• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بین الاقوامی تجارتی تعلقات کے لیے حضرت محمد علیہ السلام کا اسوہ۔۔۔حافظ صفوان محمد

بین الاقوامی تجارتی تعلقات کے لیے حضرت محمد علیہ السلام کا اسوہ۔۔۔حافظ صفوان محمد

نبوت سے قبل جنابِ محمد بن عبد اللہ نے جو  کاروباری سرگرمی فرمائی اس کی بنیاد میں مذہب شامل نہیں تھا۔ لیکن آپ نے یہ کاروباری تجارتی سرگرمی ایسی شاندار پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ساتھ فرمائی کہ بعدِ نبوت آپ علیہ السلام جب محمد رسول اللہ کی حیثیت میں ان کاروباری تعلقات کو بروئے کار لائے تو حبشہ کا کافر بادشاہ آپ کے متبعین کو سیاسی پناہ دینے پر نہ صرف آمادہ ہوگیا بلکہ اس نے قریشِ مکہ کی جانب سے اپنے rogue elements کی حوالگی کے summons کے ساتھ بھیجے گئے انٹرپول سفارتی مشن کے مطالبات کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ بعدِ نبوت اور بعدِ ہجرت حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کے مالی معاملات کے پیشکار رہے اور تاعمر یہودی ساہوکاروں سے لین دین کرتے رہے۔ سبھی معروف صحابہ کرام کی یہود و نصاریٰ سے تجارت نیز شراکتی کاروباری سرگرمی تاریخی شواہد کے ساتھ ثابت ہے۔

مطالعۂ اسوۂ رسول و صحابہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملکوں کے باہمی بین الاقوامی اور تجارتی تعلقات میں صرف اور صرف مفادات کو دیکھا جاتا ہے نہ کہ مذہب کو، اور وسیع تر ملکی و قومی مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہی سیاسی دوست اور دشمن بنائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت کرنے والے صحابہ نے دوسرے نیز دشمن ممالک کے سوداگروں سے تجارتی کاروباری تعلقات میں دراڑ نہیں آنے دی بلکہ ان تعلقات کو اشاعتِ دین کے لیے استعمال کیا۔ اسی بڑھتی ہوئی کاروباری سرگرمی کی بدولت دنیا کے کئی ممالک میں دین پھیلا۔ واضح ہوا کہ اسلام کی نگاہ میں ملکوں کا کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے نہ دوست۔

بڑھتی پھیلتی ہوئی کاروباری سرگرمی کی وجہ سے مذہب  کے  پھیلنے کی جو مثال آج سے چودہ سو سال قبل عرب اور اسلام کی تھی، آج ٹھیک ٹھیک وہی مثال بھارت اور ہندو ازم کی ہے۔ آج کے بھارت کے نہ صرف اسرائیل سے مضبوط دفاعی تعلقات ہیں بلکہ عربوں سے بھی دوستانہ ہے، بیک وقت ایران سے تعلق اور سعودی عرب سے رشتہ داری ہے، روس سے بھی گاڑھی دوستی ہے اور امریکہ سے بھی لنگوٹیا یارانہ ہے، ایک طرف جاپان سے معاہدے چل رہے ہیں تو دوسری طرف چین سے تجارتی لین دین ہو رہا ہے۔ اور تو اور، بنگلہ دیش کے تجارتی حجم کا بڑا حصہ بھی بھارت کے زیرِ اثر ہے اور افغانستان سے بھی طویل المدت دوطرفہ تجارتی معاہدے ہوچکے ہیں۔ اسی وجہ سے آج ہندو ازم پھیل رہا ہے اور دنیائے اسلام سمیت ساری دنیا میں ہندو عبادت گاہیں بن رہی ہیں۔

دوسری جانب دیکھیے تو ساری دنیائے اسلام نہایت سرعت سے وسائلِ قدرت اور اسبابِ صنعت و حرفت سے خالی ہوتی جا رہی ہے اور مسلمانوں میں کارآمد علم و ہنر کا شدید فقدان بھی روز افزوں ہے۔ مزید افسوس اس پر ہے کہ مسلمان اپنے موجود اسبابِ مباہاتِ دنیا کی طرف سے شدید مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں بلکہ بعضے تو ایسے ہیں کہ زخارفِ دنیوی کو شرعًا حرام اور بدمذہبی تک گردانتے ہیں۔ کھلی آنکھوں سے مشاہدہ ہے کہ اگر degeneration اور کساد بازاری کی یہی کیفیت خدانکردہ کچھ عرصہ برقرار رہی تو حضرت محمد علیہ السلام کی وہ خبر سچ ہونے میں زیادہ وقت نہیں رہے گا کہ اسلام غریبوں میں آیا تھا اور غریبوں میں ہی باقی رہ جائے گا۔ اس سنگین صورتِ حال پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور اس کے تدارک کی فوری ضرورت ہے۔

مسلمانوں اور پاکستانیوں کی دگرگونی اور دنیا بھر میں جوتیاں چٹخاتے پھرنے کی اصل وجہ صرف خدائی مار نہیں بلکہ اسوۂ رسول و صحابہ کو چھوڑنا بھی ہے۔ خدا ہمیں سمجھ دے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *