ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے۔۔۔۔زوہیب نور

کون ہے جس نے اس دنیا میں عشق کی چاشنی کو نہ چکھا ہو۔ عشق کا یہ پرندہ  وقت ،حالات، واردات، عرصہ حیات و روزگار سے ماوراء ہو کر اس عشق نامی صیاد کے پنجرے میں بیٹھا خود ہی اپنے پر نوچنے لگتا ہے اور غالب کی طرح کہہ اٹھتا ہے کے قید حیات بند و غم اصل میں دونوں ایک ہیں  موت سے پہلے آدمی اب اس چاشنی عشق سے جبلت کی بہرہ مندی کو نجات کیوں کر دے۔۔۔
عشق کوچاہے جس بھی رنگ میں سوانگ بھر کر پیش کر دیا جائے لیکن حقیقت اس سے چندا مختلف نہیں کہ  اولاد آدم و حوا نے اپنے انسان ہونے کی  بقا کو جاری و ساری رکھنے کے لئے کبھی عاشق اور معشوق کا روپ لیا اور کہیں  صوفی بن کر اس  پر  جبلی تقاضے کی صوفیانہ ملمع کاری کی اور تو اور فرہاد اپنے جبلی تقاضے کی پردہ گری کرتے ہوئے کہتا پھراء کہ  تمہیں سچ سچ بتا دوں کون تھا شیریں کے پیکر میں۔

اب دیکھ لیجئیے جبلی عشق کے ان قلابوں کو معرفت سے بغل گیر کر دیا گیا رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا سامان ہو گئے ،پہلے جان، پھر جانِ جاں  اور جانِ  جاں  کرتے کرتے بات کہاں تک لے گئے ۔ہمارے اجدادبتدریج تخلیق کار ہیں  اس دھوکے کے اور ہم صدا کے افلاس پرست مشرقی آدمی اس خوبصورت دھوکے کے دام میں زلف دراز صنم سمجھ کر الجھتے ہی چلے گئے۔ احباب بات یہاں تک ہی ختم نہ ہوئی ،ماضی کے ایک ادباء کی گلڈ نے اس جبلی عشق کی بے ادبی کرتے ہوئے اسے دولخت کر کے اس سے عشق حقیقی اور عشق مجازی کو بھی جنم دے دیا اب یہ تقسم در تقسیم کا عمل جانے کہاں جا کر ٹھہرے۔۔ میاں جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ہم تو دیوانے بیٹھے اب منہ میں انگلیاں دبائے چہ نیرنگ است کی صدائیں ہی لگائی جا رہے  ہیں ۔۔

سمجھ والوں کی سمجھ افروزی کیلئے بات ذرا سی کہہ ڈالی کہ  یہ تمام انسانی تہذیب ذہانت کے ایک فریب کے سوا بھی کچھ ہے کیا؟ بس اک پردہ فریب ہے جس کی تہوں میں اولاد آدم اپنی فطرت کی آرزومندیوں کو چھپاتا پھر رہا ہے اور بھی اگر کچھ ہے تو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا کہ  یہ سب دھوکہ تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکہ۔

میاں ذرا غور کیجیئے تو انسان کا انسان سے رشتہ جتنے بھی روپ دھار لے چاہے کوئی رشتہ دار ہو ، ماں باپ ، بہن بھائی یا پھر عاشق معشوق ان سب رشتوں کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ کیا کوئی ٖضرورت ہے ؟ یا کوئی احتیاج؟ یا اس کی بنیاد میں کوئی غرض یا مفاد پوشیدہ ہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ  انسان کا انسان کے ساتھ تعلق کسی نا کسی ضرورت کے تحت ہی قائم ہو ا بعد میں انسان نے اس پر جذبات کی کشیدہ کاری کر کے اسے  محبت ، شفقت، انسیت اور رفاقت کی شکلیں دینا شروع کر دیں ۔ ذرا کوشش کر کے اگر ان جذبوں پر سے اس کشیدہ کاری کے دھاگے ادھیڑکے دیکھیے اند ر سے وہی مفادات اور غرض کی بھیانک صورتیں سامنے کھڑی  ہو کر منہ چڑا  رہی ہوں گی۔ بجا  کہ  یہ سب دھوکہ ہے پھر بھی اولاد آدم نے بڑی ہی محنت شاقہ کے بعد اس دھوکے کی  خوبصورت شکل کا خود کو اسیر کیا ہے۔۔

خیر  ابن آدم نے اپنی ابتدا سے اب تک تہذیب کے نام پر جتنے بھی دھوکے تشکیل  دیے ہیں ، ان سب دھوکوں میں عشق ومحبت بھی اک دھوکے سے بڑھ کر  کچھ بھی نہیں جو انسان کے ایک جبلی جنسی جذبے کو تہذیب کے آئینہ میں دیکھنے کا ہی  دوسرا نام ہے۔ عشق و محبت پر آپ کی دانشمندانہ رآئے کیا ہے ،تو صاحب وہ آپ ہی جانیں ۔۔۔ ہم جو کہنا چاہتے تھے بقول فیض ہر حلقہ زنجیر میں رکھ دی ہے زبان ہم نے ۔

زہد و تقوی بھی دھوکے ہیں، علم وعمل بھی دھوکے ہیں
اتنے دھوکے کھانے والے عشق کے دھوکے بھی کھالے!

زوھیب نور
ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کامرس لیکچرار.....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *