اقبال کا وحدانی نظریہ اور خودی کا روشن ستارہ

اقبال کا فلسفہ وحدانی نوعیت کا ہے۔فکر اور وجود کی وحدت ہمیشہ سے فلسفے کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اقبال نے اپنے فلسفہ خودی کے ذریعے فکر و وجود کی ثنویت کو دور کرنے کی کامیاب سعی کی۔

اقبال کے نزدیک فکر کثرتیت اور حدود سے بالاتر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کائناتی اکائیاں متناہی جب کہ فکر لامتناہی ہے۔ پھر ان میں ہم آہنگی کیسے ممکن ہے؟ اقبال اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ فکر فطرتی عناصر میں شرکت سے محدودیت کی ان دیواروں کو ریت کے گھروندوں کی طرح توڑتی ہے اور ایک اکائی کی تعمیر کرتی ہے۔ اقبال نے فکر اور زمان کے باہمی تعلق سے متعلق نہایت بلیغ اشارے کیے ہیں۔ بالائے ابدی آن وہ ہے جب سب دیواریں مسمار ہوجاتی ہیں۔ ان کے خیال میں فکر زمانی تواتر کی وجہ سے متناہیت کا تاثر دیتی ہے، مگر یہ تاثر ایک سراب ہی ہے۔ اقبال کے خیال میں فکر کا سیلِ بے پناہ جو متناہی کثرتوں میں ان کی حدبندیوں کو توڑتے ہوئے ان میں ایک وحدت پیدا کرتا ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر یہ ہوتا ہے کہ وجود کے مدارج وہی ہوجاتے ہیں جو فکر کے مدارج ہیں۔ ہیگل نے بھی فکر اور وجود کی ہم آہنگی کا فلسفہ پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق انسانی ذہن میں مطلق خود شعوری کے عمل سے گزر کر تصور ِمطلق کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یعنی فکر پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ مطلق ہی کا ایک حصہ ہے، اسی کل کا ایک جزو ہے، اسی کا ایک مظہر ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہے؟ اس کا نتیجہ ہے فردیت اور اس کی تحدیدات سے ماورا ہوکر مطلقیت تک رسائی۔ متناہیت سے لامتناہیت تک کا سفر۔ اقبال کے مطابق لامتناہی حقیقت زمان ِمسلسل سے اپنی آنکھیں دوچار کرتے ہوئے ایک مظہر کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اقبال اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ فکر ایک باطنی لامتناہی حقیقت ہے جسے زمانی تواتر سے وقوع پذیر ہونے والی تحدیدات اور فردیتوں میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔

اس حوالے سے ابنِ عربی، لائبنز اور اقبال کے درمیان بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ ابنِ عربی نے وحدت،کثرت اور فردیت کو ان کا امتیاز برقرار رکھتے ہوئے جس خوب صورتی سے وحدت کی لڑی میں پرو دیا، یہ فلسفے کی دنیا کا ایک محیر العقول واقعہ تھا جس سے مغربی فکر ابھی کوسوں دور تھی۔ اقبال نے بھی خطبات میں انفرادی خودیوں کو خودیِ مطلق کی لڑی میں پرو کر ایک کارنامہ انجام دیا ہے۔ ڈیکارٹ نے ذہن اور مادہ کی ثنویت کا جو تصور پیش کیا، اقبال اسے تسلیم نہیں کرتے۔ کانٹ نے حقیقت کو دولخت کرتے ہوئے موضوع اور معروض کی جو ثنویت پیدا کی وہ بعد میں آنے والے فلسفیوں کے لیے ایک چیلنج بن گئی۔فختے نے یہ حل نکالا کہ شے فی نفسٖہ کی جگہ ایغو کو رکھ دیا اور معروض کو موضوع میں لا بٹھایا۔ شیلنگ نے کہا کہ موضوع اور معروض ایک ہی ہستیِ مطلق سے صادر ہوتے ہیں اور ان کے تضادات وہیں رفع ہوتے ہیں۔ جب کہ ہیگل نے کہا کہ معاملہ یہ نہیں بلکہ یوں ہے کہ ہستیِ مطلق ہی بالترتیب معروض اور موضوع بن جاتے ہیں اور ہستی کے تضادات ہی تو حقیقت ہے یعنی ہستی متناقض ہے، اسے اسی طرح قبول کرو۔

اقبال کسی میکانکی عمل کے ذریعے فکر اور وجود کی دوئی کو ختم نہیں کرتے۔ان کے وجدانی شعور میں جو بات راسخ تھی وہ یہ تھی کہ مادہ اور ذہن وجود ہی کے شؤن (Modes) ہیں اور خودی کو مادے پر تفوق حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک کائنات خودیوں اور تجلیوں کا ایک نظام ہے اور انسانی خودی اس نظام میں وحدتِ وجدانی کا روشن ستارہ۔ اقبال کے نزدیک خودیِ مطلق انفرادی خودیوں کے لیے ایک ماورائی منزل اور ان میں آرزوؤں اور ارادوں کی فصل بونے والی یک قوتِ محرکہ ہے۔
نقطہ نورے کہ نامِ او خودی است
زیرِ خاکِ ما شرارِ زندگی است

Avatar
اعجازالحق اعجاز
PhD Scholar at Punjab University,Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *