• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • “ضبطِ غصہ” (قرآن مجید احادیث اور ماہرین نفسیات کی آرا ء کی روشنی میں)

“ضبطِ غصہ” (قرآن مجید احادیث اور ماہرین نفسیات کی آرا ء کی روشنی میں)

اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔
قرآن مجید میں غصہ نہ کرنے اور معاف کر دینے کی فضیلت کا بیان:

1) وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ﴿الشوری آیت نمبر 37﴾
ترجمہ : اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں

غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد تو عموماًً لوگ معاف کر دیتے ہیں لیکن اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے اہلِ ایمان کی صفات میں سے اہم صفت یہ بیان کی ہے وہ حالتِ غضب میں معاف کرتے ہیں جو بہت ہمت اور جراءت کا کام ہوتا ہے۔ بلند ہمت اور بلند حوصلہ لوگ ہی اس شان کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں پر بھی شفقت کرتے ہیں
اس آیتِ مبارکہ کے شانِ نزول میں علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالک قرطبی متوفی 668ھ نے حسبِ ذیل اقوال نقل کیے ہیں
1۔یہ آیت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے جب انہیں مکہ میں گالیاں دی گئیں اور انہوں نے اس پر صبر کیا۔
2۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب اپنا سارا مال راہِ خُدا میں خرچ کر دیا تو لوگوں نے اس پر انہیں ملامت کی اور بُرا کہا تو انہوں اس پر صبرکیا
3۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس مال جمع ہو گیا ، انہوں نے وہ سب مال نیکی کے رستے میں خرچ کر دیا مسلمانوں نے ان کو ملامت کی اور کفار نے ان کی خطا نکالی جس پر یہ آیات نازل ہوہیں
2) الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿سوره آل عمران آیت نمبر 134﴾
ترجمہ : وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں،
برائی کے عوض بھلائی کرنا جودوکرم ہے اور بھلائی کے عوض برائی کرنا خباثت ہے۔ اس آیت میں جودو کرم کا ذکر ہے کہ اللہ کے محبوب و محسنین کا یہ وصف قرآن نے بیان کیا ہے کہ وہ غصے کو پی جاتے ہیں اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں انسان جو کسی پر غضب ناک ہوتا ہے تو دراصل یہ شیطان کے وسوسے کی وجہ سے ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ جب اسے کسی بات پر غصہ آئے تو وہ اپنے غصہ کو ضبط کرے اور جس پر غصہ آیا ہے اسکو معاف کر دے

"غصہ ضبط کرنے کی فضیلت میں احادیث"

1۔ سلیمان بن صدور رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وا لہ وسلم کے سامنے دو آدمی ایک دوسرے سے لڑے ان میں سے ایک غضب ناک ہوا اسکا چہرہ سرخ ہو گیا اور اسکی گردن کی رگیں پھول گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی طرف دیکھ کر فرمایا مجھے ایک ایسے جملے کا علم ہے کہ اگر وہ یہ جملہ کہ دے تو اسکا غضب فرو ہو جائیگا ۔وہ جملہ یہ ہیے اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ ایک جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی تھی وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس سے کہا تم جانتے ہو کہ ابھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا نہیں اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے ایسے جملے کا علم ہے اگر اس نے وہ جملہ کہہ دیا تو اسکا غصہ ختم ہو جائیگا ۔وہ جملہ یہ ہے اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ اس شخص نے کہا کیا تم مجھے دیوانہ سمجھتے ہو؟
صحیح البخاری رقم الحدیث 4048، صحیح مسلم رقم الحدیث 261
2۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں غلام کی پٹائی کر رہا تھا کہ میں اپنے پیچھے سے آواز سنی اے ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہ تمھیں علم ہونا چاہیے کہ تم اس پر جتنی قدرت رکھتے ہو اللہ تعالی اس سے زیادہ تم پر قدرت رکھتا ہے میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم تھے۔ میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم یہ اللہ کی رضا کی کےلیے آزاد ہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ نہ کرتے تو تمھیں دوزخ کی آگ جلاتی یا فرمایا کہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوتی
صحیح مسلم ص 905 حدیث 1658دار ابن حزم بیروت
3۔ حضرت عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا غضب شیطان کے اثر سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضبناک ہو تو وہ وضو کرے۔
سنن ابو دائود ج 2 ص 304
4۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آجائے کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اسکا غصہ ختم ہو جائے تو فبہا ورنہ وہ لیٹ جائے۔
سنن ابو دائو د رقم الحدیث 4782
5۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ہجری روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ پیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جس شخص نےغصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اسکے اظہار پر قادر تھا اللہ تعالی اسکو امن اور ایمان سے بھر دےگا۔
جامع البیان ج 4 ص 61

"ضبطِ غصہ ماہرینِ نفسیات کی نظر میں

ضبطِ غصہ کو انگریزی میںAnger managementکہتے ہیں۔ہمارے یہاں کچھ جامعات میں اس علم کو بطورِ مضمون پڑھایا جاتاہے خاص کر بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈیپارٹمنٹ میں ، لیکن پاکستان میں اس مضمون کو پڑھانے کا انتظام چھوٹے پیمانے پر ہے۔ جبکہ دیگر یورپی ممالک میں اس موضوع پر الگ ڈپارٹمنٹ ہے الگ فیکلٹی ہے جہاں اس موضوع پر ایم اے ، ایم فِل اور پی ایچ ڈی ڈگریاں دی جاتی ہیں اس کے علاوہ وہاں کی بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے کے لوگ اس موضو ع پر کورسز کرواتے ہیں کیونکہ عمومی طور پر روز مرہ کی بحث چپقلش کے باعث ادارے کے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے جس کی وجہ سے انکے ادارے کو بڑا نقصان اٹھاناپڑتا ہے اس لیے بڑے نامور ادارے کے لوگ یہ کورسز اپنے ادارے کے مستقبل کےلئے کراتے ہیں۔

جاری ہے

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر جامعہ کراچی شعبہ علوم اسلامیہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *