برادری مذہب اور ملٹری فارمز کے کسانوں کی سیاست ۔حصہ دوم/مترجم اسد رحمان

یہ مضمون انجمن مزارعین پنجاب میں شائع ہونے والے  احمد یوسف کے مضمون کا ترجمہ ہے جو کہ انجمن مزارعین پنجاب کی تحریک کے اتار چڑھاؤ کا احاطہ  کرتا ہے

یونس اقبال خاص طور پہ بائیں بازو سے اپنی شناخت سے پریشان نہیں تھا۔ وہ خود پہلے میجر اسحاق کی مزدور کسان پارٹی کا حصہ رہ چکا تھا تاہم نوّے کی دہائی کے جمود کے در آنے پہ وہ اس سے علیحدہ ہو چکا تھا تاہم ایک سبق اس نے مزدور کسان پارٹی میں رہ کر سیکھ لیا تھا کہ ایک تنظیم کی تعمیر کیسے کی جانی چاہیے۔

اور اس نے کامیابی کے ساتھ اس کام کی تکمیل کی۔ ڈاکٹر کرسٹوفر اور یونس کی یہ جوڑی سارے پنجاب کے بے زمین کسانوں کے پاس گاوٴں گاوٴں یہ پیغام لے کر گئی کہ اس نئے مزارعیت کے معاہدے کو کسی صورت قبول نہ کیا جائے بلکہ مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جائے۔انکے اس پیغام کو قبول کرنے والے ہر گاوں میں موجود تھے اور زیادہ تر گاوں کے بڑوں بھی اس تنظیم اور اس میں شمولیت کی حمایت کر دی۔

برصغیر میں موجودہ سیاسی و نظریاتی بحران ۔۔اسد رحمان

ملٹری فارمز،بشکریہ ڈان

جلد ہی ہر گاؤں میں ایک کل وقتی پر جوش آرگنائزر موجود تھا جس کا چناؤ بھی اسی گاؤں سے ہی کیا جاتا تھا۔ کیوں کہ یہ تحریک سارے پنجاب میں پھیلی ہوئی تھی تو اس کا یقنی نتیجہ یہ تھا کہ عیسائی دیہات کے نمائندے عیسائی اور مسلمان دیہات کے مسلمان ہوں گے۔لیکن جب این جی اوز کا تعلق اس تحریک کے ساتھ قائم ہوا تو انہوں نے اس تنظیم کو دفاتر قائم کرنے، پبلک ریلیشنگ اور ریلیاں نکالنے کی خاطر فنڈز کی فراہمی کا آغاز کیا۔ بائیں  بازو کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے انجمنِ مزارعین پنجاب نے ان فنڈز کو قبول کر لیا۔ ان اخراجات میں سے ایک لاہور میں دفتر کا قیام تھا ۔ تاہم اسی لاہور کے دفتر سے ہی ڈاکٹر کرسٹوفر اور یونس اقبال کو ان کے تین ساتھیوں سمیت ۲۰۰۳ میں گرفتار کیا گیا۔

قائدین کی گرفتاری کے بعد تحریک اپنے پہلے بحران کا شکار ہوئی، آخر کیسے بنا اپنے صدر اور جنرل سیکرٹری کے یہ تحریک خود کو زندہ رکھ پائے گی؟ اس تنظیم کے راستے کا چناؤ  اب کون کرے گا؟ اور کون عدالتوں میں انکے قائدین کا مقدمہ لڑے گا؟
تنظیمی مسائل کو جس چیز نے مزید ابتر کیا وہ مڈل لیول کی قیادت کا ناتجربہ کار ہونا بھی تھا۔ کیوں کسی کو بھی تنظیم سازی کے بارے زیادہ کچھ پتہ نہیں تھا چنانچہ  اس مڈل لیول قیادت کی“ آن۔جاب“ ٹریننگ کا آغاز ہو گیا۔ اگرچہ جب تک ڈاکٹر کرسٹوفر اور یونس اقبال جیل میں رہے تب تک کوئی بھی تنظیم کی سربراہی کے لیے آگے نہیں بڑھا۔دونوں کی عدم موجودگی کے باعث قیادت کا ایک خلا پیدا ہوا جس کو پورا کرنے کیلئے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

یونس اقبال،بشکریہ ڈان

یونس اور ڈاکٹر کسٹوفر جس دوران جیل میں تھے اور تنظیمی ڈھانچے تتر بتر ہو چکے تھے یہ افواہ چکر کاٹنے لگی کہ یہ دونوں حضرات بک گئے ہیں۔ افواہیں جلد ہی الزامات کی شکل اختیار کر گئیں ۔۔۔ کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا اور زیادہ تر دلائل اندازوں اور خفیہ معلومات سے ماخوز تھیں۔ کچھ کے نزدیک اس جوڑی نے این جی او کے فنڈز کو ضائع کر دیا ہے یا پھر اس میں ہیرا پھیری کے مرتکب ہوئے ہیں۔
کچھ ماہ بعد یونس لوٹ آیا ۔ خبر یہ تھی کہ وہ تشدد اور تھکاوٹ سے بتدریج بحال ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔اس نے ابھی تک لوگوں سے ملنا شروع نہیں کیا تھا کیوں ابھی تک اس میں لوگوں سے بات کرنے کا سٹیمنا موجود نہیں تھا۔ جو لوگ یونس سے اس وقت ملے ان کے نزدیک وہ اس وقت ہر شئے سے  دلبرداشتہ ہو چکا تھا اور ایک نہایت تندو تیز کردار سے ایک خاموش شخص میں تبدیل ہو چکا تھا۔

لیکن جیسا کہ یونس نے بعد میں واضح کیا کہ قید وبند کی صوبتوں کی نسبت باہر جس طرح تحریک میں مسائل اٹھ کھڑے ہوئے تھے وہ اسکے لیے زیادہ پریشان کن تھے۔اس کی تنظیم بکھر چکی تھی اور اس کے لوگ اس پہ لگنے والے الزامات سے متاثر نظر آتے تھے۔ جیسا کہ یہاں کا کلچر ہے رہائی کے بعد گاؤں  کا ہر گھرانہ اس سے ملنے اور خیریت دریافت کرنے کیلئے اس کے گھر آیا۔اور ہر ایک نے اس سے یہی سوال پوچھا کہ جیل میں اس پہ کیا بیتی؟ یونس نے وضاحت کے طور پہ بس اپنے زخم ہی ان کے سامنے کھول دئیے۔

یہی کہانی خانیوال میں دوہرائی گئی اور سارے گاؤں  کے لوگ خیریت دریافت کرنے اور جیل میں اس پہ بیتنے والی کارگزاری جاننے کیلئے ڈاکٹر کرسٹوفر کے گھر پہنچے۔ انجمنِ مزارعین پنجاب سے پہلے بھی ڈاکٹر کرسٹوفر کی نیک نامی کا پورا گاؤں  معترف تھا ۔ ایک استاد ہونے کے ناطے  گاؤں واسی اس پہ اعتبار کرتے تھے۔ اس کے بھی زخموں کو ثبوت مان کر اس کے کامریڈوں نے اس پہ لگنے والے سارے الزمات کو مسترد کر دیا۔

تاہم منظر نامہ بہت تبدیل ہو چکا تھا۔انجمن مزارعین پنجاب کی تنظیم ۲۰۰۲ میں انتخابات میں شمولیت کے مدعے پہ اپنی پہلی تقسیم کا شکار ہوئی تاہم اس کے حمایتی اس بات پہ مخمصے کا شکار ہی رہے کہ کس گروپ کی ہدایات پہ عمل کیا جائے۔ یہ تقسیم تھی یونس اقبال اور مہر عبد الستار کے درمیان جو کہ مسلمان اکثریتی گاؤں ۴/۴ ایل کا رہنے والا اور نمائندہ بھی تھا۔ یونس اقبال اور ڈاکٹر کرسٹوفر کے اٹھائے جانے کے بعد مہر ستار نے خود کو انجمنِ مزارعین کا اکلوتا قائد بننے کے سفر کا آغاز کیا۔

اپنے گاؤں اور دوسرے علاقوں میں اس نے یہ دعویٰ  کیا کہ آخر ایک عیسائی مسلمانوں کا نمائندہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اور اس بھی سے  بدتر یہ کہ کیسے ایک کمتر برادری یا ذات سے  تعلق رکھنے والا شخص کسی برتر برادری والوں کی نمائندگی  کر سکتا ہے۔ یونس اور ڈاکٹر کرسٹوفر پہ لگنے والے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے مہر نے خود کو انجمن کا چئیرمین مقرر کر دیا۔

اگرچہ یونس اور ڈاکٹر کرسٹوفر نے انجمن کے ٹکڑے اکٹھے کرنے کے عمل کا آغاز کیا تاہم دونوں کی رائے یہ تھی کہ اس تحریک اور تنظیم کو موت سے ہمکنار کرنے والا دھچکا لگ چکا ہے۔ یہ ایک تیزی سے آگے بڑھتی اور قوت پکڑتی تحریک اب ایک ایسے اجتماع میں تبدیل ہو چکی تھی جس میں موجود ایکٹوسٹ بنا کسی لائحہ عمل کے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔ اور جب انہوں نے دوبارہ پرانے طرز پہ دیہات کے دوروں کا آغاز کیا تو معلوم ہوا کہ اکثریتی مسلمان دیہات میں ذات یا برداری کی برتری کا بیانیہ تقویت پکڑ چکا تھا ۔ جیسا کہ ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ذات میں پیوست بیانیہ ہمیشہ سے ہی یہاں موجود تھی بس ضرورت تھی کہ اس کو بیدار کیا جائے۔

اسی دوران ستار کی قیادت کو لیفٹ اور دوسری سیاسی جماعتوں نے قبول کر لیا۔ ایک لیڈر نے (مبینہ طور پہ) ستار کے آرائیں برادری سے تعلق کو اسکے انجمن کی قیادت پہ حق کو تسلیم کرنے کیلئے دلیل کے طور پہ استعمال کیا۔ اگرچہ بعد ازاں آفیشلی اس لیفٹ کے لیڈر نے ایسی کسی بات کے کرنے سے انکار کر دیا۔اسی شخص نے بعد ازاں ستار کے گروپ کو مالی طور پہ فنڈز فراہم کیے۔اسی طرح ایک دوسرے کردار نے ستار کو قومی اور ملکی میڈیا سے متعارف کروایا۔
اس قیادت کے تنازعے میں نیوٹرل صرف دو تنظیمیں ہی رہیں ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان اور AGHS legal Aid cell.

اس قیادت کی لڑائی کے درمیان انجمن کے بہت سارے کارکن ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے اور دہشت گردی اور غداری (جو کہ ہماری ریاست کے دو مرغوب ترین الزامات ہیں) کے مقدمات بھگت رہے تھے۔دونوں تنظیموں نے ان مقید کارکنان کے مقدمات کی پیروی کو جاری رکھا ۔ عاصمہ جہانگیر لاہور اور اسلام آباد جبکہ راشد رحمان ملتان میں ان بے زمین کسانوں کو انصاف دلانے کیلئے انکے مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔
چناچہ جب تک یونس اور ڈاکٹر کرسٹوفر جیل سے واپس آئے انجمن میں تقسیم مذہبی اور برادری کی نہج پہ مستحکم ہو چکی تھی۔
جاری ہے۔

Save

Save

Save

اسد رحمان
سیاسیات اور سماجیات کا ایک طالبِ علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *