• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بغداد کا کچھ احوال اور میاں نواز شریف کی صدام سے ملاقات

بغداد کا کچھ احوال اور میاں نواز شریف کی صدام سے ملاقات

میں جس گھر کے سامنے کھڑی تھی وہ میرے حسابوں بمشکل دس مرلے میں ہوگا۔سیاہ گیٹ جانے کب کا پینٹ شدہ تھا۔کھُجور کااکلوتا درخت،پودینے کی چھوٹی سی کیاری, تھوڑی سی گھاس اور دیوار پر چڑھی پیلے پھولوں والی بیل دو بالشت کے لان میں نظر آتی تھی۔مغرب سے ذرا پہلے کا کھُلا کھُلا سماں اِن دو رویہ گھروں کی گلی پر پھیلا ویسا نہ دِکھتا تھا جیسا میں باہر دیکھتی آرہی تھی۔مین سڑک سے اُتر کر دائیں بائیں مڑتی گلیوں میں مجھے ایک بھی گھر ایسا نظر نہیں آیا تھا جس کی تازگی نے مجھے متوجہ کیا ہو۔
بہت کشادہ خوبصورت شاہراہ فلسطین سے بیروت سکوائر میں آئے علی درس Ali Dris کا علاقہ۔یہاں سے چار چھوٹی سڑکیں چھوڑیں۔ پانچویں میں گھر تھا۔

بڑی سڑکوں کو چھوڑ کر اندر کی سڑکیں کچھ اتنی اچھی حالت میں نہ تھیں۔صفائی ستھرائی بھی ایسی ہی تھی۔کاغذوں کے ٹکڑے یہاں وہا ں اڑتے پھرتے تھے۔چھوٹے موٹے کنکر پتھر ،پھلوں کے چھلکے فٹ پاتھوں کی بغلوں میں گھسے پڑے اور سفید و سیاہ شاپر کی لام ڈوریاں طبعیت پر کوفت کے سے تاثر چھوڑتی تھیں۔

صدام کے زمانے میں صفائی کا معیار بہت اُونچا تھا۔چھوٹی بڑی شاہراہیں اور گلی کوچوں کی صفائی رات کو ہوتی تھی۔صُبح ہر چیز چمکتی تھی۔
میں نے حیرت سے افلاق کی اِس بات کو سُنتے ہوئے کہا تھا۔ ”کمال ہے۔“

دروازہ کھُلا۔۔ذرا بھاری بھر کم کھِلتے رنگ والا کوئی چالیس،بتالیس  کے ہیر پھیرمیں سفید توپ پہنے جو آدمی باہر نکلا تھا افلاق سے بوس و کنار کی فراغت کے بعد میری طرف اھلاََ وسہلاََ و مرحبا کہتے ہوئے مصافحہ کیلئے بڑھا وہ اسمعٰیل مہدی تھا۔سادہ سا،مخلص سا،افلاق کے کالج میں اکنامکس کا اُستاد تھا۔

ڈرائنگ روم زیادہ بڑا نہ تھا۔مکین کی طرح سادہ۔صرف ایک صوفہ،اطراف میں رکھی چار کرسیاں، درمیان میں پڑی ایک تپائی۔ ہاں البتہ کمرے میں تین چیزیں بڑی نمایاں تھیں۔کتابوں کی الماری، دیوار پر ٹنگی واحد بڑی سی تصویراور کارنس پر دھرا ریکارڈ پلئیر۔

ایک پاکستانی خاتون کے عراق اور خاص طور پر اُن سے ملنے کے لئے ان کے گھر آنے پر مشکور ہونے کا گہرا احساس ان کے لہجے میں بہت نمایاں ہو کرمیرے سامنے آیا تھا۔
صاحب خانہ عقبی دروازے سے غالباً اندر گئے۔مگر ہوا یہ کہ جانے سے قبل کارنس پر دھرے ٹیپ ریکارڈ کا بٹن آن کرتے گئے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کمرہ آناً فاناًاپنایت اور مانوسیت کی میٹھی سی خوشبو سے بھر گیا ہے۔میں نے افلاق کو مسکراتی آنکھوں اور ہونٹوں سے دیکھا۔جواباً وہ بھی ہنس پڑا۔
لگتا ہے سارا عراق Give me love کے
Songs of the broken hearted Baghdad کا عاشق ہوا پڑا ہے۔“
”دراصل ہمارے قدیمی کلچر کی نمائندگی کرتی اِس پرانی شراب میں نئی کی آمیزش ہو گئی ہے۔اب ایسے میں نشہ تو دو چند ہو جاتا ہے نا۔“

اس کی بات تو ٹھیک تھی۔
سچ تو یہ تھا کہ میں تو خود افیون کی گولی کی طرح ان کی عادی ہورہی تھی۔آج میرا چوتھا دن تھا اور اس کے ہزار ریکارڈزمیں سے چار پانچ کو لگاتار سُن رہی تھی۔سلم داؤد Salim Dawood،سید الکردی،بدریہ انور، سلطانہ یوسف اور سید عبود۔
سلطانہ یوسف ہماری طاہرہ سید کی طرح پہاڑی لہجے کی گلوکارہ تھی۔پاٹ دار آواز مگر سید عبودکی کیا بات تھی۔

تو میں اُس گھر میں واپس آتی ہوں جہاں افلاق مجھے لایا تھا۔
میرے لیے صوفے پر بیٹھنا محال ہورہا تھا۔کہ دیوار پر آویزاں غیر معمولی پنٹینگ جیسے مجھے قریب آنے کیلئے بلا رہی تھی۔میں اُسے دیکھنے کیلئے اس کے پاس جا کھڑی ہوئی۔کس قدر اثر انگیز تھی یہ۔ عراق کے دلدلی علاقے کی تھی۔ جہاں حدِّ نظر پانیوں کا پھیلاؤ تھا۔ اُن پانیوں پر اُڑتے آبی پرندوں کی قطاریں تھیں۔شام کا سورج پانیوں پر ایک طویل ترچھا راستہ بنا رہا تھا۔ایسا فنکاری سے بھرا ہوا جیسے کسی سُنار نے سونے میں ڈھال کر سجا دیا ہو۔
کشتی میں کھڑا عراقی چوبی ڈانگ سے سر کنڈوں میں جانے کیا چیز کھوج رہا تھا۔ذرا دور اُس کا گھر تھا۔کہہ لیجئے  اُسکا جھونپڑا تھا۔پر کیا کمال کا تھا؟

تصویر میں میری محویت دیکھتے ہوئے اسمٰعیل میرے پاس آکر کھڑے ہو گئے تھے۔بتانے لگے۔یہ سر کنڈوں، نرسلوں، پپائیرسPapyrus(ایک درخت جسکی چھال کاغذ جیسی ہوتی ہے) مٹی اور کولتار سے بنتا ہے۔
جو گھر میرے سامنے تھا اُس کا باہر اور اندر آرٹ کا ایک دلا آویز شاہکار تھا۔ چلو باہر سے جو بُنت کاری تھی سو تھی پر اندرونی تو اِس درجہ کمال کی کہ بے اختیار اُسے دیکھتے رہنے کو دل چاہ رہا تھا۔تھوڑے تھوڑے فاصلے سے نیم قوسی دائرے جو دراصل اِس مارشی گھر کو سپورٹ دیتے تھے۔ زمین سے چھت تک ان کے درمیان لگے سرکنڈوں کی کیا ڈیزائن داری تھی۔یہ محراب در محراب ایک وسیع و عریض سرنگ کی طرح دُور تک جاتا ہوا ایسا راستہ تھا جسکے فرش پر بچھی نرسلوں سے بنی مضبوط چٹائیوں پر بیٹھے افراد خانہ صدیوں پرانی کسی تہذیب کا حصّہ نظر آتے تھے۔
”میں یہاں نہیں جا سکتی ہوں۔“
میرے اِن چھ لفظی جُملے میں بہت سے معانی پوشیدہ تھے۔حالات کی نزاکت کا اگر اعتراف تھا تو وہیں اُس کے ساتھ ساتھ ایک سوال بھی “حسرت “جیسی خواہش میں لپٹا ہوا۔
جُملہ کہہ کر میں نے اُس مہربان میزبان کودیکھا تھا اس امید پر کہ وہ کہے نہیں یہاں تو آپ جا سکتی ہیں۔

اُس نے کُرسی پر بیٹھتے ہوئے مُنی چُنی سی شیشے کی گلاسی میں چھوٹی سی سٹیل کی چائے دانی سے قہوہ انڈیلتے ہوئے کہا تھا جو دس بارہ سال کا لڑکا ابھی رکھ کر گیا تھا۔
”آئیے قہوہ لیں۔“
میں نے کڑوے قہوے کا چھوٹا سا سِپ لیتے ہوئے امید بھری نظروں سے پھر اس کی طرف دیکھا تھا۔
”بصرہ میں تو بہت سختی ہے۔“
لمبی سی آہ یاس میں لپٹی ہوئی اسمٰعیل کے لبوں سے نکلی تھی۔
”بصرہ تو برطانیہ کی ہمیشہ سے کمزوری تھا۔اب باقی بھی مل گئے ہیں۔انہیں بھی بہت پسند ہے۔چپّے چپّے پر بیٹھے ہیں۔ ناصریہ میں بھی صورت کچھ اتنی حوصلہ افزا نہیں۔یوں اگر چلی بھی جائیں تو راستے میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں پر جانچ پڑتال۔سوال جواب کے لمبے سلسلے۔چیبشChebayish ناصریہ سے کوئی سو کلومیٹر ہے وہاں سے پھر کشتیوں پر دلدلی علاقوں کا سفر ہے۔سر دست جانا خطرے سے خالی نہیں۔

انہوں نے پاکستان کے بارے میں پوچھا تھا۔کاش میرے پاس کوئی فخر سے بھرا جملہ ہوتا۔مایوسی اور دُکھ میں ڈوبے احساسات۔
”دراصل ترقی پذیر ملکوں کی قیادت اگر غیر معمولی فہم و فراست اوروژن کی مالک نہ ہو تو ملک آگے جانے کی بجائے سو سال پیچھے چلے جاتے ہیں۔ہمارے تو وہم و گمان میں  بھی نہیں تھا کہ جنہیں ہم دیس نکالا دے چکے ہیں وہ بد بخت پھر ہم پر حاوی ہو جائیں گے۔عراقیوں کو ہمیشہ سے اپنے قبیلے،اپنی قوم،اپنی تہذیب،اپنی شناخت اور اپنے مُلک پر فخر رہا ہے۔“

”صدام کو اس منظر نامے پر کہاں رکھتے ہیں؟“
”دنیا ئے عرب کا لیڈر بننے کا شوق لے بیٹھا۔اپنی ذات کے بُت کوخدا بنا دیناچاہتاتھا۔گھروں،گلیوں،کوچوں،سڑکوں،بازاروں،چوراہوں،دوکانوں،دفتروں میں تصویریں سجا دینا کوئی کارنامہ نہیں اگر یہ دلوں میں نہ لگیں۔ناصر بننے کاخواہاں تھا۔یوں کچھ انتظامی معاملات میں بہتر تھا۔جوڑ توڑ میں بھی ماہر تھا۔دونوں بڑی طاقتوں سے اپنے اقتدارکو پکاّ کرنے کیلئے سیاست کرتا رہا۔اُن کا آلہ کار بھی بنا۔بہرحال سیاسی دانشوری سے خالی تھا۔“

تبھی ایک اونچی لمبی گوری چٹی موٹی تازی خاتون کمرے میں آئیں۔بڑی خوبصورت سی بچی نے ماں کا بازو تھاما ہوا تھا۔عمر یہی کوئی آٹھ نو سال ہوگی۔تعاقب میں بیٹا بھی تھا۔وہ کوئی دس بارہ کا ہوگا۔ میں فی الفور ان کی طرف متوجہ ہوئی۔میری توقع اور خیال کے مطابق وہ خوبصورت تو تھیں مگر جس حد تک ماڈرن تھیں اُس کا مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ میں تو اِن دنوں گلیوں بازاروں میں سیا ہ عباؤں میں ڈھکی ڈھکائی عورتوں کو ہی دیکھتی تھی۔کہیں کوئی ٹانواں ٹانواں سا دانہ مغربی لباس میں نظر آتا تھا۔نہرین اسمٰعیل شوخ چھوٹے چھوٹے گلابی پھولوں والا سکرٹ پہنے تھیں۔ٹانگیں ننگی اور پاؤں میں عام سی چپل تھی۔گلے میں موٹے موٹے چمکدار موتیوں والا ہار تھا جو سینے پر لوٹنیاں لگاتا ناف کو چھوتا تھا۔بال شانوں تک کٹے تھے۔

خاتون متاسف سی تھیں کہ افلاق نے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں محسوس کی۔انہیں آج رات کسی کے ہاں کھانے پر جانا تھا۔اب وہ اِسے ملتوی بھی نہیں کر سکتی ہیں۔
”ارے آپ ذرہ برابر محسوس نہ کریں۔یہ جو اتنی سی ملاقات ہوگئی ہے میرے لیے یہ بھی بہت اہم ہے۔“
میں نے فی الفور دلداری کرنا ضروری سمجھا تھا
وہ مجھ سے وعدہ لینا چاہتی تھیں کہ میں دوبارہ چکر لگاؤں۔
”لیجئیے یہ تو وہی بات ہوگئی کہ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔آپ جتنی بار کہیں گی میں آؤں گی۔میرے لیئے اِس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوگی۔“

نہرین اسمٰعیل ڈگری کالج میں اکاؤنٹس پڑھاتی تھیں۔بہت اچھی انگریزی بولتی تھیں  اور بہت خوش اخلاق بھی تھیں۔
اچھی سی چائے پلانے کیلئے جب وہ اجازت لے رہی تھیں۔میں نے ہاتھ تھام لیاتھا۔
”چائے تو پی لی ہے۔ چائے سے زیادہ آپ کا بیٹھنا اور باتیں کرنا ضروری ہے۔“
”بس ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔“ کہتے چلی گئی۔ عرب علاقوں میں چائے میں دودھ ڈالنے کا رواج نہیں۔
” ایران عراق اورخلیجی جنگیں کیا ناگزیر تھیں؟کیوں ہوئیں آخر یہ؟
ایران عراق جنگ کی میرے خیال میں پہلی اور ٹھوس وجہ تو عرب دنیا میں ناصر کی طرح صدام کا اپنے نام کا جھنڈا گاڑنے کی شدیدخواہش تھی۔دوسرے خمینی کی عراق کی بعث پارٹی پر لعن طعن اور آئے دن کی پھٹکار تھی۔ تیسری اہم اور بڑی وجہ امریکہ کی انقلاب ایران کو ناکام بنانے کی خواہش کی اسیر تھی۔

عراق ایران جنگ نے اقتصادی طور پر عراق کو بہت متاثر کیا تھا۔صدام تیل کی  قیمتوں پر مذاکرات چاہتا تھا مگر کویت تیار نہیں تھا۔سعودی عرب بات کرنے کیلئے آمادہ نہ تھا۔
کویت اوپیک OPEC کو بھی دھوکہ دے رہا تھا۔یہ بات بھی اپنی جگہ درست تھی کہ کویتی صبا خاندان سے خوش بھی نہیں تھے۔
خلیجی جنگ میں البتہ کویت اور سعودی عرب کے ساتھ تیل کے تنازعات کوحل نہ کرسکنے کی وجوہات نمایاں تھیں۔ یوں یہ بات تقریباً ہر عراقی کے ذہن میں ہے کہ کویت ہمیشہ سے عراق کا حصّہ تھا۔مگردراصل کویتی شیخوں کی دولت سے برطانیہ کے بینک کالے ہوئے پڑے ہیں۔ وہ کویت کے معاملے میں بہت حساس تھا۔ عراق کی جانب سے پیش کردہ سب مطالبات کویت نے ردّ کر دئیے۔ صلح صفائی کی سعودی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔

اب یہاں ایک زیرک حکمران کو سوچنے کی ضرورت تھی کہ انگشتِ شہادت کی پورجتنا کویت اور وہ ایسی سرکشی پراترا ہوا ہے تو کچھ دال میں کالا کالا ہے۔یوں بھی صدر آئزن ہاور سے بش سینئر جونئیر تک سبھی امریکی صدور کے خلیجی عزائم گہرے اور خطرناک رہے ہیں۔ اوپر سے ماشاء اللہ متحدہ امارات کے شیخ خاندانوں کا طرز عمل کہ جنہیں تیل کی
آمدنی نے عیاشیوں میں مبتلا کررکھا ہے۔ان کے حسابوں یار لوگوں کو دانہ دنکا ملتا رہے باقی گھر چور اُچکّے لوٹ کر لے جانا چاہیں سو بسم اللہ لے جاہیں۔
صدام کی طرف سے امریکی سفیر اپریل گلاس پائی کو باقاعدہ سندیسہ بھیجا، اس کے اعزاز میں دعوت سجائی۔دونوں بیٹھے۔گلاس پائی خرانٹ سفارت کار۔کمرے میں تیسرا بندہ نہ تھا۔ مترجم بھی نہیں کہ خیر سے وہ خود فر فر عربی بولتی تھی۔اُس نے اطمینان سے صدام کے سارے شکوے شکایات سُنے۔سر ہلایا اور کہا وہ سمجھتی ہے سب جانتی ہے دراصل اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ چاہتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے تنازعات خود طے کریں۔

اذان تو مل گیا۔2اگست1990 کو کویت اور تیل کی تنصیبات پر قبضہ ہو گیا۔ پر اس قبضے میں جو تباہی اور مار دھاڑ ہوئی وہ ایک الگ داستان۔ہزاروں فلسطینی،ہزاروں ایشیائی، یورپی، دیگر قوموں کے لوگ خالی ہاتھ اوربے سرو سامانی میں نکلے۔
مجھے یاد آیا تھا۔میرے دور پار کے عزیزوں کا ایک بیٹا جو کویت میں سالہا سال سے مقیم تھا اور جس نے وہاں کسی سکھ خاتون سے شادی کررکھی تھی۔اُس کے پاس کتنی درد ناک المیہ کہانیاں تھیں۔
اسی پر اکتفا نہ ہوا۔سعودی عرب کی سرحد پر 60000 فوجوں کو لا کھڑا کیا۔اور جب وہ تاریخ دیتے تھے کہ میاں فوجیں نکال لو اپنی۔تو عقل کرو۔نکل آؤ۔آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم میں اپنے فوجی اور سول کوئی85000 لوگوں کو مروا دیا۔اور پھر کویت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔جنگ بندی بھی قبول کر لی۔اسی کو کہتے ہیں نا پتھر چاٹ کر مڑنا۔اب اگر کہیں سیاسی، ذہنی افق کی وسعت ہوتی تو صبا خاندان کی غیر مقبولیت سے فائدہ اٹھایا جاتا اور فوری انتخابات کے ذریعے ایک حکومت تشکیل دے کر کویتیوں کی ہمدردی حاصل کر لی جاتی۔

یقین جانیے! انہوں نے تاسف سے لبریز لمبی سانس لی۔ مہم نے کامیاب اور مغرب نے منہ دیکھتے رہ جانا تھا۔مگر ایسا کیوں ہوتا؟اپنے ملک میں جو ڈکٹیر شپ قائم کر رکھی ہوئی تھی اُس کا کیا بنتا؟
مجھے اپنے حکمرانوں کی حماقتیں یاد آ رہی تھیں کیسے اُنہوں نے ملک اور قوم کو دو لخت کیااور ابھی بھی مُلک کا بیڑہ غرق کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
بچے نے آکر کچھ کہا تھا وہ اٹھ کر اندر گئے۔میں کتابوں کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
میں انوکھی سی مسرت سے ہم کنار ہوئی تھی۔ تالہ نہیں تھا۔ الماری کے پٹ میں نے کھول لیے ۔شیلف عربی شعرا سے بھرے ہوئے تھے۔ مجھے افسوس ہوا۔میرے پلے کیا پڑنا تھا۔کاش میں نے کہیں قرآن ترجمے سے ہی پڑھا ہوتا تو شاید درد و سوز میں ڈوبی اِس شاعری کو کچھ نہ کچھ تو سمجھ لیتی۔
مگر اتنا ضرور تھا کہ میں اِن سبھوں سے تھوڑی بہت واقف ضرور تھی۔دوسری زبانوں کے توسط سے ہی سہی۔پر یہ میرے لئیے اجنبی نہ تھے۔ احمد ابن حسین المتنابیMutanabbi، عبدلوہاب۔سعدی یوسف،مظفرالنواب،جمیل صدقی الزاہوی، شام کا انقلابی شاعر اور دل کو چُھو لینے والی شاعری کا خالق نزّار قبانی اورمحمد العبیدی جیسے وہاں ستاروں کی طرح چمک رہے تھے۔

افلاق بتاتا تھا۔سعدی یوسف اور ابن الحسین المتنابی دونوں میسو پوٹیمیا کے شاعر ہیں۔دسویں صدی کا کوفی شاعر ابن الحسین المتنابی جس کا اپنی شاعری کی طاقت اور اس کی تاثیر کے بارے میں دعوٰی تھا کہ اِسے اندھے پڑھ سکتے ہیں اور بہرے سُن سکتے ہیں۔
اور میں جب اس کی صداقت کے بارے میں پُوچھتی تھی اسمٰعیل کمرے میں داخل ہوئے تھے اور اُنکا کلام میرے ہاتھوں میں دیکھ کر بولے تھے۔
”بہت پُر اثر کلام ہے۔انہوں نے شاعری کی ہرصنف رومانوی،غزل،قطع اور مزاحیہ میں دلاآویز رنگ جمائے تھے۔

اِس قوم کی کیسے مٹی پلید ہوتی رہی ہے۔ اِس دُکھ کا اظہار اگر عام عراقیوں کے لبوں پر ہے تو ہمارے جیالے شاعروں نے بھی اپنے اور ہمارے احساسات و جذبات کوکھُل کر زبان دی ہے۔
سعدی تو گزشتہ اور اس صدی کا جلا وطن شاعر ہے۔جلاوطنی کا کرب اپنی جگہ مگر سمجھوتہ نہیں۔وطن کی یاد میں مظفر النواب کیسے اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہے؟

میری قسمت کسی پنچھی جیسی ہے
میرا دل سلطان کے محل میں گروی پڑا ہو
تو یہ کبھی گوارا نہ ہوا
پر اے خدا پرندے بھی گھروں کو لوٹتے ہیں

صدام بھلے اُس سے،سعدی یوسف اور اِن جیسے اوروں کی شُعلہ بیانی اور باغیانہ شاعری سے الرجک تھا پھربھی وہ انہیں لکھتا مانتا اور اعتراف کرتا تھا کہ وہ عراق کا قیمتی سرمایہ ہیں۔مشاعروں میں ان کی شرکت کا متمنی رہتا تھا۔ان جلاوطن شاعروں کو پیغام بھیجتا تھا کہ آؤعراق تمہارا منتظر ہے۔

مگر یہ اکیسویں صدی کا چنگیز جو ہمیں اُس ظالم کے چُنگل سے آزاد کروانے آیا تھا۔ اُس نے جن نا پسندیدہ افراد کی عراق داخلے پر پابندی لگائی ہے اُن میں سعدی یوسف بھی ہیں۔
امریکہ اور برطانیہ تو اپنے شوق پورے کر چکے تھے اقوامِ متحدہ کی کسر باقی تھی۔سو اُس نے اقتصادی،تجارتی،دفاعی اور عسکری پابندیاں لگا کر ہمیں ایک سو سال پیچھے پہنچا دیا۔
امریکہ اور برطانیہ ہمارے تین لاکھ سے زائد معصوم بچوں کے قاتل ہیں۔میں نے بڑوں کی گنتی نہیں کی۔ ہاں اسپتالوں میں جانا نہ بھولیں۔

چائے کی لڑالی  آگئی تھی۔چائے کے نام پر تو وہی کڑوا کسیلا قہوہ ہی تھا پر ساتھ میں ایک پلیٹ میں کجھوریں تھیں۔مغز اخروٹ میں گندھی ہوئیں۔کیا مزے کی چیز تھی۔
”یہ بغدادکی خاص الخاص زہدی کجھور ہے جسکی پیٹ بھرائی نہرین نے گھر پر کی۔ قہوے کا کسیلا پن اور کڑواہٹ ہونٹ بھول گئے تھے۔

میرے اِس سوال پر کہ دو جنگوں اور عالمی پابندیوں کے باوجود صدام نے مُلک کو بہت سرعت سے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا تھا۔اس میں کِس حد تک حقیقت ہے؟
انہوں نے طویل سانس کھینچ کر کہا تھا۔”کہتے ہیں۔بیوقوف دوست سے دانا دشمن اچھا ہوتا ہے۔میں اِسے کریڈٹ نہیں دیتا۔پہلے بگاڑ لو پھر پھرتیوں سے سنوار لو۔ ایک اچھا لیڈر بحران سے قوم کو سلامتی سے نکالتا ہے۔ویسے کِسی حد تک یہ درست ہے۔صدام کی شخصیت میں کچھ غیر معمولی عناصر تو تھے نا اور مغرب کو اس پر تعجب بھی تھا اور حیرت بھی۔شاید یہ اِسی کی سزا ہے کہ اتنی پابندیوں کے باوجود انہوں نے دیکھا کہ یہ تو ابھی بھی زندہ ہے۔اسے زمین میں گاڑو۔“

رخصت ہونے سے قبل میں اندر گئی کہ خاتون خانہ سے مل لوں۔دو بیڈروم کا گھر۔ عراقی گھروں میں زمین پر بچھے قالینوں پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔بڑے سائز کے خوش رنگ قالینوں اور پھولوں نے سادے سے کمرے سجا رکھے تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *