رابی پیرزادہ سچ کہتی ہیں ۔۔۔۔اجمل ملک

کند ہم جنس۔باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر۔۔ باز۔با۔باز
فارسی کے اس شعر کوسمجھنےسے پہلے میں جب بھی ہم جنس کے بارے میں سوچتا تھا۔ میرے ذہن میں ہم جنسی پرستی آتی تھی۔۔میرے تخیل نے کئی بار کبوتر با کبوتر کے بارے میں اڑان بھری لیکن سوچ۔ باز۔ با۔باز سے باز نہ آئی۔ اللہ جانے یہ کوئی پری پول رگنگ تھی۔ پینتیس پنکچر تھے۔ ایمپائر کو ساتھ ملایا ہوا تھا۔کسی انگلی شنگلی کاچکر تھا یا خلائی مخلوق کے اثرات۔ جو کچھ بھی تھا،نتیجہ بہت بھیانک تھا۔میں اس شعر میں پاس نہ ہو سکا اورہم جنس پرستی سے آگے نہ بڑھ سکا۔اصلاحِ خیال اورنتیجے میں بہتری کے لئے میں  باقاعدہ اہل دانش کے ہاں بھی پہنچا،اساتذہ سے جو تفہیم ملی اس کے بعدالحمد اللہ۔! میری پریشانی رفع ہو گئی۔سارے شش و پنج کافورہوگئے۔اب میں پہلے سے زیادہ شدت سے ہم جنس سے مراد ہم جنس پرستی سمجھتا ہوں۔

سنسکرت میں”لونڈا”ایسا حرف ہے جوایسے لڑکوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جن کے ابھی داڑھی مونچھ نہ نکلی ہو۔اردو کے شعری ادب میں لونڈوں کا جتنا استعمال میر تقی میرنے کیا ہے اتنا کسی اور شاعر کے ہاں نہیں ملتا۔ بلکہ میر نےتو شعروں میں لونڈوں کا استعمال ویسے ہی کیا جیسےسعادت حسن منٹو نے نثر میں عورت کا۔ فارسی شعرکو مد نظر رکھا جائے تو منٹو’’کند ہم جنس‘‘کے مخالف اور  میر ’’کبوتربا کبوتر‘‘ کے مکتب فکر سےتعلق رکھتے نظر آتے ہیں۔ میر تقی میرتو کہتے ہیں کہ
دل لے کے لونڈے دِلی کے کب کا پچا گئے
اب ان سے کھائی پی ہوئی شے کیا وصول ہو۔

دِلی کے دل ہضم کرلینے والے لونڈوں کے علاوہ بھی کلامِ میر میں کئی ایسےشعر ہیں ۔جن میں ہم جنسوں کا تذکرہ ملتا ہے۔بلکہ وسعت اللہ خان تو کہتے ہیں کہ اردو شاعری میں عطار کے لونڈےسےدوا لینے پر کسی کو اعتراض نہیں۔حالانکہ وسعت اللہ  میر کے جس شعر کا تذکرہ کر رہے ہیں اس میں لونڈے منٹو نے ڈالے ہیں۔شاعرتو کہتا ہے۔۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں۔
البتہ منٹواپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’اس(بیماری)کا باعث وہی خانہ ساز شراب تھی۔اللہ اس خانہ خراب کا خانہ خراب کرے۔زہر ہے، لیکن نہایت خام قسم کا ، سب کچھ جانتا تھا سب کچھ سمجھتا تھا مگر۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

’’جانے اس عطار کے لونڈے میں کیا کشش تھی کہ حضرت میر اسی سے دوا لیتے رہے، حالانکہ وہی ان کے مرض کا باعث تھا۔ یہاں میں جس شراب فروش سے شراب لیتا ہوں وہ تو مجھ سے بھی کہیں زیادہ مریض ہے‘‘ چچا سام کے نام تیسرا خط سے اقتباس”

میرا دوست شیخ مرید کہتا ہے کہ ہم جنس پرستوں میں پیار کرنے کی صلاحیت عام آدمی سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ جنس سے نہیں بلکہ’’ہم‘‘سے پیارکرتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ پیارکرنے والوں کا تعلق منٹو کے مکتب فکر سے ہو یا میر کے نظرئیے سے۔ کچھ واقعات میں دونوں نظریات بیک وقت پائے جاتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ
ایک پٹھان خود کشی کرنے لگا تھا کہ لوگوں نے پکڑ لیا اورپوچھا : خان کیاہوا۔ ؟
پٹھان: میرا بیوی میرے دوست کے ساتھ بھاگ گیا ہے اور میں اپنے دوست کے بغیر نہیں رہ سکتا۔
’’شادی ایسا بندھن ہے  جس میں”دو” مل کرایسے رہتے ہیں کہ ایک دوسرے کو رہنے نہیں دیتے‘‘۔لیکن شیخ مرید کہتا ہے کہ وہ جو ایک دوسرے کو ایک ساتھ نہیں رہنے دیتے ان کے درمیان ایک تیسرا بھی ہوتا ہے۔ شاید یہ وہی تیسرا ہے۔جو پٹھان کا بیوی لےکربھاگ گیا ہے اور پٹھان کودوست کا فکرہے۔ بیوی کی کوئی ٹینشن نہیں۔

کہتے ہیں کہ سالوں پہلےجب گھوڑے مشہورنہیں ہوتے تھے۔اور گدھے کھلے عام دستیاب تھے۔عاشق تب ڈیٹ مارنے کے لئے گدھوں پرجاتے تھے۔ گدھوں نے عاشقوں کا اور گھوڑوں نے شوہروں کا بوجھ اٹھا یاہے۔گدھے چونکہ  دوڑنے میں گھوڑے نہیں ہوتے اسی لئے عاشق اکثر  قیدو اور رقیب کے ہتھے چڑھ جاتے۔دشمنان عشق کو رحم آجاتا تو عاشق کو گھوڑے پرآنے کا مشورہ دے دیتے اور اگر رحم نہ آتا تو عاشق کامنہ کالاکرکےگدھے پر گاؤں کا چکرلگوایا جاتا اورگدھالانے کے لئے کہیں دورجانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی۔عاشقوں کو گدھے پرسیرکرانےکا سلسلہ زور پکڑ گیا تو اگلا قدم محبوبہ نے اٹھایا۔۔وہ کبھی ڈیٹ پر جانے کے بہانے سکھیوں کےساتھ بیلےجا پہنچی اورکبھی  گھڑے پرسوار ہوکرموجِ دریا پر بہہ نکلی۔۔اس راہ سےجو بھٹک گئےوہ کبھی سسی بن کر صحراؤں میں کھجل خوار ہوئے اور کبھی صاحباں بن کر خاندانوں میں رسوا۔

گئے وقتوں میں مردوں کی رسوائیاں سر بازار ہوتی تھیں اور خواتین کےمعاملات کودبا لیا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں پھر تھوڑی تبدیلی آئی۔ مردوں کی ٹنڈیں ہونے لگیں اور خواتین کو چھپایا جانے لگا۔ لیکن آج کل خواتین بھی سر بازار اپنی رسوائیوں کا اعتراف کرتی ہیں۔ اس اعتراف کا نام ’’می ٹو ‘‘ہےاور سوشل میڈیا پراسی اعتراف کو فخریہ پیش کیا جا رہاہے۔۔معترف خواتین کی تصویر  عالمی میگزکے سر ورق پرچھاپی جا رہی ہے۔’’بدنام اگر ہوں گےتوکیا نام نہ ہوگا‘‘کا مفروضہ سچا ثابت ہو چکا ہے۔۔خواتین اور خواجہ سرا  ماضی میں  جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام  مردوں پر لگاتے رہے ہیں۔ اس بار یہ الزام ایک خاتون نے دوسری خاتون پر لگایا ہے۔شاید یہی کبوتر با کبوتر۔ باز ۔با۔باز ہے۔

خبریہ ہےکہ معروف گلوکارہ رابی پیرزادہ  نے اعتراف کیا ہے کہ ’’ مجھے یہ بتاتے ہوئے بالکل برا نہیں لگ رہاکہ شوبز میں مجھے کسی مرد نے نہیں بلکہ خواتین نے ہراساں کیا ہے۔مجھے یہ پتہ نہیں تھاکہ خواتین بھی ایسا کرسکتی ہیں اور جب مجھے سمجھ آیاکہ یہ خواتین کا پیار نہیں ہے بلکہ کچھ اورہے تو میں ان سے دورہوگئی۔رابی کہتی ہیں کہ لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ میں نےہراساں کرنے کا موقف  سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنایا ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے اگر مجھے شہرت چاہیے ہوتی تومیں کسی مرد پر ہراساں کرنے کاالزام لگادیتی۔ شوبز کی خواتین ’’می ٹو‘‘مہم کا غلط استعمال کررہی ہیں‘‘۔رابی پیرزادہ سچ کہتی ہیں۔ ’’می ٹو‘‘درحقیقت بولنےکی ہمت اوراعتراف کی جرات کانام ہے۔خواتین نے جرات اظہار کا سلیقہ سیکھ لیا ہے۔ بلی کو دیکھ کر جیسےکبوتر آنکھیں بند کرتا ہے اورسمجھتا ہے کہ خطرہ ٹل گیا۔اسی طرح جنسی ہراساں کرنے پرزبان بند کر لینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاملہ دب گیا ہے۔ ہماری زندگیوں کو خطرات ہمارے محافظوں اوراقربا سے ہی ہیں۔ کیونکہ راہزنوں کے خوف کی وجہ سے ہم پہلے ہی محتاط ہوتے ہیں۔

میرا دوست کہتا ہے کہ مردوں نےاپنےبھروسے اورعزت کی ناؤ خود  ڈبوئی ہے۔اس لئے تو عورت کو عورت ہراساں کرنے لگی ہے۔بھروسہ سٹکر جیسا ہوتا ہے۔دوسری بار پہلے جیسا نہیں چپکتا  لیکن بعض مردو خواتین بہت چپکاؤ ہوتے ہیں وہ اترے ہوئے سٹکر باربار چپکانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔پاکستانی معاشرہ چونکہ قدامت پسند ہے۔اسی لئے یہاں زیادہ خواتین ’’می ٹو‘‘ کا اعتراف نہیں کر پا رہیں۔مرید کہتا ہے کہ یہاں’’می ٹو‘‘ کے بجائےنیا ہیش ٹیگ شروع کیا جانا چاہیے۔’’یوٹُو‘‘جس میں مرد اعتراف کریں کہ انہوں نے جنسی طور پرکس کس کو ہراساں کیا ہے۔وہ تو کہتا ہے کہ’’یوٹُو‘‘ ہیش ٹیگ کے ساتھ’’ بروٹس ‘‘کا اضافہ انتہائی ناگزیر ہے۔تاکہ’’ کند ہم جنس ۔با ہم جنس پرواز‘‘ والا معاملہ بھی حل ہو جائے۔

اجمل ملک
اجمل ملک
مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ بیورو چیف ایکسپریس نیوز۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *