غیر مقبول فیصلے و اقدامات

احسان اللہ احسان کا نام طالبان کے ترجمان کے طور پر عرصہ دراز سے سامنے آتا رہا ہے.پشاور کے آرمی اسکول پر ہونے والے حملے کی جب احسان اللہ احسان نے  ذمہ داری قبول کی تو ملکی حالات سے باخبر رہنے والوں کے لیے یہ نام بالکل بھی انجانا نہ رہا.ٹی ٹی پی کے لیڈرز مارے جاتے رہے اور پھر ان کی جگہ نئے بنتے بھی رہے مگر ترجمانی کے فرائض احسان اللہ احسان ہی سرانجام دیتا رہا.ایک آدھ بار اس کا نام ٹی ٹی پی کی قیادت سنبھالنے کے لیے بھی سامنے آیا اور پھر جماعت الاحرار کا نام سامنے آیا اور پاکستان میں ہونے والے ہر دوسرے دھماکے کی ذمہ داری اسی جماعت نےقبول کی.یہاں تک کہ آرمی اسکول پر ہونے والے حملے میں بچوں کی شہادت کی ذمہ داری بھی یہی احسان اللہ احسان قبول کرتا دکھائی دیا.جہاں بڑے بڑے دہشت گردوں کے سر کی قیمت مقرر کی گئی تھی وہاں احسان اللہ احسان کی ہیڈ منی بھی لاکھوں کی بجائے کروڑوں میں مقرر کی گئی.اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ احسان اللہ احسان ٹی ٹی پی میں کیا اہمیت رکھتا تھا اور پاکستان میں ہونے والی دسیوں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اس بندے کا کتنا بڑا ہاتھ تھا۔۔۔۔
راتوں رات نہ جانے کونسا انقلاب آ جاتا ہے کہ یہ بدنام زمانہ کردار فوج کے آگے سرینڈر کر دیتا ہے اور یہ خبر بھی آئی ایس پی آر کے ذریعے سے ہی سامنے آتی ہے اور اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی قرار دیا جاتا ہے.اس بات سے قطع نظر کہ اس نے کن حالات و واقعات کے زیر اثر سرینڈر کیا،اس کا فوج کی پکڑ میں آنا بلا شبہ بڑی کامیابی ہے.اب یہاں بھی آرمی کے پاس دو آپشن تھے کہ یا تو اسے دیگر دہشت گردوں کی طرح کسی آپریشن میں پار لگا دیا جاتا یا پھر جو اس سے معلومات ملی اس کو کلبھوشن یادو کی طرز پر سامنے لا کر افغانستان اور انڈیا کا مکروہ کردار سامنے لایا جاتا.اب اگر احسان اللہ احسان کو پار لگا دیا جاتا تو شاید اس کا اتنا فائدہ نہ ہوتا جتنا کہ اب ہو رہا ہے.وہ مر جاتا تو اس کی جگہ کوئی اور ترجمانی کے فرائض سر انجام دینے لگ جاتا.ماضی کا تجربہ گواہ ہے کہ قیادتوں کی تبدیلی یا مارے جانے سے ان جنگجو گروپس کو کچھ خاص فرق نہیں پڑا بلکہ ان جنگجوؤں کے نام کو بطور آئیڈیل استعمال کر کے مزید نوجوانوں کو اسلام اور جہاد کےنام پر گمراہ کیا گیا.
احسان اللہ احسان کے میڈیا پر آنے والے بیانات پر چند ایک حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج ہوا.یہاں تک کہ اس احتجاج کے زیر اثر ایک نجی چینل کی جانب سے احسان اللہ احسان کا کیا جانے والا انٹرویو بھی نشر ہونے سے روک دیا گیا.یہ بات بھی ایک حد تک درست ہے کہ ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل کو اس انداز میں میڈیا پر نہیں دکھانا چاہیے مگر اس سارے معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو ہم جذبات میں آ کر نظر انداز کر رہے ہیں.پاک آرمی جس قسم کی دہشت گردی سے نبرد آزما ہے یہ روایتی کی بجائے غیر روایتی جنگ ہے اور اس جنگ میں کچھ ایسے فیصلے بھی لینا ہوں گے جو بظاہر غیر مقبول  تو دکھتے ہیں مگر وقت ثابت کرے گا کہ ان فیصلوں کے اثرات دیر پا اور مثبت ہی ہیں.احسان اللہ احسان کو پار لگانے سے وہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے جو فوائد اس کو کلمبھوشن کی طرح منظر عام پر لانے سے حاصل ہوں گے.احسان اللہ احسان کے بیانات سے ٹی ٹی پی کا نام نہاد جہادی بیانیہ کافی حد تک زمین بوس ہوتا دکھائی دے رہا ہے ساتھ میں ٹی ٹی پی کا اسلام کے نام پر مجرمانہ اور گھناؤنا کردار بھی سامنے آ رہا ہے.
اسلام کے نام پر کس طرح نوجوان نسل کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے یہ سب اب کھل کر سامنے آ چکا ہے.لہذ ا گر آرمی کی جانب سے کچھ غیر مقبول فیصلے کیے جا رہے ہیں تو ضروری نہیں کہ ان غیر مقبول فیصلوں کا نتیجہ منفی نکلے.جب جنگ ہی غیر روایتی ہے تو غیر مقبول اقدامات کا لیا جانا اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے.احسان اللہ احسان کے اعترافات کو کلبھوشن کے اعترافات کی طرح بین الاقوامی فورمز میں اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے.اس سے را اور این ڈی ایس کا گھناؤنا کردار پوری دنیا کے سامنے آئے گا اور پاکستان کے موقف کو تقویت حاصل ہو گی اور وہ اہداف جو احسان اللہ احسان کی موت سے حاصل نہ ہو پاتے وہ اہداف اس کے بیانات سے ضرور حاصل ہو جائیں گے.باقی جو کچھ اس نے کیا ہے اس کی سزا بھی اسے ضرور ملنی چاہیے.کلبھوشن کی طرح جب اس کا کردار ختم ہو جائے تو پھر اسے پھانسی بھی چڑھایا جا سکتا ہے۔

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *