• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • حسن ناصر شہید, انقلاب کے آفاقی تصور کا عاشقِ صادق

حسن ناصر شہید, انقلاب کے آفاقی تصور کا عاشقِ صادق

ستم ڈھانے والے امراء نے ہمیشہ ہی سچ بولنے اور حق کی آواز اٹھانے والوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے مگر سچائی کی آواز کو نہ دبا سکے۔ تاریخ نے شہدا کو امرکردیا اور ظالموں کو اپنے تحریری الفاظ میں نام تک شامل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ سچائی اور حق کے پروانے ہر زمانے میں موجود رہے، فہرست بہت طویل ہے، سقراط، منصور، جولیس فیوچک، ایملکار کیبرال، نکرومہ، وکٹر ہارا، حسن ناصر، نذیر عباسی اور بہت سے. یہ فہرست نہیں بلکہ عشاق کے قافلے کے روح رواں ہیں جنہوں نے ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عوامی فلاح اور نظریات کی جنگ لڑی. حکمران طبقہ کی دادا گیری کو کوئی اہمیت نہ دی اور اس جرمِ عظیم کی پاداش میں کوئے یار سے سوئے دار کی جانب گامزن ہوکر دار کی زینت بننے کو ترجیح دی.

ہمارے قافلے کا کماندار تھا ایک شخص جو حیدرآباد دکن کے امراء کے گھرانے میں پیدا ہوا، سال تھا 1928. والد صاحب ایک بڑے زمیندار تھے اور والدہ کا تو تعلق برصغیر کے سب سے بڑے جاگیردار گھرانے سے تھا. وہ نواب محسن الملک کی بیٹی تھیں. والد کا نام سید علمبردار حسین تھا اور والدہ کا زہرہ علمبردار. بچپن عیش و آرام میں گزارا، اتنا نفیس تھا ہمارا کماندار کہ کبھی ایک بار پہنا ہوا جوڑا دوبارہ نہ پہنتا تھا. اس دور میں انگریزوں کے بچوں کے ساتھ ہندوستان میں سکول کی تعلیم حاصل کی، پھر کیمبرج یونیورسٹی میں مزید تعلیم کے حصول کے لیے چلا گیا. وہاں پہ زندگی کی کایا پلٹ گئی اور چند انگریز اور دیسی طالب علموں سے ملاقات ہوئی اور رسم و راہ یارانے میں بدل گئے۔ یہ لوگ مارکسی تھے جو دنیا میں سامراجی جبر و اسبتداد کے خلاف تھے اور ایک ایسے عالمی معاشرے کے قیام کے متمنی تھے جس میں کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی نہ کرے، کوئی عورت ملا راج کی بھینٹ نہ چڑھے اور زندگی تمام لوگوں کو برابر حقوق اور مواقع مہیا کرے. اس کے دل کو یہ نظریات بھا گئے، اب جب واپسی ہوئی تو یہ امیر گھرانے کا چشم و چراغ مختلف انسان بن چکا تھا جو بے زمین کسانوں میں بیٹھتا ان کے مسائل جہاں تک ہوتے حل کرواتا. جہاں ظلم ہوتا محروم طبقات کے ساتھ کھڑا ہوکر اپنے ہی طبقے کے لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتا۔ پہلے والا لڑکا جو کبھی ایک بار پہنا لباس زیبِ تن نہیں کرتا تھا، اب لباس کی تشہیر کرنے سے بے نیاز ہوچکا تھا۔

1943 میں تلینگانہ کی ردِ جاگیرداریت تحریک پھوٹ پڑی جس کا سبب تھا کہ وارنگل کے گرد و نواح میں ریڈی جاگیرداروں کا راج تھا۔ اس علاقہ میں نظام حیدرآباد کی علمداری نہ ہونے کے برابر تھی اور اصل طاقت جاگیردار طبقے کے پاس تھی۔ رام چندرا نامی ریڈی جاگیردار نے کاٹکلی لاما نامی خاتون جو راجاکا قبیلے سے تعلق رکھتی تھی، اس کی چار ایکڑ زمین پہ قبضہ کرلیا. اس غاصبانہ عمل کے خلاف خاتون نے آواز اٹھائی اور یہ تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ اس تحریک کو منظم کرنے میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے بنیادی کردار ادا کیا اور جاگیرداروں سے زمینیں چھین کر چار لاکھ بے زمین کسانوں میں تقسیم کردی. اس سے بااثر طبقات کے مفادات اور اتھارٹی کو زک پہنچی اور ریاستی پولیس اور رضاکار فورس نے نظام حیدرآباد کے حکم سے لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا. لوگ مکمل منظم ہوچکے تھے اور ہمارا کماندار ایک عظیم انقلابی شاعر مخدوم محی الدین کے ساتھ مسلح جدوجہد میں مصروف تھا۔ آخر جدوجہد رنگ لائی ریاستی پولیس اور رضا کار ملیشیا کو شکست ہوئی اور تین ہزار گاوں میں کمیون سسٹم جیسا نظام نافذ ہوگیا. دس لاکھ ایکڑ زمین بے زمین ہاریوں میں تقسیم کی گئی اور جاگیرداروں کے چنگل سے لوگوں کو آزادی نصیب ہوئی. اسی تحریک نے نظام حیدرآباد کی بادشاہی حکومت کو گرا دیا اور 1952 میں کمیونسٹ پارٹی بھاری اکثریت سے آندھرا پردیش میں کامیاب ہوئی.

تقسیم کا عمل ہوا، لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دونوں ملکوں پہ سامراجی گماشتہ حکمران مسلط کردئیے گئے. ہمارے کماندار کا پورا خاندان ہندوستان میں ہی سکونت پذیر رہا مگر جس شخص کی رگوں میں خون کی بجائے انقلاب رواں ہو اسے سکون کہاں؟ وہ توویسے بھی ایک آزاد روح تھا جو محلات کو چھوڑ کر کچی آبادیوں کا مکین بن گیا. جس کا غم تمام غریب لوگوں کی بھوک اور افلاس ہوتا تھا. 1949 میں وہ پاکستان آگیا اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کا ممبر بنا، راولپنڈی سازش کیس میں دو ماہ جیل کاٹ کر آیا. کراچی میں جب آمد ہوئی تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ کسی اچھے علاقے میں گھر لے لیا جائے مگر اس درویش منش آزاد مرد حریت نے سولجر بازار کا انتخاب کیا، اس کے بقول یہ پاکستان کا سٹالن گراڈ ہے اور یہ نام اتنا مشہور ہوا کہ ضیا کے دور ظلمت تک اس علاقے کے باسی کسی کو اپنے علاقے کا نام بتاتے تو سٹالن گراڈ بتاتے. سولجر بازار مزدوروں کی گنجان آباد بستی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے لالو کھیت کو پاکستان کا ویت نام کہا جاتا ہے.

ہمارے کماندار نے کمیونسٹ پارٹی کا کام شروع کردیا، ٹریڈ یونین کی تشکیل کروانا شروع کی اور کراچی کی تمام بڑی فیکٹریوں ڈالمیا گروپ، رابرٹسن گروپ میں یونین سازی کروائی۔ 1951 میں مزدور یونین نے اجرتوں میں اضافے کے لیے ہڑتال کی تو ہمارا سجیلا کماندار ہڑتال میں شامل تھا، جیسے ہی سرخ درانتی ہتھوڑے سے مزین پرچم لہراتا دیکھا، فرط جذبات سے آنکھوں میں نمی آگئی اور کہنے لگا کہ اب انقلاب زیادہ دور نہیں۔اس ہڑتال میں یونین راہنماوں نے غداری کی اور پیچھے ہٹ گئے۔ مزدور کاز کو کافی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے کافی لوگ بددل ہوئے۔ اس موقع پہ ہمارے کمانڈر نے کہا کہ ہمارا مقصد یونین پہ قبضہ کرنا نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اشتراکیت کے بارے میں شعور دینا ہے.

ہمارا کماندار دلیر آدمی تھا مگر حکمتِ عملی کا دامن بھی کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا. سوبھو گیان چندانی جو کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے بانیوں میں سے ہیں، فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم تین چار پارٹی کے ارکان اکٹھے ہی کراچی میں رکشے پر محوِ سفر تھے، حسن ناصر شہید نے رکشہ ڈرائیور سے بات چیت شروع کردی، اس نے اپنے دکھڑے سنائے، ہمارے کماندار نے اسے اشتراکیت کے تحت سمجھانا شروع کردیا اور عام فہم زبان میں اتنا بہتر طریقے سے وضاحت کی کہ وہ گرویدہ ہوگیا۔ رکشہ ڈرائیور پٹھان تھا، وہ کہتا کہ صاحب آپکی باتیں سچی اور کھری ہیں، آپ برائے مہربانی ہم رکشہ ڈرائیوروں کے پاس آکر ان کو ان باتوں کے بارے میں بتاو۔ ہمارے کماندار نے آنے کی حامی بھرلی، سفر کے اختتام پہ جب کرایہ کی بابت پوچھا گیا تو ڈرائیور نے کرایہ لینے سے انکار کردیا مگر ہمارے کماندار نے زبردستی اسے پیسے دیے اور کچھ دنوں بعد سے رکشے یونین کی تنظیم سازی کروائی.

دوسری بار 1955 میں گرفتاری ہوئی۔ خاندانی اثرورسوخ کے باوجود کسی سے امداد طلب نہ کی. خوددار آدمی تھا، مزدوروں اور کسانوں سے بے تحاشا محبت کرتا تھا، ان کے پاس سولجر بازار میں روزانہ جاکر بیٹھتا، ان کے درمیان سٹڈی سرکلز کا انعقاد کرواتا. جب سے ہندوستان سے آیا سب سے ناطہ توڑ لیا کیوں کہ وہ کبھی جاہ طلب اور حکمرانی کا خواب نہیں رکھتا تھا، اس کا ذہن اور کلام صرف انقلاب کے لفظ سے ہی جگمگاتے تھے.کمیونسٹ پارٹی پہ پابندی لگی، بڑی تعداد میں پکڑ دھکڑ ہوئی، ہمارا کماندار گرفتار ہوا، دو ماہ قلعہ لاہور کے سی آئی ڈی کے سیل میں ہر قسم کا تشدد سہتا رہا، پھر رہائی مل گئی.

پارٹی پہ پابندی کے بعد اردو بولنے والے کمیونسٹوں، پنجابی لیفٹسٹوں، پختون, بلوچ اور سندھی قوم پرستوں نے ایک پارٹی تشکیل دی، نام رکھا نیشنل عوامی پارٹی یا نیپ. ہمارا کماندار بھی اس میں شامل ہوگیا اور آفس سیکرٹری کے عہدے پہ کام شروع کردیا مگر اب بھی ٹریڈ یونین کی تشکیل اور پھیلاو میں مکمل طور پر ہمہ تن گوش تھا. مارشل لا کا 1958 میں نفاذ ہوا، ایوب خان کی آمریت کا سیاہ دور شروع ہوگیا اور ہمارے کماندار نے اپنی جمہوریت کے لیے جدوجہد کا آغاز کردیا. منحرف جمال نقوی لکھتےہیں کہ ایک بار ایک ایڈمنسٹیٹر نے حسن ناصر کا ذکر ایوب کے سامنے کردیا، اس نے سخت غصے کی حالت میں انگریزی میں کہا “وہ ناہنجار کمیونسٹ کہاں ہے؟ وہ جہاں نظر آئے مار دو”. مگر ہمارا کماندار ابھی ابھی زیرِ زمین کمیونسٹ تحریک کو منظم کرنے کے لیے کوشاں تھا۔ پھر ایسا ہوا کہ کسی نے مخبری کی اور ہمارا کماندار سی آئی ڈی کے ہاتھ لگ گیا۔ کراچی سے لاہور لایا گیا اور مغل قلعہ میں قید کردیا. 13 اکتوبر 1960 کو گرفتاری عمل میں لائی گئی اور 13 نومبر کو سی آئی ڈی نے بیان دیا کہ حسن ناصر نے خودکشی کرلی، وہ بھی ایک میخ کے ساتھ آزار بند کو باندھ کر۔

میجر اسحاق محمد، جو خود بڑے کمیونسٹ لیڈر تھے، نے ہمارے کماندار کا کیس ہاتھ میں لے لیا۔ ان کا مقصد یہ خودکشی کا مکروہ داغ بہادر کماندار کی شخصیت سے ہٹانا تھا کیونکہ جانے والے کو تو لایا نہیں جاسکتا مگر تحریک کا وقار ملیامیٹ کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ ہائی کورٹ لاہور سے کیس کی شنوائی کی گئی مگر کیس کو ماتحت عدالت میں بھیج دیا گیا، جہاں این ڈی رضوی صاحب نامی مجسٹریٹ نے میجر صاحب کو اپنے اوپر سی آئی ڈی کا دباو بتایا کہ کیسے بچوں کے اغوا کی دھمکیاں دی جارہی ہیں. یہاں سے کیس کو خارج کردیا گیا۔ اب دوبارہ مقدمہ ہائی کورٹ میں لے جایا گیا اور مقتول کی لاش کے معانئے کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس سرجن نے بیان دیا کہ شہید کی گردن پر نرخرے سے نیچے رسی کا نشان تھا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ گلا گھونٹ کر مارا گیا۔ پولیس افسر ڈیوٹی، بکھا خاکروب اور کانسٹیبل شبیر حسین کے بیانات میں تضاد تھا مگر فوجی آمریت اور پولیس گردی نے حسن ناصر پہ انصاف کے دروازے بند کردئیے۔ محمود علی قصوری کہتے ہیں کہ جتنے لوگ حسن ناصر جیسے غریب الوطن انسان کے کیس کو سننے آتے تھے اتنے کسی سرمایہ دار کے لیے بھی نہیں آئے۔ بعد کے حالات و واقعات نے ثابت کردیا کہ حسن ناصر پہ بے پناہ تشدد کیا گیا مگر اس نے زبان نہ کھولی. ایک ماہ تک مسلسل اسے نیند کی گولیاں کھلا کر جگایا جاتا، بے پناہ تشدد کیا جاتا، کھڑے رکھا جاتا، برہنہ کرکے اس کی تضحیک کی جاتی، مگر مرد استقلال نے ہار ماننے سے انکار کردیا. کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فرعون کا اقتدار ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے اسے ختم ہونا اور خلق خدا کا راج آنے ہی والا ہے. ہمارے کماندار کی لاش کو نکالاگیا اور والدہ کے ذریعے اس کی شناخت کروائی گئی مگر انھوں نے لاش کو اپنے بیٹے کی لاش تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اسے وصول کیے بنا ہندوستان واپس چلی گئیں. ہمارا کماندار مر کر بھی امر ہوگیا۔ آج بھی جب کبھی عوامی ہڑتال یا مظاہرہ ہوتا ہے تو وہاں حسن ناصر شہید اور نذیر عباسی شہید کی تصاویر ہوتی ہیں اور ایوب خان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں.

Advertisements
julia rana solicitors

ہمارے کماندار حسن ناصر کی شہادت پہ ان کی والدہ نے کہا “ہر انسان کی زندگی کا اپنی ذات کے علاوہ بھی مقصد ہونا چاہیے، ورنہ وہ انسان نہیں۔ بعض مقاصد ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں جان کی بازی لگانا ہوتی ہے. میرے بیٹے کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا، میں بہت دنوں سے یہ جانتی تھی۔ کئی سال جی کڑاکیے رکھا، بالاخر وہ لمحہ آگیا جو ٹل نہیں سکتا تھا. میری بات چھوڑئیے البتہ حسن ناصر خوش قسمت تھا. اگر اپنا مقصد حاصل نہ کرپایا تو اس کے لیے جان دینے کی سعادت تو پالی۔ ” عشاق کے قافلے کا رواح رواں تھا وہ، جب بھی انقلاب کی آفاقیت کا ذکر ہوگا تو حسن ناصر، چے گیویرا، بھگت سنگھ جیسے شہدا کو نظرانداز نہیں کیا جاسکے گا. آج بھی بڑے جوش و جزبے سے حسن ناصر شہید کی برسی منائی جاتی ہے مگر ایوب خان اور آمروں کا نام لینے تک والا بھی کوئی نہیں. ضیا کا مقبرہ ویران پڑا ہے، مگر بے گور وکفن حسن ناصر کی بے نشان قبر اور افکار سب پہ واضح اور مقدم ہیں. وہ زندہ ہے اور تب تک رہےگا جب تک انقلاب کی صدا زندہ رہے گی…
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے…

Facebook Comments

ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply