• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • سیاسی جماعتوں اور وکلا کا وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

سیاسی جماعتوں اور وکلا کا وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ

سیاسی جماعتوں اور وکلا کا وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ
طاہر یاسین طاہر
پاناما کیس کے حوالے سے آنے والے فیصلے کے بعد ملک کی حکمران جماعت اور پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو اپنے اپنے حق میں بطور دلیل استعمال کر رہی ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روز سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا ہے، جسے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے اپنی فتح قرار دیاہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو رواں برس 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔یہ تاریخی فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔پاناما کیس کے تفصیلی فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے مشہور ناول “دی گاڈ فادر” کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے”۔
یاد رہے کہ فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔فیصلے کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا نمائندہ شامل کیا جائے۔عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے سماعت کے دوران بطور ثبوت پیش کیے گئے قطری خطوط کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اس بات کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ رقم قطر کیسے منتقل ہوئی، جبکہ گلف اسٹیل ملز کے معاملے کی بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں ناکام رہے۔
اس فیصلے کو مسلم لیگ نون اپنی فتح کہہ رہی ہے اور ملک بھر میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئی ہیں۔جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اندر زبردست ہنگامہ آرائی اور احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم صاحب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے ما تحت بننے والی جے آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں۔لہٰذا پی ٹی آئی وزیر اعظم سے استعفیٰ لینے کے لیے سڑکوں پر آئے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے بھی وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ لاہور بار نے بھی وزیر اعظم سے استعفے یا پھر عدلیہ بحالی سے بھی بڑی تحریک کے سامنا کرنے کا کہہ دیا ہے۔
لاہور بار کے صدر کا کہنا ہے کہ یہ واحد فیصلہ ہے جس میں سپریم کورٹ کے پانچوں ججز اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔یہ امر واقعی ہے کہ اگر جے آئی ٹی بنتی ہے تو بے شک یہ ایک ایسی جے آئی ٹی ہو گی جس میں شامل ادارے براہ راست وزیر اعظم کے ما تحت آتے ہیں۔وزیر اعظم ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے ۔اگرچہ سپریم کورٹ کے معزز ججز صاحبان نے پانام سکینڈل کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے،اور آئینی و قانونی ماہرین اس حوالے سے اپنی آرا کا اظہار بھی کر رہے ہیں،مگر یہ امر بھی درست ہے کہ ججز اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ قطری شہزادے کا خط عدالت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے،ججز نےا س بات پر بھی اتفاق کیا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں ہیں۔ دو ججز نے صاف اور واضح الفاظ میں لکھا جبکہ تین نے اس حوالے سے مزید تحقیقات کا کہا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس مرحلے پر وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ اپوزیشن جماعتوں کا ایک جائز مطالبہ ہے جسے تسلیم کیا جائے۔ اگر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کی اخلاقی برتری ہو گی اور عوام میں ان کے لیے ہمدردیاں بڑھیں گی۔ مگر ہم اپنی ملکی سیاسی تاریخ کو دیکھیں تو ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔
لاہور بار اوراپوزیشن جماعتوں کے بعد ہم توقع کر رہے ہیں کہ تاجر برادری اور لیبر یونینز بھی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کریں گی،یوں ہم آنے والے دنوں میں ملک کے اندر سیاسی کشمکش اور درجہ حرارت بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔جبکہ شنید ہے کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر دے۔ اگر حکومت نظر ثانی کی درخواست دائر کرتی ہے یا ایسا وہ سوچ بھی رہی ہے تو اس کا سادہ مطلب یہی ہے کہ حکومت سمجھ گئی ہے کہ فیصلہ اس کے خلاف ہے۔یوں اگر حکومت ایسا سمجھ رہی ہے تو پھر اپوزیشن کا مطالبہ جائز اور درست بنتا ہے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *