• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عمران کے بیس ارکان کو نوٹس کے فیصلے کی اندرونی کہانی۔۔۔ثاقب ملک

عمران کے بیس ارکان کو نوٹس کے فیصلے کی اندرونی کہانی۔۔۔ثاقب ملک

بنی گالا میں عمران کے گھر پر ڈرائنگ روم میں ایک صوفے پر درمیان میں کپتان بیٹھا ہے. سفید کرتے اور شلوار میں ملبوس عمران ابھی ابھی ورزش کرنے کے بعد نہا دھو کر باتھ روم سے باہر نکلا ہے. دیگر پارٹی عہدیداران جو پہلے آ چکے تھے، اس دوران چائے کی چسکیاں لیتے اپنے اپنے گروپوں میں تقسیم ہو کر کھسر پھسر کرتے رہے.

انہی ابتدائی تشریف آوری والوں میں شامل، شاہ محمود قریشی نے اپنی آمد کے فورا بعد عمران کے خانساماں کو لابی کے ایک کونے میں بلایا. اپنی جیب سے گن کر 27 روپے نکالے اور اسکے کان میں کچھ ہدایات دیں. خانساماں نے اثبات میں سرہلایا. شاہ محمود قریشی نے پھر اسکے کان میں کچھ کہا اور فاتحانہ انداز میں ایسے ڈرائینگ روم کی جانب چل پڑا جیسے آسکر ایوارڈ مل گیا ہو. خانساماں نے اپنے گیلے کان کو رومال سے صاف کیا، ستائیس روپ گنے اور سوچا کہ ساری پارٹی ہی لگتا ہے عمران خان پر گئی ہے.

پارٹی کا آج اجلاس ہے. خیبر پختون خواہ کے ایم پیز کے سینٹ الیکشن میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی رقوم لیکر بکنے پر فیصلہ ہونا ہے. خان نے اپنی عینک ناک پر دھر رکھی ہیں. مسلسل ناک پر عینک رکھنے کی وجہ سے ناک کی ہڈی پر سرخ سا نشان بن چکا ہے. لگتا ایسے ہے جیسے، عینک عمران کے ناک پر دھرنا دئیے بیٹھی ہے . عمران کی نگاہیں موبائل سے جڑی ہیں. وہ مسلسل میسجز پڑھ رہا اور انکے جوابات دے رہا ہے. گاہے بگاہے اسکے لانبے چہرے پر دھیمی سے مسکراہٹ آ جاتی ہے. اس مسکراہٹ کے دوران عمران کی گردن نا معلوم زاویے سے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ہوتی ہے.

عمران کے دائیں جانب ایک غیر معروف، غیر سیاسی اور کافی حد تک غیر انسانی دوست بیٹھا ہے. اسکے چہرے مہرے سے بیزاری عیاں ہے. جیسے کہہ رہا ہو کہ, عمران مجھے کدھر لے آیا؟ بائیں جانب نعیم الحق ٹانگیں پسار کر تشریف فرما ہیں. لیکن نعیم الحق کے بشرے میں بے چینی اور اضطراب کی سی کیفیت ہے. وقتاً فوقتاً وہ جھانک کر عمران کے موبائل-فون پر کن انکھیوں سے نظر مارتا رہتا ہے، ایسے جیسے کہیں عمران اسکے میسجز تو نہیں پڑھ رہا. نعیم الحق کا فون گاڑی میں رہ گیا اور اب اسے کل رات کے کئے گئے کئی میسجز کے جوابات پڑھنے کے لئے مزید انتظار کرنا پڑے گا.

نعیم الحق کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے.

دیوار کے ساتھ لگے دو بڑے صوفوں میں پہلے صوفے پر کونے میں جہانگیر ترین بیٹھے ہیں. جہانگیر ترین چائے پی چکا ہے اور اب اسے اپنے پیٹ میں گڑبڑ کا احساس ہو رہا ہے. مگر وہ اجلاس کے آغاز کے وقت عمران کی نظروں میں رہنا چاہتا ہے. مجموعی طور پر ترین کے انداز و اطوار میں ایک مایوسی جھلک رہی ہے. ہاں عمران کی طرف اسکی جب بھی نگاہ جاتی ہے تو ایک چمک سی اسکے چہرے پر آجاتی ہے. جیسے عمران نہ ہوتا تو جہانگیر ترین اس محفل میں ہرگز نہ بیٹھتا. جہانگیر کے کپڑوں پر دھول سی لگی ہے. ایسے لگتا ہے جیسے ترین اپنے جہاز کو دھکا دیکر لیکر آئے ہوں. بعد میں پتہ چلا کہ عمران اور جہانگیر مل کر دوڑ لگاتے رہے. لیکن ترین کو ٹریک سوٹ کی سہولیات میسر نہ تھیں. شاہ محمود قریشی کمرے کے دوسرے کونے سے جہانگیر ترین کی کشمکش کو محسوس کرکے اس سے محظوظ ہورہا ہے. ستائیس روپے کی سرمایہ کاری رائگاں نہیں گئی اس نے سوچا.

ترین سے ذرا آگے بابر اعوان رونق افروز ہیں. بابر اعوان کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہے جیسے یہ اجلاس اسکی ہی ہدایات پر منعقد ہو رہا ہے. اعتماد، نخوت اور تکبر کی حدود سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا اور لگتا تھا جیسے بابر اعوان براہ راست چودھویں کے چاند سے چھلانگ مار کر سیدھے بنی گالا پہنچے ہوں. پارٹی میں بابر اعوان کے مخالفین اسے بغیر کانوں والا شیطان کہتے ہیں . بظاہر اسکی وجہ شکل و صورت میں مماثلت کے علاوہ دونوں شخصیات کی سیرت و کردار میں کھلا تضاد نہ ہونا تھا. ذرا غور سے دیکھنے کے بعد بابر اعوان کے مخالفین کی تخلیقی صلاحیتوں کو داد دینے کو جی چاہتا تھا.

عمران کے بالکل سامنے شاہ محمود قریشی اپنے دو کارندوں کے ساتھ متمکن تھا. شاہ محمود کے چہرے پر اطمینان کی ایسی کیفیت تھی جو صرف دو صورتوں ہی میں کسی انسان کے چہرے پر نظر آتی ہے. ایک جب کوئی ماں بچہ جنتی ہے اور دوسرا جب کسی کا خراب، درد والا دانت نکال باہر کیا جاتا ہے. حیران کن طور شاہ محمود ایسی کسی کیفیت کی غیر موجودگی میں ایسا اطمینان حاصل کر چکا تھا. یہ نروان گدی کی روحانی کمائی سے ہی ممکن ہوسکتا ہے. شاہ محمود کو لوگوں کے قریب جا کر بات کرنے کی عادت ہے. ایک بار تو واقفان حال کا کہنا تھا کہ شاہ صاحب نے بنی گالا کے سابق مالک شیرو کے کان میں جا کر بھی سرگوشی کرنا چاہی. لیکن اسکا نتیجہ ہیلری کلنٹن والی ماتھے سے ماتھے جڑنے والی سرگوشی سے قطعی مختلف تھا.

تجربہ کار لوگوں کا کہنا ہے کہ شیرو اتنی قربت کا صرف اپنے مالک کپتان سے عادی تھا.

بائیں جانب پرویز خٹک اور دیگر خیبر پختون خواہ کے عہدے داران اور ارکان اسمبلی موجود تھے. پرویز خٹک سگریٹ کے دھوئیں میں پرواز کر رہے تھے. اس انہماک سے سگریٹ نوشی کم ہی لوگ کرتے ہونگے. خٹک صاحب ہر تھوڑی دیر بعد کھانستے تھے پھر سگریٹ-نوشی میں محو ہوجاتے تھے. پرویز خٹک والا صوفہ اپنے ماحول میں سب سے جدا لگ رہا تھا. پرویز خٹک زبان جسم سے جیسے کہہ رہے ہوں مجھے مست ماحول میں جینے دو. لیکن انکی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی.

اچانک کمرے میں ہڑبونگ سی مچ جاتی ہے. انکشاف ہوتا ہے کہ عمران کا ناشتہ آ رہا ہے. ناشتہ دیکھ کر سب مسکین سی شکل بنا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں. سب کو علم ہے کہ اب خان ناشتے پر بغیر کسی کو دعوت دئیے ٹوٹ پڑیگا. ایسا ہی ہوا. آملیٹ، شہد، اورنج جوس، دہی، روٹی اور چائے سے عمران نے پوری تندہی سے انصاف کرنا شروع کر دیا. عمران کو ناشتہ کرتے دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا تھا جسے یہ انکی زندگی کا پہلا ناشتہ ہے. مگر ملازمین اور قریبی لوگوں کو علم تھا یہ عمران کا روایتی کھانے کا انداز ہے. اپنے سیاسی مخالفین ہوں یا کھانا کپتان ایک ہی انداز میں ٹوٹ پڑنا پسند کرتا ہے.

پرویز…. آخری لقمہ منہ میں ڈال کر عمران ہنکارا بھرتا ہے. پرویز خٹک ایسے ہڑبڑا کر سگریٹ نوشی سے بیدار ہوتے ہیں جیسے رات کو بیوی نے تھپڑ مار کر جگا دیا ہو. خٹک صاحب چوکس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور عمران کو جواب دیتے ہیں.. جی خان صاحب… خان صاحب اگلے تیس پینتیس سکینڈ اپنے آخری لقمے سے انصاف کر رہے ہوتے ہیں. اس لئے سب اپنے منہ کھلے چھوڑ کر عمران کی تحریک انصاف لقمہ کو دیکھتے ہیں.

“پرویز وہ پندرہ بیس ارکان اسمبلی جنہوں نے سینٹ الیکشن میں پیسے لئے تھے جن کے متعلق آپ نے مجھے بتایا تھا اور میں بھول گیا تھا ان کو شوکاز بھیج کر ہم فارغ کر دینگے. ننگی کرپشن برداشت نہیں ہوگی. لسٹ نعیم کو دیدو. .”.. پرویز خٹک کے جسم میں چند انچ ہلچل پیدا ہوتی ہے جو انکے اندر جوش و ولولے کی آخری حد ہے. مسرت سے خٹک صاحب سوچتے ہیں کہ تین چار اپنے مخالفین ارکان اسمبلی کو بھی اس بہانے رگڑ دینگے.

نعیم الحق کے چہرے پر ایسی خوشی دوڑ جاتی ہے جیسے کوئی محبت بھرا ٹیکسٹ میسج ملا ہو. بابر اعوان اس دوران قانونی موشگافیوں سے عمران کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ بیک فائر بھی کر سکتا ہے. عمران سنی ان سنی کر دیتے ہیں. ترین عمران کی حمایت کرتے ہیں. عمران خوشی سے سر ہلاتے ہیں.

اچانک کچھ دور سے گڑگڑاہٹ کی آواز گونجتی ہے. رفتہ رفتہ وہ آواز بڑھتی اور قریب ہوتی محسوس ہونے لگتی ہے. سب کی نگاہیں کمرے کے دروازے پر جڑ جاتی ہیں، دھڑام کرکے شیریں مزاری ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی ہیں. وہ فوراً نعیم الحق کو تقریباً چیخ کر کہتی ہیں “نعیم مجھے میٹنگ کا اتنی تاخیر سے کیوں بتایا؟” شیریں مزاری جن کی آواز میں شیرینی کی ویسے ہی قلت تھی، جب یوں بیویانہ انداز میں بولیں تو نعیم الحق ایسے بوکھلائے جیسے واقعی ہی انکی بیگم کی آواز ہو. بوکھلاہٹ میں نعیم کوئی جواب نہ دے سکے. اس خاموشی کو عمران نے پر کیا جب انہوں نے شیریں کو بیٹھنے کا کہا. شیریں مزاری اپنی دیو ہیکل شخصیت کے ساتھ سامنے موجود ننھی منی سی کرسی پر بیٹھ گئیں.

اب عمران کے فیصلے پر اثبات اور تائیدی کلمات فضا میں بلند ہوتے ہیں. کچھ اکا دکا سوالیہ اعتراضات کی آوازیں بھی اٹھتی ہیں مگر وہ بھاری بھرکم تائیدی کلمات میں چھپ جاتی ہیں.

ادھر دھیمی مسکراہٹ لئے، ہولے ہولے غیر ارادی طور پر سر آگے پیچھے کرتے عمران سوچ رہا ہے کہ اگر تازہ ترین مسز عمران، بشری کو بیس ارکان اسمبلی کی کرپشن کا خواب نہ آتا تو وہ یہ فیصلہ اتنے اعتماد سے نہ کر سکتا تھا .خان نے اپنی جرات کو دل میں ایک بار پھر سراہا اور موبائل پر رشیا ٹو ڈے کی اینکر کا تعریفی میسج پڑھنے میں مشغول ہوگیا.

( نوٹ.. یہ طنز و مزاح کے پیرائے میں لکھی ایک فرضی اور فکشنل داستان ہے. مشابہت یا مماثلت اتفاقی ہوگی. بطور عمران سپورٹر میں تحریک انصاف کے فیصلے کی تعریف کرتا ہوں، یہ ایک قابلِ تحسین و قابلِ قدر اقدام ہے. ثاقب ملک )

ثاقب ملک
رائٹر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *