میرے عزیز ہم وطنو!

میرے عزیز ہم وطنو!

ان الفاظ کو ترسے ہوئے لوگ پیچھے جا کر لیٹ جائیں، باقی آگے آجائیں ۔۔۔۔ شاباش !
آج بلکہ گزشتہ روز دن بھر ہونے والی ڈویلپمنٹس پر رواں تبصرے آپ لوگ پڑھتے رہے ہیں، اب ایک مختصر تجزیہ بھی پڑھتے جائیے تاکہ ذرا سکون سے سو سکیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر تجزیے کی حیثیت شاعری کی شرح جیسی ہوتی ہے۔ تجزیہ نگار کے بیان کردہ نکات بعض اوقات اس سیاستدان یا رہنما کے ذہن میں بھی نہیں ہوتے اور اگر وہ تجزیہ پڑھ لے تو اپنی ذہانت پر حیران رہ جاتا ہے۔ بہر حال اس جملہ معترضہ کو یہیں چھوڑ کر تجزیے کی جانب بڑھتے ہیں۔
میاں صاحب نے آج جو چال چلی ہے، اس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ آپ خود سوچیے کہ ان حالات میں جب وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، کیا وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک نیا قضیہ مول لے سکتے تھے؟ جی ہاں، یہی وہ نکتہ ہے جس پر مکمل سوچ بچار کے بعد ن لیگ کی حکومت نے ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ایک حکمنامہ جاری کیا۔ یہ ایگزیکٹیو آرڈر دوپہر کو ایشو ہوا اور اس کے قریباً ایک گھنٹے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کا ٹویٹ آگیا اور اس ٹویٹ کے ایک گھنٹے بعد وزیراعظم نے دو عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کیا۔ ان کی تقاریر کے گھنٹہ بھر بعد وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں ٹویٹر کمانڈر کے لتے لے لیے۔
اگر ہم واقعات کی ترتیب پر نظر ڈالیں تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ سول حکومت نے ایک ایسی چال چلی، جس کے نتائج خواہ کسی سمت میں بھی برآمد ہوں، فائدہ حکومت ہی کو ہونا تھا۔ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد بظاہر مضبوط نظر آنے والی حکومت اپپنا اخلاقی جواز تیزی سے کھو رہی تھی اور اس پر ملک کے جمہوریت پسند حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کا سلسلہ شروع ہو رہا تھا۔ دوسری جانب عدالت عظمی کے حکم کے تحت جے آئی ٹی کی تشکیل کا مرحلہ بھی درپیش تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ عسکری ادارے کی جانب سے ڈان لیکس کی تحقیقات مکمل کرنے اور اس پر کارروائی کے لیے دباؤ بھی موجود تھا۔
تمام صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے ڈان لیکس کی تحقیقاتی کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات پر عمل درآمد میں قصداً چند تبدیلیاں کر ڈالیں۔ یہ ایگزیکٹیو آرڈر آپ سب کے علم میں ہے، لہٰذا اس کی تفصیل میں جائے بغیر ہم اس کے نتائج پر بات کرتے ہیں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ اس ایگزیکٹیو آرڈر کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیتی تو ملکی سیاست میں اس کے لیے اپنی سپیس کم کرنے کے مترادف ہوتا اور اگر اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتی، جیسا کہ اس نے کیا تو پورے ملک کے جمہوریت پسند طبقے کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنتی، جیسا کہ ہو رہا ہے۔ گویا یہ حکومت کے لیے بہترین چال تھی جس میں دونوں جانب اس کی فتح ہے۔ فوج کے ایک میجر جنرل کی جانب سے سخت الفاظ کے چناؤ کے بعد میاں صاحب نے وہ سیاسی مظلومیت حاصل کر لی ہے جس کی انہیں کافی عرصے سے، بالخصوص پاناما کیس کے بعد اشد ضرورت تھی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ میاں صاحب کے مخالفین بھی ایک سرکاری بابو کے الفاظ پر اور اسٹیبلشمنٹ کے رویے پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ میاں صاحب ایوان وزیر اعظم میں قہقہے لگا رہے ہوں گے۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ میں کہے گئے الفاظ خود انہی کے لیے ایک مصیبت ثابت ہو رہے ہیں (چند روز قبل بھی عرض کیا کہ پہلے والے ٹویٹر کمانڈر موجودہ انکل سے بہتر تھے)۔ اسٹیبلشمنٹ کا ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا کوئی ارادہ پہلے تھا نہ اب ہے لیکن سیاستدانوں نے ان کے لیے سیاست میں دخل اندازی کی گنجائش چند فیصد ہی سہی، لیکن محدود ضرور کر دی ہے۔
عسکری ادارے کے ٹویٹ آنے کے گھنٹے بھر بعد میاں صاحب نے دو عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے اگرچہ عمران خان صاحب کو کہا لیکن سنایا اسٹیبلشمنٹ کو ہی کہ وہ کسی کے کہنے پر استعفیٰ دینے والے نہیں۔ اس طرح انہوں اپنے گزشتہ دور وزارت عظمیٰ کی وہ روش برقرار رکھی جس کے تحت وہ دباؤ پر استعفیٰ نہیں دیتے بلکہ ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں۔ اس ثابت قدمی کی صورت میں فوج کے پاس مارشل لاء لگانے اور دنیا بھر کی ذلت سمیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا اور یہی میاں صاحب چاہتے ہیں کیونکہ فوجی دخل اندازی کا حتمی فائدہ سیاستدانوں ہی کو ہوتا ہے۔

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *