ہے غنیمت کہ فروزاں ہیں ابھی چند چراغ

ہے غنیمت کہ فروزاں ہیں ابھی چند چراغ

ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا، مجھ سے زنا ہوا ہے مجھ پر حد جاری کیجیے تو اس شخص کے زبانی اقرار کے بعد بھی آپ نے اس بات کی تصدیق چاہی کہ کہیں اس شخص کو پاگل پن کے دورے تو نہیں پڑتے. چونکہ پاگل پن یا دماغی خلل کی حالت میں انسان جو کچھ کہہ رہا ہوتا ہے اس کا اسے ادراک و شعور ہی نہیں ہوتااس لیے اس پر کوئی حد نہیں لگائی جا سکتی یعنی وہ مرفوع القلم ہوتا ہے. غصہ بھی ایک قسم کا پاگل پن یا دماغی خلل ہی ہوتا ہے اسی لیےغصے کی حالت میں کھائی جانے والی بڑی سے بڑی قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہے.
پاکستان میں عدالتی نظام کے کمزور یا باالفاظ دیگر ( ججوں اور حکمرانوں کے بدنیت ہونے) کی وجہ سے توہین رسالت کے چند مجرم اپنے انجام کوتو نہ پہنچ پائے لیکن یورپ ضرور پہنچ گئے میرے خیال میں اس غفلت نے معاشرے میں شدت پسندانہ رویے کو جنم دیا اور لوگوں نے توہین رسالت کے ملزمان کو عوامی عدالتوں میں تڑپا تڑپا کر مارنا شروع کر دیا اور یہ آگ پھیلتی ہوئ ایوانوں تک جا پہنچی اور سلمان تاثیر کو حرمت رسول کے نام پر دن دہاڑے انہیں کے گارڈ نے مار دیا. اگر عدالتیں اور انتظامیہ درست طریقے سے اپنا کام کرتیں تو شایدمعاشرے میں یہ شدت پسندانہ جذبات پیدا نہ ہوتے. ایسے میں علماء کی بھی ذمہ داری تھی کہ جمعہ کے خطبات میں لوگوں کو اس بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرتے کہ توہین رسالت مآب ص کی صورت میں عوام کی شرعی اور قانونی ذمہ داریاں کیا ہیں لیکن وہ بھی قرآن و سنت کے مزاج سے ہٹ کر اکثریت کے ساتھ جا کھڑے ہوئے (شاید اپنی جان کے ڈر سے)
لیکن کسی کو تو اس سیل رواں کو روکنا تھا جو بستیاں اجاڑنے پر مصر تھا. کسی کو تو آگے آ کے لوگوں کو بتانا تھا کہ تم لوگ جو کر رہے ہو اسے قتل کہتے ہیں یہ عشق نبی ہے نہ ہی دین کا اس سے کوئی تعلق .چترال کی ایک مسجد میں مولانا خلیق الزمان صاحب خطبے کے لیے کھڑے ہی ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑا ہو کر دعوی نبوت کر دیا،قریب ہی تھا کہ جنت کی طرف شارٹ کٹ مارنے کے شوقین اس بندے کو مار دیتے لیکن مولانا نے صورت حال کو کنٹرول کیا اور متعلقہ آدمی کو پولیس کے حوالے کر دیا. جس کے بارے میں پتا چلا کہ وہ ایک نیم. پاگل شخص ہے اور اسے اس طرح کےدورے پڑتے ہیں.وہ ایک خلیجی ریاست میں محنت مزدوری کرتا تھا اسی دوران اس کی دماغی حالت خراب ہونا شروع ہو گئی اور وہ پاگل پن کے زیر اثر اس طرح کی باتیں کرنے لگا اسی وجہ سے اس کے ساتھیوں نے اسے واپس پاکستان بھجوا دیا.
مولانا نے تو سنت نبوی ص کی پہروی کرتے ہوئے ایک جان کو بچا لیا لیکن مولانا کی املاک محفوظ نہ رہ سکیں اور انہیں نقصان پہنچایا گیا. اب سنا ہے کہ بناسپتی عشاق اس جان کے بدلے مولانا کی جان لینے کے درپے ہیں. اس شدت پسندی کے دور میں اس طرح کے لوگ ملنا بہت کم ہےجو حقیقی طور پر محب رسول ہوں اور رسول پاک کی سنت کا اتباع کرتے ہوں
اللہ مولانا کی جان، مال اور اولاد کا حامی و ناصر ہو. آخر پر مولانا کی نذر ایک شعر
ہے غنیمت کہ فروزاں ہیں ابھی چند چراغ
بند ہوتے ہوئے بازار سے کیا چاہتے ہو

Avatar
شاہد خیالوی
شاہد خیالوی ایک ادبی گھرا نے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معروف شاعر اورتم اک گورکھ دھندہ ہو قوالی کے خالق ناز خیالوی سے خون کا بھی رشتہ ہے اور قلم کا بھی۔ انسان اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور خالق کا شاہکار ہے لہذا اسے ہر مخلوق سے زیادہ اہمیت دی جائے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا لیا تو قلم کوآسودگی نصیب ہو گی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *