سمرٹن ہسپتال، سین ہوزے کیلفورنیا ، امریکہ میں11 ، دسمبر 2016 بروز اتوار، سوا گیارہ بجے شب ہوا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *