خلائی مخلوق کے 6 انچ ڈھانچے کا معمہ حل

 پانچ برس کی مسلسل تحقیق کے بات سائنس دانوں نے 2003 میں دریافت ہونے والے خلائی مخلوق کے 6 انچ طویل ڈھانچے کا معمہ حل کرلیا۔ 2003 میں صحرائے ایٹا کاما میں واقع ایک چرچ کے نزدیک دفن چمڑے کے بیگ سے 6 انچ کا ایک ڈھانچہ دریافت ہواجس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھا کہ یہ کسی خلائی مخلوق کا ڈھانچہ ہے جو کسی طرح زمین پر اترنے کے بعد ہلاک ہوگئی اور اب کئی سال بعد اس کا ڈھانچہ منظر عام پر آگیا۔ اس دریافت نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی اور سب ہی اس راز کے فاش ہونے کے منتظر تھے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گیرے نولان اور ان کی ٹیم مسلسل پانچ سال تحقیق کے بعد دنیا کے سب سے چھوٹے ڈھانچے کی حقیقت تک پہنچ گئی ہے۔ ریسرچ ٹیم نے اپنے مقالے میں بتایا کہ عجیب الخلقت ڈھانچہ دراصل ایک انسانی ڈھانچہ ہی ہے جو جین کی تبدیل کے باعث ایسی شکل اختیار کر گیا ۔ تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ یہ ڈھانچہ ایک نوزائیدہ بچی کا  ہے جو جنیاتی تغیر کے باعث اسی حال میں پیدا ہوئی تھی تاہم جانبر نہ ہوسکی ۔ سائنسی جریدے جینوم ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچی کو جنیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدائش کا مقررہ وقت آنے سے قبل ہی نامکمل حالت میں جنم دے دیا گیا تاہم غیر معمولی کیفیت کے باعث نوزائیدہ بچی اپنی پیدائش کے فوری بعد ہی انتقال کرگئی ، یہ ڈھانچہ دریافت ہونے سے محض 40 سال پرانا ہے۔ چوں کہ یہ ڈھانچہ صحرائے ایٹاکاما سے دریافت ہوا تھا اس لیے اس کا نام جگہ کی مناسبت سے ایٹا رکھ دیا گیا تھا۔ تحقیق کاروں نے ڈھانچے سے متعلق معلومات ہڈیوں میں موجود ہڈیوں کے گودے کے تجزیے سے حاصل کیں جب کہ ڈھانچے سے حاصل ڈی این اے کا فرانزک لیب میں تجزیہ کیا گیا جس کے ثابت ہو گیا کہ یہ ڈھانچہ کسی خلائی مخلوق کا نہیں بلکہ ایک انسان کا ہے اور محض 40 سے 50 سال پرانا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *