محبت کی مرغابی۔۔۔مریم مجید

وہ سرد فضاؤں کا دیس تھا ۔ جہاں مجھے وہ عورت ملی تھی جو راکھ کی ہلکی پرت میں محفوظ نارنجی اور خفتہ آگ کی لپٹوں سے بھرپور انگیٹھی کی مانند تھی۔
دنیا کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں موسم کا مزاج اس قدر بے بھروسہ ہے کہ جس چمکتی دھوپ کے دھوکے میں آپ سر پہ تنکوں سے بنا ہیٹ جمائے گھر سے مچھلی کے شکار کے ارادے سے نکلتے ہیں وہ برف کی باریک، تیز پھوار برساتی دوپہر میں ڈھل کر آپ کی ساری گرم جوشی ٹھٹرا کر رکھ دیتی ہے! بالکل ان انسانوں کی طرح جن کی سرد مہری سے ہماری گرمجوش محبت کا جب اختلاط ہوتا ہے تو فنا فقط محبت کی ہوتی ہے!

خیر!! بات کہاں سے کہاں چل نکلی! تو میں اس عورت کے بارے میں بات کر رہی تھی جو مجھے ایک ایسی ہی بے یقین دوپہر میں جھیل کنارے ملی تھی۔
وہ جھیل میرے ان پسندیدہ مقامات میں سے ہے جہاں میری ذات کے کچھ ان کہے، ان سنے بھید رکھے ہیں۔ اور جب بھی کبھی خود پر چڑھائے ان گنت لبادوں کے بوجھ سے جی اکتانے لگتا ہے تو اس کے کنارے ایک ایک کر کے سبھی لبادے اتار پھینکتی ہوں اور مکمل آسودگی اور پاکیزہ بے لباسی کے ہلکے پھلکے احساس کے ساتھ اس جھیل کنارے ٹہلتی ہوں، پانیوں، سورج ہوا اور گھاس کے لمس براہ راست بدن پہ وصول کرنے کا احساس دوبارہ لیے گئے جنم جیسا ہوتا ہے ۔پوتر،مصفا، پاکیزہ!

تو وہ ایک ایسی ہی دوپہر تھی جب لبادوں کے بوجھ اعصاب پر بھاری تھے اور آج ان میں ایک خاص قسم کا بوجھ شامل تھا۔ آج اس کی سالگرہ تھی۔۔کس کی؟؟ اس کی!! جس کی برف ذات سے میری زندگی کی پہلی اور آخری محبت کے شرر ٹکرائے تھے۔
میں جھیل کنارے بیٹھی تھی اور میری گود میں پتھر تھے۔ اس کے نام کے چار حروف تھے اور میں ایک ایک حرف پر کنکر اچھالتے ہوئے دو سو پچھتر کنکر جھیل میں پھینک چکی تھی  آج میرا ارادہ اسے ایک ہزار بار جھیل میں ڈبونے کا تھا مگر دو سو چھہترویں کنکری جو بھوری اور سفید تھی، میرے ہاتھ میں تھی کہ میں نے کسی کو آتے دیکھا۔۔
وہ جو بھی کوئی تھا، سورج کے مخالف سمت سے یوں چلا آ رہا تھا کہ خدوخال واضح نہ ہوتے تھے۔ میرا کنکری تھامے ہاتھ کچھ پل ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ جھیل کے اس حصے میں پچھلے نو برسوں آٹھ مہینوں اور سترہ دنوں سے میرے سوا کوئی نہ آتا تھا تو پھر آج میری  تنہائی کی اس پرائیوٹ جنت میں کون مخل ہو گیا تھا؟؟ ناگواری کی تیز لہر نے مجھے یوں بھگو ڈالا کہ میری بانہوں پر سویا سنہری رواں جھرجھری لے کر بیدار ہو گیا۔

میں نے قریب پڑا سیاہ پل اوور اٹھایا اور اسے پہننے لگی کہ سورج، ہوا، پانی اور گھاس کے لمس بے شک لمس ہوتے تھے مگر انسانوں کی مانند آنکھیں نہ رکھتے تھے۔
جب میں پل اوور کے بٹن لگا رہی تھی تو میری تنہائی میں مخل ہونے والی ہستی اب اتنی قریب آ چکی تھی کہ یہ دیکھ لینا ممکن ہو چکا تھا وہ ایک عورت تھی۔ لمبی، چھریری اور شانوں تک آتے گہرے کتھئی بالوں  والی عورت جو شاید چالیس کے پیٹے میں تھی۔
وہ میرے قریب سے گزرتی ہوئی آہستہ قدموں سے نسبتا دور کچھ درختوں کے جھرمٹ کی جانب بڑھتی گئی۔ ۔میں نے دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ میں شفاف پلاسٹک میں لپٹی کوئی شے تھی جسے تھامے وہ اپنے مطلوبہ مقام کی جانب جا رہی تھی۔”شاید یہ بھی اپنی تنہائی منانے اپنی قربت کا لطف اٹھانے اس سنسان گوشے کی پناہ میں جا رہی ہے” میں نے سوچا اور گود میں رکھی کنکریوں کو دیکھا اور  ہاتھ میں تھامی کنکری جو میں دوبارہ گود میں ڈال چکی تھی اسے ڈھونڈنے لگی۔ وہ بھوری اور سفید کنکری مل کر ہی نہ دے رہی تھی۔

گاہے بگاہے کن انکھیوں سے میں اس سمت بھی دیکھ لیتی جہاں وہ عورت اپنے ہاتھ میں کچھ تھامے گئی تھی۔
جب میں تین سو سات کنکریاں جھیل میں اچھال چکی تو میں نے اسے واپس آتے دیکھا۔ وہ مضحمل قدموں سے چلتی ہوئی جھیل کے انتہائی کنارے کی جانب جا رہی تھی اور اب اس کے ہاتھ خالی تھے۔
اوہ! جس جانب وہ دھیمے قدم اٹھاتی چلی جا رہی تھی، وہ کنارہ دلدلی تھا جسے آبی پودوں اور تیرتی گھاس نے ڈھانپ رکھا تھا” اگر یہ یونہی اس طرف بڑھتی رہی تو دلدل میں جا پھنسے  گی”! میں نے تشویش سے سوچا اور اسے آواز دے ڈالی” سنو!!! اے مس! وہاں مت جاؤ! وہ کنارہ دلدلی ہے” میں نے دونوں ہاتھوں کو منہ کے قریب رکھ کر اسے زور سے پکارا۔۔
وہ جیسے کسی خیال سے چونکی، کنارے اور جھیل کو ایک نظر دیکھا اور واپس پلٹ گئی۔ کچھ ہی دیر میں وہ سست روی سے چلتی میرے قریب آ کر ٹھہر گئی۔
“آپ کا بہت شکریہ” اس نے یہ الفاظ انگریزی زبان میں ادا کئے تھے مگر لہجہ اور چہرہ بتاتا تھا کہ اس کا تعلق اس سرد ملک سے نہیں بلکہ گرم برصغیر کے کسی علاقے سے ہے ۔
“شکریہ کیسا، یہ میرا فرض تھا” میں نے اسے اردو میں جواب دیا تو وہ ٹھٹھک گئی۔
“ارے!! آپ تو اردو بول رہی ہیں۔۔ کیا پاکستان سے ہیں یا ہندوستان سے،؟”
وہ استفسار کر رہی تھی۔۔
“میں کراچی سے ہوں” میں نے اسے اپنی پلاسٹک کی چٹائی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔
“ارے واہ!! میرا تعلق لاہور سے ہے۔۔” وہ خوشدلی سے بولتے ہوئے مسکرائی اور میرے برابر بیٹھ گئی ۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھیں نہیں مسکرائی تھیں۔۔
اس نے چوکور سیاہ فریم کا نظر کا چشمہ لگا رکھا تھا اور بھورے کوٹ اور نیلی جینز میں ملبوس تھی۔ شوخ نارنجی مفلر گردن کے گرد لپٹا تھا جس کے دونوں پلو آگے کو گرے تھے۔

“یہ بھی کیسا اتفاق ہے کہ اس ٹھنڈے شہر میں دو گرم  شہر ایک دوسرے سے آن ملے ہیں۔۔۔!! میرا ماننا ہے کہ لوگ اپنے شہروں کے نمائندہ ہوتے ہیں” اس نے اپنے ہی جملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا اور میں محض مسکرا دی۔”لوگ اپنے شہروں کے آسیب بھی تو ہوتے ہیں” میں یہ الفاظ سوچ کر رہ گئی تھی۔
دھوپ کے راستے میں کوئی ابر پارہ خلل بنا اور ایک پھیکا پن چمکتے ہوئے منظر کو دھندلانے لگا۔
“کافی”؟؟ میں نے اس سے دریافت کیا اور جواب  اثبات میں پا کر مگ میں انڈیلنے لگی۔
” میرا نام ملیحہ ہے” میں  نے مگ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
“اور میں ثمر” اس نے کافی تھام لی اور ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر رسماً  سا مسکرا دئیے۔
ہوا کی جھونکوں سے جھیل کی سطح پر ارتعاش سا پیدا ہو رہا تھا اور گھاس میں سر اٹھاتے ڈینڈلائن اتنے زیادہ تھے جیسے وان گوگ کے جادوئی معجزاتی برش نے ابھی ابھی ایک وسیع کینوس پینٹ کر کے سوکھنے کو رکھا ہو۔ ۔
میرے پاس کیونکہ ایک ہی مگ تھا جس میں وہ کافی پی رہی تھی لہذا میں نے فلاسک کے ڈھکن کو بطور مگ استعمال کرتے ہوئے اس میں کافی بھری اور چسکیاں لینے لگی۔

“اوہ!! میں نے تمہارا مگ لے لیا” اس کی نظر پڑی تو وہ ذرا جھینپ کر بولی۔ “ارے نہیں!! مجھے کیونکہ کم و بیش دس برس سے تنہا کافی پینے کی عادت ہے، سو کبھی دوسرا مگ ساتھ رکھنے کا خیال ہی نہ آیا۔ اور یوں بھی مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنہا جگہ پر آج تم مجھے ملنے والی ہو تو ایک مگ تو ضرور لے آتی” میں نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دی۔
ہوا سے اس کے کتھئی بال بار بار چہرے پر آتے جنہیں وہ ناراض بچے کی مانند پیچھے کرتی تھی ۔ میں نے دیکھا اس کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں ایک خاصی بڑی اور قیمتی پتھر جڑی انگوٹھی تھی۔
“کہاں رہتی ہو”؟؟ اس نے پوچھا۔ “ڈاؤن ٹاؤن”!! اور تم”؟؟ میں نے جواب کے ساتھ ہی سوال بھی جڑ دیا۔ ” جواباً  اس نے شہر کے ایک مشہور علاقے کا پتہ بتایا اور آہستہ آہستہ ہماری گفتگو طویل ہوتی گئی۔ مجھے اپنے مزاج کے برخلاف کسی اجنبی سے یوں بے تکلفی پر حیرت تو تھی مگر میں خود بھی اس کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ ۔

اس نے بتایا کہ وہ اپنے ڈاکٹر شوہر اور دو بچوں کے ہمراہ تقریباً  تیرہ سال پہلے ملک چھوڑ کر یہاں آ گئی تھی اور ایک مقامی بینک میں اکاوئنٹنٹ کی ملازمت بھی کرتی ہے۔ میرے پاس اس کے سوا اسے بتانے کے لیے کچھ نہیں تھا کہ میرے قدم اس سرزمین نے کچھ یوں جکڑے تھے کہ نو برس بعد بھی مجھے اس سحر سے نکلنے کا یارا نہ تھا  ۔ میرے لیے یہ ٹھنڈا ملک یادوں کی سلگتی بھٹی تھا۔
“میں یونیورسٹی کی لائبریری کا انتظام سنبھالتی ہوں” میں نے اسے مختصرا بتایا۔

مجھے اس جھیل کنارے اس خاص قسم کے ماحول میں ایک بالکل اجنبی عورت سے باتیں کرتے ہوئے لطف آنے لگا تھا۔
اچانک مجھے کچھ خیال آیا” اگر تم برا محسوس نہ کرو تو کیا تم بتانا پسند کرو گی  کہ تم درختوں کے اس جھنڈ کی جانب کیوں گئیں تھیں”؟؟ میں نے ثمر سے پوچھ لیا اور اس کے دبلے ، خاموش اور شانت چہرے پر یکایک تاثرات نے رنگ بدلا۔ وہ واضح طور پر گڑبڑا گئی تھی۔ “وہ!! بس یونہی۔۔۔”!! اس نے لایعنی سا جواب دیا اور گھاس کے اس ٹڈے کو زور سے جھٹکا جو اس کے بھورے کوٹ  پر آ بیٹھا تھا  ۔

مجھے کچھ عجیب تو لگا مگر ظاہر ہے میں اس سے اصرار بھی نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے شانے اچکا دئیے اور خاموشی سے خالی فلاسک اور  مگ اپنی چھوٹی سی ٹوکری میں ڈالنے لگی۔ میں اب گھر جانے کے ارادے سے اپنا سامان سمیٹ رہی تھی۔ بچی ہوئی کنکریوں کو میں نے ایک بوتل میں بھر لیا تھا ۔ مجھے کسی دن پھر یہاں آ کر یہ ادھورا کام مکمل کرنا ہو گا” میں نے سوچا۔
اس نے میری خاموشی کو شاید میری خفگی سمجھا جب ہی  اچانک بول اٹھی” سنو! ملیحہ! اگر۔۔ اگر میں تمہیں بتا دوں کہ۔۔میں وہاں کیا کرنے گئی تھی تو تم مجھے۔۔۔پاگل تو نہیں سمجھو گی”؟؟ وہ ہچکچاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔میں نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا” دراصل!! میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں۔۔۔میں بس کسی کو بھی بتانا چاہتی تھی۔۔ مگر خود سے میری زبان نہیں کھلتی تھی۔۔اس چور کی طرح! جو اعتراف تو کرنا چاہتا ہے مگر جب تک اسے مارا نہ جائے وہ اپنی جھجھک کو ختم کرتے ہوئے اقرار نہیں کرتا۔۔تو میں بھی اس بوجھ کو اتارنے کے لیے ایک سوال کے طمانچے کی منتظر تھی۔۔وہ بوجھ! جس سے میری پیٹھ ٹوٹی جاتی ہے۔۔۔” وہ بہت ہلکی آواز اور ایک عجیب بے اختیاری کے عالم میں کہہ رہی تھی۔

اور اسی پل مجھے الہام ہو گیا کہ مجھے اس سے انسیت کا احساس کیوں ہوا تھا۔ ؟وہ عورت میری ہی طرح تھی!! میری ہی طرح انگارے دبائے راکھ بھری انگیٹھی کی طرح! جو جل اٹھنے کے لیے ایک پھونک، ایک جھونکے کی محتاج ہوتی ہے۔۔مجھے وہ وقت یاد آیا جب میں اپنی آگ سے بے چین ، ایک پھونک کی تلاش میں بگولے کی مانند سرگرداں پھرا کرتی تھی مگر مجھے کبھی وہ پھونک نہ مل سکی۔ میں نے ثمر کے ہاتھ تھام لئیے”ہم پہلی بار ملے ہیں اور شاید دوبارہ کبھی نہ ملیں ثمر!! ان دو مسافروں کی طرح جنہیں  رات کسی سٹیشن پہ اکٹھے گزارنی پڑے اور وہ ایک دوسرے کے گہرے رازوں کے شریک بن جائیں، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اب کبھی بھی زندگی میں دوبارہ نہیں ملیں گے!! تو تم کہو! ” میں نے اس کے ہاتھوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے تسلی دی۔

وہ چند پل کسی ہراساں بچے کی مانند میری طرف دیکھتی رہی ۔پھر پست لہجے میں بولی” میں وہاں مرغابی دفن کرنے گئی تھی”!! ایک برف سنسناہٹ اس کے ہاتھوں سے میری ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کر گئی۔۔ “کیا یہ کوئی نفسیاتی مریضہ ہے”؟؟ میں نے دہلتے ہوئے سوچا ۔ وہ کہہ رہی تھی” میرا شوہر اور بچے!! وہ اس بات سے چڑتے ہیں کہ میں کہیں سے بھی کوئی مردہ مرغابی اٹھا کر اسے دفنانے چل پڑتی ہوں۔۔مگر!! انہوں نے کبھی غور ہی نہیں کیا ملیحہ کہ مجھے مری ہوئی مرغابیاں کیوں ملتی ہیں؟؟ مجھے ہی کیوں ملتی ہیں؟؟ ” اس کی آواز میں ڈار سے بچھڑی کونج کی کرلاہٹ تھی۔

میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی مگر باوجود کوشش کے، میں اسے بولنے سے منع کر سکی، نہ ہی اپنے ہاتھ کھینچ سکی۔ ایک من پسند منظر میں اس کی آواز ایک عجیب اسرار کی مانند پھیل رہی تھی اور یہاں وہاں غیر مرئی مرغابیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ میرے کانوں کے پردے مرتعش کرنے لگی تھی۔(اف! یہ میرا ایمپیتھٹک ہونا بھی ایک عذاب ہی ہے بھئی)۔

ثمر کے ہاتھوں کی نسوں میں بہتی کہانی میرے لہو میں اترنے لگی ۔ ” جب مجھے پہلی بار ایک مردہ مرغابی ملی تھی تو وہ موسم ہجرت کا نہیں تھا ملیحہ! وہ گرم موسموں کی ایک آم رس سی میٹھی شام تھی اور یونیورسٹی کے وسیع باغیچے میں ایک ساحر نے میرا ہاتھ تھام کر میری انا کو اپنی محبت کی بھینٹ دیتے ہوئے مجھ سے ایک ایسا اقرار محبت کیا تھا جس کے بارے میں تب میرا خیال تھا کہ وہ مینڈکی کو شہزادی میں بدلنے والا گیت ہے ،مگر وہ موت کی آہٹ تھا۔”! وہ اب ہاتھ کھینچ چکی تھی اور اضطرابیت سے گھاس نوچتے ہوئے اپنی بے ربط داستان سنا رہی تھی۔ میں نے اسے ٹوکنا مناسب نہیں سمجھا۔

“میں اپنی ذات کی محبت میں مبتلا تھی ملیحہ! اپنے آپ کے ساتھ خوش تھی مگر اس شخص کو شوق تھا،مجھے مجھ سے جدا کر کے ناخن کی مدد سے کھرچ کھرچ کر فنا کرنے کا شوق! بڑا ہی دلکش اور جاذب نظر شخص تھا وہ اور میں ایک عام شکل و صورت کی خود پسند لڑکی!” وہ دھیرے سے ہنسی اور اڑتے بالوں کو ایک بار پھر سمیٹنے لگی۔ ہوا اب تیز بہنے لگی تھی اور ڈینڈلائن گھاس میں پناہ لینے کو دہرے ہوئے جاتے تھے۔ جھیل کی سطح پر تیزی سے لہریں بننے اور مٹنے لگیں۔

“وہ میرا ہم جماعت تھا، ذہانت میں شاید مجھ سے کم،مگر بلا کا خوبرو! نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں مجھ سے پیچھے رہ جانے کی تلملاہٹ نے اسے میرے قدموں تلے کی زمین کھینچ لینے پر اکسایا اور وہ ایک ایسا پائڈ پائپر بن کر میری راہوں میں آنے لگا جس کے سب سر موت کی جھیل تک راستے بناتے تھے۔ اور کتنا ستم ہے ناں!؟؟ ہمیں چور سے، قاتل سے، وحشی سے بچنا تو آ جاتا ہے مگر محبت کو پچھاڑنا کبھی نہیں آتا۔۔۔۔

” سرد ہوا کے ایک تھپیڑے نے مجھے کپکپا دیا اور میں نے پل اوور کے آخری دو بٹن بھی لگا لیے  ۔ وہ ایک ابر پارہ اب افق پر پھیلنے لگا تھا۔ “تم درست کہتی ہو ثمر! کاش مہلک بیماریوں کا علاج دریافت کرنے والے اس محبت نامی وبا کی ویکسین بھی کھوج نکالیں! “میں نے سرد آہ بھرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھپتھپایا اور اس ساحر کے خیال کو دانستہ جھٹکا جونو طویل برس گزر جانے کے بعد بھی میرے لہو کی جھیل پر حنوط شدہ مرغابی کی مانند موجود تھا۔ اف یہ علامات! اس کی آواز مجھے پھر سے منظر میں دھکیلنے لگی۔ “وہ جادوئی آئینہ لیے میرے سامنے آتا رہا جس میں میرا عکس کسی سنو وائٹ یا سینڈریلا کی مانند دکھتا تھا  ۔ نازک،نخریلی،ست رنگی تتلیاں اس آئینے سے جھانکتی اور مجھے اکساتی تھیں کہ میں ان کے رنگوں کو پوروں پر اتار لوں”!۔ اس نے بھی اب اپنا نارنجی سکارف اچھی طرح گردن کے گرد لپیٹ لیا تھا اور دونوں ہاتھوں کو آپس میں بھینچے، وہ مردہ مرغابیوں کی وارث بننے کا قصہ بیان کیے جا رہی تھی ۔

“اس نے مجھے کسی بچے کی مانند گود لے لیا تھا!۔ میری ہر کڑوی ادا پر وہ اپنی محبت کے گرم گرم میٹھے لچھے بچھاتا رہا۔ اس کے پاس شیرے کی کمی نہیں تھی اور رفتہ رفتہ میرا دل کسی اعلی نسل کے جاذب کی مانند وہ مٹھاس جذب کرنے لگا۔!”دفعتاً  وہ بولتے بولتے چونک گئی”ارے! میں تمہارے وقت اور معمولات کا احساس کیے بغیر ہی اپنا بوجھ سرکائے جا رہی ہوں! معاف کرنا۔۔۔”وہ کچھ شرمندہ سی ہو رہی تھی۔

“ارے بالکل بھی نہیں! آج کی اس شام میں میرے سوا کوئی میرا منتظر نہیں، تم کہو ثمر!” میں نے اسے تسلی دی ۔ کافی ختم ہو چکی تھی اور آس پاس کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں سے کافی لی جا سکتی لہذا دھیان کو ایک بار پھر ثمر کی داستان کی بیٹھک میں جا بٹھایا۔ “ہوتا ہے ناں ایسا؟ کہ کسی کی بار بار پیش کی جانے والی محبت ہمیں اپنی ذات میں ایک چھوٹا سا خدا بنا دیتی ہے؟”وہ کہہ رہی تھی۔ “مجھ سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے؟” میں نے سوچا ۔میں نے بھی تو بے وجہ محبت کے چراغ جلا جلا کر اپنی روح کے معبد میں سوئے خدا کو بیدار کرنے کی غلطی کی تھی۔ کاش میں اسے کبھی نہ جگاتی، خاموش پرستش کئیے جاتی،کم از کم وہ میرا تو رہتا”! نارسائی کی تلخ لہر میرے حلق میں نیم کے ذائقے جگانے لگی ۔ جھیل کے کناروں پر بسیرا کرنے والے سفید اور بھورے پرندے اب فضا میں منڈلا رہے تھے۔

سورج افق کے مغربی کنارے کی جانب گامزن تھا اور زور و شور سے چلتی ہوا اب گھاس کی پتیوں سے لپٹی سبک روئی سے چل رہی تھی۔
ثمر نے دونوں بازو  گھٹنوں کے گرد لپیٹ لیے تھے اور اپنے دھیان میں مگن، وہ زہریلی محبت کے اسرار کھولے چلی جا رہی تھی۔
“اس کی محبت کو بار بار رد کرتے ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے ایمان و الہام کی مانند یقین نصیب ہو گیا۔ میں نے جادوئی آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو حقیقت مان لیا اور ست رنگی تتلیوں کو مٹھی میں دبوچنے کے لئے پائڈ پائپر کے پیچھے پیچھے چل دی۔ اور جس آم رس سی میٹھی شام میں نے اس کی محبت قبول کی تھی،اسی شام مجھے نہر کنارے ایک مردہ مرغابی ملی تھی اور میں تب بھی بہت حیران ہوئی تھی۔ “یہ تو ہجرت کا موسم بھی نہیں؟تو یہ مرغابی کہاں سے آ گئی”؟ میں نے سوچا تھا اور اس خیال سے کہ اس خوبصورت مرغابی کو کتوں بلیوں کے واسطے نہ چھوڑا جائے، میں نے اسے ایک لکڑی کی مدد سے زمین کھود کر نہر کنارے دفنا دیا تھا  اور کاش تب میں جان پاتی کہ یہ مردہ مرغابی ایک آسیب بن کر میرے ساتھ جڑ جائے گی تو  میں کبھی ایسا نہ کرتی۔ “ثمر کی آواز میں نرخرہ گھونٹنے کا سا کرب تھا۔”اور تم جانو ملیحہ! اپنے وطن کی مٹی منجمند نہیں ہوتی، آسانی سے کھود لی جاتی ہے مگر! یہاں کے سرد موسموں میں جمی ہوئی زمین کھودنا بھی اتنا آسان کہاں ہے؟۔ ” اس نے ایک گہری سانس بھری اور چشمہ اتار کر آنکھیں مسلنے لگی۔ شاید اس کی آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا۔

کچھ پل کو صرف ہوا کی سرگوشیاں جھیل کے پانیوں سے راز و نیاز کرتی رہیں ۔ ثمر نے اپنے قریب آ گرنے والا میپل کا بھورا پڑتا زرد پتہ اٹھا لیا اور اسے دو انگلیوں کے بیچ گھمانے لگی  ۔
“کیا اس نے تمہیں دھوکہ دیا”؟۔ جانے کیوں یہ سوال میری زبان سے پھسل پڑا  ۔اس نے میری طرف گردن گھمائی اور ہاتھ میں پکڑا پتہ مسل کر پھینک دیا”نہیں! اس نے مجھے دھوکہ نہیں دیا تھا،اس نے مجھے ڈس اون کر دیا تھا”وہ ہراساں لہجے میں بولی”مگر! یہ سب یکدم نہیں ہو گیا تھا  ملیحہ!! آہستہ آہستہ! جب میں اس کی محبت پر ایمان لے آئی، اس کے دکھائے آئینے میں من پسند شبیہہ دیکھنے کی عادی ہو گئی  ۔ اس کی توجہ، فیاضی اور محبت کے ابر کرم کی پھواروں کو حق سمجھ کر وصولنے لگی اور جس دن میں نے اس ساحر کو اپنے ذہن و دل کے کلی اختیارات سونپ دئیے،اور اپنی ذات کو قفل لگا کر کنجی اس کے قدموں میں رکھ دی، اسی دن میری ذات کی تباہی کی الٹی گنتی شروع ہو گئی۔”

وہ سانس لینے کو رکی، کچھ دیر انگلی میں موجود انگوٹھی گھماتے ہوئے جھیل کے کنارے شور کرتے پرندوں کو دیکھنے لگی۔ میری کنکریوں والی بوتل میں ایک موٹا سا چیونٹا جانے کیسے قید ہو گیا تھا اور اب وہ بوتل کی دیوار پر رینگ رہا تھا۔”یہ کچھ اوپر آ جائے تو میں بوتل کا ڈھکن ہٹا کر اسے نکال دوں گی” میں نے سوچا۔ ڈینڈلائن اب مدھم اور پھیکے لگ رہے تھے اور جھیل کی سطح پر رقصاں دائرے بناتی ہوا میپل کے درختوں میں جا بیٹھی تھی ۔ ایک آوارہ سا خیال زہن کے کسی گوشے سے جھانکنے لگا”وہ اس وقت اپنی سالگرہ کس کے ساتھ منا رہا ہو گا؟؟” اونہوں! ہٹو بھئی! یہ تمہارا مسلہ نہیں!” میں نے خود کو جھاڑ دیا اور ثمر کی آواز سے اپنے دھیان کے ڈانڈے ملانے لگی۔

“وہ دن جو محبت کے تھے، وہ تیز دھوپ میں پڑے رنگین چاک کے برادے کے رنگوں کی مانند اڑ گئے۔ یونیورسٹی کی راہداریوں میں، نہر کے بائیں کنارے کی پگڈنڈی پر اور لائبریری کے مخصوص حصے میں میرے قدم اب تنہا پڑنے لگے تھے اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کا عادی کرنے والا وہ ساحر اب مجھے یوں نظرانداز کرنے لگا تھا جیسے میرا وجود ہی نہ ہو، جیسے میں کوئی بے سایہ بھوت ہوں جسے وہ دیکھ ہی نہ پاتا ہو۔ اف! کس قدر مشکل ہوتا ہے ناں جیتے جی بھوت بن جانا؟!”وہ جھرجھری سی لے کر اپنے آپ میں مزید سمٹ گئی۔ “مجھے اس کا یوں خود کو ڈس اون کرنا سمجھ نہ آتا تھا۔ کہاں تو وہ رویہ جو کسی فوسٹر کا کسی بچے کو ایڈاپٹ کرتے ہوئے ہوتا ہے اور کہاں یہ عالم کہ میری آواز پر وہ پلٹ کر دیکھنا بھی مناسب نہ سمجھتا تھا؟ اور میرے بار بار یہ پوچھنے پر کہ آخر وہ مجھے اس بری طرح سے بے وقعت کیوں کر رہا ہے وہ اس قدر حیران ہو کر مجھے تکتا کہ میں سوال پر ہی شرمندہ ہو جاتی”میں کیا کر رہا ہوں؟؟ تم دیکھ تو رہی ہو تعلیمی مصروفیات!

آخری پراجیکٹ  چل رہا ہے اور اب ہر وقت تو میں تمہیں دستیاب نہیں ہو سکتا ناں؟؟ کسی ناخواندہ بچے کی طرح ہر وقت توجہ مت طلب کیا کرو” اس نے سگریٹ کے دھویں کے ساتھ یہ بات ہوا کے حوالے کی اور قریب سے گزرتے اپنے دوستوں کے گروپ میں شامل ہو گیا جو اس قدر “اہم تعلیمی مصروفیات” کے دنوں میں سینما، تفریح اور محفل موسیقی میں شامل ہونے کے پروگرام بنا رہے تھے۔ میں اسے جاتا دیکھتی رہی اور وہ سرد شب میرا مضحکہ اڑانے لگی جب میری سالگرہ تھی اور میری ایک جھلک پانے کے لیے وہ ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے ہاتھ میں گلاب لیے نصف شب تک میری کھڑکی کے باہر موجود رہا تھا۔ تو دراصل! بات مصروفیات کی نہیں تھی، معاملہ فقط اس کے چاہنے کا تھا ۔

ہاں! اس نے جب جو چاہا وہ کیا! وہ اپنی انا،اپنے ارادے کا مالک تھا اور مجھے مجھ سے گھسیٹ لینے کے بعد اب اس کی دلچسپی اس ٹارگٹ میں ختم ہو چکی تھی۔

جانتی ہو ملیحہ!؟ وکٹم بننے کا احساس کس قدر جان لیوا ہوتا ہے؟”اس نے یکدم مجھ سے سوال کیا اور میں جو جواب دینے کے لیے الفاظ سوچ ہی رہی تھی، اس سے پہلے ہی وہ پھر سے بولنے لگی۔” میں ایک ذہین لڑکی تھی، سو دل پہ لگی اس چوٹ کو چھپانے اور اپنی خود کی نظروں میں گرتی ساکھ بحال کرنے کی خاطر میں نے شوخ رنگوں کے ملبوسات خریدے، اپنا ہیر کٹ بدلوایا اور بالوں کا رنگ بھی تبدیل کروا لیا، کچھ دن خوب تیز خوشبوؤں میں خود کو بھگو کر بلند آہنگ قہقے لگائے اور پورے پانچ ہفتوں بعد میں نے اپنی شادی کا سرخ اور سنہری دعوت نامہ اس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔اس نے اسے تھاما،پورے اطمینان سے پڑھا اور پھر مجھے شانوں سے تھام کر اس قدر خوبصورت الفاظ میں مبارک باد دی کہ میں جو اس کی آنکھوں میں کوئی پچھتاوا،کوئی حسرت دیکھنے کی چاہ میں اتنا بڑا فیصلہ کر بیٹھی تھی ایک بار پھر سے اوندھے منہ گر پڑی اور اب کچھ اس طرح کہ میری بینائی سلب ہو گئی تھی اور سماعت مفلوج!

کسی رینگتے ہوئے مکروہ کیچڑ زدہ کینچوے کی مانند میں نے واپسی کا سفر اختیار کیا اور خود کو سزا دینے کے لیے  شادی نامی وہ طوق گلے میں لٹکا لیا جس کے بارے میں تب میرا خیال تھا کہ میرے محبت گزیدہ دل کے لیے شادی کی یہ خواب آور گولی اکسیر ثابت ہو گی۔ مگر وہ نہ ہو سکی ملیحہ!” اس نے دونوں ہاتھ اب کوٹ کی جیبوں میں ٹھونس لیے تھے اور پاوں قدرے آرام دہ انداز میں پھیلا کر وہ جھیل کو تکتے ہوئے مسلسل بولے جا رہی تھی۔ “شادی کی رات ہی مجھے پہلا دھچکہ تب لگا تھا،جب میرے شوہر کو میرے قریب آنے پر ایک سردمہر اور جامد عورت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یقین کرو ملیحہ! جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نکاح کے بول دل میں محبت پیدا کر دیتے ہیں تو یہ بالکل غیر حقیقی باتیں ہیں۔ وہ جسے میرے جسم کے اختیارات حاصل تھے وہ بیچارہ ایک ایسے کسان کی طرح محسوس کر رہا تھا جسے کسی دوسرے کی کھیتی کاٹنی پڑ رہی ہو  اور میں جو اپنے تئیں اسے خود سے الگ کر چکی تھی، اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔ خیر! گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ میں نے ایک بے قصور کو سزا سے بچانے کے لیے اپنی سردمہری پر مصنوعی گرمجوشی کے لبادے چڑھانے شروع کر دئیے اور یوں بھی اندھیرا تاثرات تو چھپا ہی لیتا ہے”! وہ زخمی سا ہنسی اور زور زور سے پاوں ہلانے لگی۔
“آہستہ آہستہ میں خوش نظر آنے کی اس اداکاری میں کامیاب ہونے لگی تھی ۔ شادی کے دو ہی سالوں کے بعد ہم نے پاکستان کو چھوڑ کر اس سرد ملک کی منجمند زمین اپنا لی  اور اس مردہ مرغابی کے آسیب نے بھی ٹھیک دو سال بعد اپنے پر تب پھڑپھڑائے تھے جب ائرپورٹ پر میں نے اس ساحر کو ایک لمبی دبلی اور دلکش عورت کے ساتھ ایک بچہ گاڑی کھینچتے دیکھا تھا  ۔ اس نے مجھے دیکھا اور گزر گیا۔ اور میں؟ مجھ پر ایک ٹرین پوری رفتار سے گزر گئی تھی  ۔ اسے بھولنے کا جو دھوکہ میں خود کو دیتی تھی، وہ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ وہ وہیں موجود تھا،جہاں روز اول سے تھا۔میری شادی،شوہر اور دس ماہ کا بیٹا! کچھ بھی مددگار ثابت نہ ہوا تھا  اور ائرپورٹ کے اس لاونج میں ایک مردہ مرغابی جانے کہاں سے آن گری تھی۔” ؟۔۔۔۔میرے سارے بدن میں ایک سرد سنناہٹ پھیلنے لگی۔”نئی سرزمین اور نئے ملک میں پہلا دھچکہ جذب کرتے ہوئے مجھے کئی ماہ لگے تھے۔ پھر نیا گھر،ماحول اور سب سے بڑھ کر ملازمت کی ذمہ داریوں نے کچھ مثبت اثرات مرتب کرنے شروع کیے  اور میں قدرے سنبھلنے لگی تھی۔ اور پھر ٹھیک اس کی سالگرہ کے دن جب میں اپنے گھر کے پاس بنی مصنوعی جھیل پر اپنے ننھے بیٹے کو بطخیں دکھا رہی تھی، ایک پھڑپھڑاتی ہوئی مرغابی وہاں آ گری اور وہ مر رہی تھی۔ میرا بیٹا خوفزدہ ہو کر میری ٹانگوں سے لپٹ کر رونے لگا تھا۔ میں اسے مرتے ہوئے دیکھتی رہی اور پھر جانے کس قوت کس احساس کے تحت میں نے اسے اٹھایا اور ایک تنہا گوشے میں دفن کرنے لگی ۔میرے وجود میں اس کے مردہ بدن کی ٹھنڈک اندر تک اتر گئی تھی۔”

آسمان پر شفق پھول رہی تھی اور ہوا نے اپنے ساتھ لائے بادلوں کو اچھی طرح پھیلا دیا تھا۔ ثمر کی داستان اب اختتام کی جانب گامزن تھی  گھر واپس آتے ہوئے بھی اس کی دم مرگ پھڑپھڑاہٹ میرے کانوں میں گونجتی رہی اور اس رات میرے شوہر کا کہنا تھا کہ شاید مجھے ہائپو تھرمیا ہو گیا ہے کہ میرا بدن اس  لیے ہی اس قدر سرد تھا۔ ہاں! جذبات کو بھی ہائپوتھرمیا ہو جاتا ہے!” اس نے مفلر کے دونوں سرے آپس میں الجھاتے ہوئے کہا اور میری طرف دیکھ  کر ہنس پڑی۔

“اور پھر ملیحہ! مردہ مرغابیاں ملنے کے اس سلسلے میں وقفہ کم ہونے لگا اور میں جان گئی کہ مجھے مردہ مرغابیوں کا وارث بنا دیا گیا ہے۔ اب تک میں اتنی مرغابیاں دفنا چکی ہوں کہ اب میرے لان میں، بیک یارڈ میں اور پارک کے اس مخصوص گوشے میں مزید کوئی مرغابی دفنانے کی جگہ نہیں رہی۔
کبھی تو یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ مجھے ان دنوں میں ملتی ہیں جب برف کے باعث زمین منجمند ہوتی ہے اور دفن کرنا ممکن نہیں رہتا تو میں اسے ایک پلاسٹک میں لپیٹ کر اپنے تہہ خانے میں پڑے ایک پرانے ریفریجٹر میں رکھ دیتی ہوں اور برف پگھلنے کے دنوں کا انتظار کرتی ہوں تا کہ اسے دفنا سکوں۔ “میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا  ڈھلتی شام،تنہائی اور ایک مردہ مرغابیوں کی وارث عورت! اف یہ علامات”! میں اندر تک لرز کر رہ گئی۔

“میں انہیں پھینک نہیں سکتی ! جیسے میں اس کی محبت کو کبھی پھینک نہ سکی اور وہ مردہ محبت اب سفید مرغابیوں کے وجود میں بہروپ بدل بدل کر میرے سامنے آن گرتی ہے  ۔ میں پھینکنے کے بجائے اسے سنبھال لیتی ہوں۔ اس کی سالگرہ کے موقع پر، اس کے اقرار محبت کے دن پر، میری سالگرہ پر۔۔ مرتی ہوئی مرغابی ملنا اب معمول ہے ملیحہ! مرغابی! جو ہجرت کا استعارہ ہے، جو نامناسب حالات اور ناسازگار موسموں میں کبھی ٹھہرتی نہیں، جب وہ مردہ ہو کر ملنے لگے تو جان لو کہ محبت کا آسیب ہجرت کرنے سے منکر ہے۔ وہ کہیں جانے والا نہیں تو پھر لو! دفناو اسے! خود کو دھوکہ دو کہ محبت فنا ہو چکی،اور اس دھوکے میں تب تک جیو،جب تک تمہیں ایک اور مردہ مرغابی مل نہیں چکتی۔”

وہ اب جانے کو اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ بالوں کو سمیٹ کر اس نے گولا سا بنا لیا اور جھک کر جوتوں کے تسمے باندھنے لگی۔ “اور اب جانتی ہو کیا ہوتا ہے؟ “وہ سیدھی ہوئی اور میں بھی اپنا سامان سمیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی  ۔میرے اعصاب شل ہو رہے تھے۔ “اب ہوتا یہ ہے کہ اپنے تئیں دفنائی ہوئی محبت کے اس دھوکے کا اثر زائل ہونے لگا ہے۔ دفتری مصروفیات میں، بچوں اور گھر کے معمولات  نمٹاتے ہوئے یا اپنے شوہر کی قربت میں محبت کے دھوکے میں مبتلا ہوتے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کی آسیبی سرگوشیاں میرے لہو کی جھیل پر مردہ مرغابیوں کے گرنے کا اشارہ دینے لگتی ہیں۔

توکہو؟ کیسے نجات پائی جائے وکٹم ہونے کے احساس سے؟ کہو کہ جب میں اسے دفنا کر لوٹتی ہوں اور اپنے باتھ روم کی بتی جلا کر مٹی سے لتھڑے ہاتھ دھونے لگتی ہوں اور آئینے میں مجھے اپنے بالوں میں ایک سفید پر اٹکا ہوا نظر آتا ہے تو کیسے نجات پائی جا سکتی ہے اس مردہ محبت کے آسیب سے؟؟

نہیں ملیحہ! ساحروں کی محبت کے آسیب سے نجات پانا ممکن نہیں۔! میں نے ہار تسلیم کر لی ہے مجھے تمام عمر مرغابیاں دفن کرنی ہیں” یکدم بادل زور سے گرجے اور موٹی موٹی سرد بوندیں گرنے لگیں

“اوہ! بارش! ” میں جیسے کسی خیال سے چونکی۔ “میں چلتی ہوں ملیحہ! امید ہے ہم دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے!”وہ میری جانب ہاتھ بڑھائے کہہ رہی تھی۔ میں نے غیر ارادی طور پر اس کا ہاتھ تھام لیا جو اس قدر سرد تھا جیسے حنوط شدہ مرغابی! اوہ! میں یہ خرافات کیوں سوچ رہی ہوں”؟ میں نے سر جھٹکا اور اپنی توجہ اس کی جانب مبذول کروا دی۔ “اس بوجھ کو اپنی سماعتوں میں جگہ دینے کا شکریہ!” وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرمی سےمسکرائی اور پلٹ کر واپسی کے راستے پر چل پڑی  ۔ میں نے دیکھا کہ اس کے کتھئی بالوں میں ایک سفید پر اٹکا ہوا تھا  ۔ سرد سنسنی میرے لہو میں چھپن چھپائی کھیلنے لگی۔ میں اسے جاتا دیکھتی رہی اور پھر جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تو میں نے جھیل کی سطح پر بنتے بارش کے دائروں کو دیکھا، گیلی چٹائی، باسکٹ اور اپنا ہیٹ اٹھایا اور کنکریوں کی بوتل میں بند مکوڑے کو باہر نکال کر گھاس پہ رکھ دیا۔

“سالگرہ مبارک!” میں دھیرے سے بڑبڑائی اور کنکریوں سے بھری بوتل پوری قوت سے جھیل میں اچھال دی۔ ایک چھپاکا سا ہوا اور پھر خاموشی چھا گئی ۔ مجھے اب یہاں کبھی نہیں آنا! میں نے زیر لب کہا اور اپنے قدم ملگجے اندھیرے میں واپسی کے لیے بڑھا دئیے اور عین اسی لمحے جب میں جھیل کی حدود سے نکلنے والی تھی، مجھے اپنے عقب میں ایک دم توڑتی پھڑپھڑاہٹ سنائی دی۔ میرالہو برف ہو گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھ سے کچھ فاصلے پر ایک سفید براق مرغابی دم توڑتے ہوئے پھڑپھڑا رہی تھی  ۔وحشت کا آسیب دانت نکوسنے لگا اور میں اندھا دھند بھاگنے لگی۔ اپنی کار تک کا راستہ میں نے ٹھوکریں کھاتے ہوئے طے کیا۔ ٹوکری،چٹائی اور میرا ہیٹ نجانے کہاں گرے کوئی خبر نہ تھی  ۔ کار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر میں نے گہرے سانس لے کر خود کو سنبھالنا چاہا

“یہ محض ایک اتفاق اور اس سنکی عورت کی باتوں کا اثر ہے” میں نے خود کو سمجھایا اور چابی لگا کر کار سٹارٹ کر دی ۔ تبھی میری نظر بیک ویو مرر پر پڑی اور میرے لہو کی جھیل پر یکے بعد دیگرے مرغابیاں مردہ ہو کر گرنے لگیں۔۔کیونکہ سامنے نظر آتے عکس میں، میرے بالوں میں بہت سے سفید پر اٹکے ہوئے آسیبی سرگوشیاں کر رہے تھے۔۔
“مردہ محبت کی مرغابیوں کے ہر وارث کے نام'”

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”محبت کی مرغابی۔۔۔مریم مجید

  1. کیا کمال ڈکشن ہے۔ ہر فریز پر رک کر واہ واہ کہنے کو دل کرتا ہے۔ خاص طور پر پاکیزہ بے لباسی تو کمال ہے۔ یوں لگتا ہے مریم صاحبہ آپ لکھنے کےلیے پیدا ہوئی ہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *