تھائرائڈ ہارمونز کے حمل پر پڑنے والے اثرات

تھائرائڈ ، جسم میں تھائرائڈ گلینڈز پر اثر انداز ہونے والی بیماری ہے۔ جس میں جسم بہت زیادہ مقدار میں یا بہت کم مقدار میں تھائرائڈ ہارمونز بناتا ہے۔ تھائرائڈ ہارمونز میٹابولزم کے عمل کو درست رکھتے ہیں ، جس کے ذریعے جسم توانائی کو جذب کرتا ہے۔ اس طرح یہ جسم کے ہر حصے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ جسم میں تھائرائڈ ہارمونز کی مقدار بہت بڑھ جانے سے جسم کے اندر بہت سے کام بہت تیزی سے ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح تھائرائڈ ہارمونز کی کم مقدار سے جسم کے بہت سے کام سست رفتاری سے ہونے لگتے ہیں۔ حمل کے دوران تھائرائڈ ہارمونز ماں اور بچے دونوں کی صحت اور نشونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے کے دماغ اور نروس سسٹم کو بنانے کے لئے تھائرائڈ ہارمونز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے شروع کے تین ماہ بچے کی نشونما کے لیے ماں کے تھائرائڈ ہارمونز کام کرتے ہیں تین ماہ بعد بچے کے اپنے تھائرائڈ گلینڈز یہ کام انجام دینے لگتے ہیں۔ حمل میں جسم کو تھائرائڈ ہارمونز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس لیے حمل سے متعلق ہارمونز زیادہ تھائرائڈ ہارمونز بناتے ہیں۔ ایک صحت مند حاملہ خاتون میں بھی تھائرائڈ کا سائز معمولی سا بڑھ جاتا ہے ۔ صرف اس کے بڑھے ہوئے سائز پر ہی بیماری کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ حمل میں ہائپر تھائروڈیزم پر کنٹرول نہ کرنے سے حمل میں بلڈپریشر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ وقت سے پہلے بچے کی پیدائش اور بچے کے وزن میں کمی ہو سکتی ہے۔ ہائپر تھائروڈیزم کی وجہ سے نومولود کی دل کی دھڑکن تیز ہوکر ہارٹ فیلئر کا باعث بن سکتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا خواتین اور ان کے نومولود بچوں کی انتہائی نگہداشت ضروری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *