تہذیبی جنگ کے بادل ۔۔ محمد فیاض خان سواتی

سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اس خبر کو بڑی شد و مد سے پھیلایا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں کسی تنظیم نے علی الاعلان آئندہ دنوں میں مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے ، ان کی ذاتی اور مذہبی املاک کو نقصان پہنچانے اور انہیں مارنے دینے تک پر انعامی پوائنٹس مقرر کئے ہیں ، مثلاً کسی خاتون کا حجاب کھینچنے پر 25 پوائنٹ ، کسی مسلمان پر تیزاب پھینکنے پر 50 پوائنٹ ، کسی مسلمان کو مار دینے پر 100 پوائئٹ اور مساجد میں بم پھینکنے وغیرہ جیسے انتہائی شر پسندانہ اعلانات کئے ہیں ۔

اگر واقعتاً ایسا ہی ہوا ہے تو یہ نہایت ہی تشویشناک خبر ہے ، اور پھر اس پر برطانیہ جیسے حقوق انسانیت کے بڑے علمبردار کی طرف سے مسلسل خاموشی اس سے بھی زیادہ خطرناک امر ہے ، انہیں چاہیے کہ اس کار روائی کی نہ صرف فی الفور تردید کریں بلکہ اس ظلم و ستم کے سد باب کے لئے جلد از جلد قانونی نوٹس لیں ، وگرنہ ان کا اپنا ملک ہی خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ، اس سنگین موقع پر حکومت پاکستان اور عالم اسلام کے تمام حکمرانوں اور مسلمانوں کو بھی اس پر از خطر اور خون ریز اعلانات کے خلاف بر وقت اور بھر پور منظم آواز اٹھانی چاہیے ، خدا نخواستہ کہیں ایسا ہی نہ ہو کہ یہ شر پسند تنظیم اس منصوبہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے آگ و خون کی ہولی کھیل جائے ، پھر بعد از وقت پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔

سابقہ تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ہمیشہ ایسے ہی چند مٹھی بھر شر پسندوں کی ایسی ہی سر پھری کارستانیوں کا خمیازہ بعد میں سب اقوام بھگتتی رہی ہیں اور یہی عدم برداشت کا رویہ بالآخر تہذیبی جنگوں کو بھی جنم دیتا ہے اور پھر پوری دنیا کے امن و امان کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتا ہے ، برطانیہ میں صرف عیسائی مذہب کے لوگ ہی آباد نہیں ہیں بلکہ تمام مذاہب کے لوگ وہاں رہائش پذیر ہیں ، اب تو دنیا کے نقشہ میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں تمام ہی مذاہب کے لوگ اپنی اپنی تہذیوں کے ساتھ موجود نہ ہوں ، اس لئے ہر ایک کو روا داری اور تحمل کے ساتھ اپنے اپنے مذہبی دائرہ کار میں رہنا چاہیے اور ہر ایک کے ملکی حقوق کا تحفظ بھی ہونا چاہیے ، دوسروں کی تہذیب ختم کرنے کے در پے  ہونے والے انتہاء پسند شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اس نا زیبا اور وحشیانہ حرکت سے پوری دنیا میں انارکی اور افرا تفری پھیلے گی اور پھر رد عمل میں مخالف ذہن بھی پیدا ہوگا اور وہ بھی اسی قسم کے اعلانات کر کے تمہارا امن و سکون بھی غارت کر کے رکھ دے گا ، خدا کرے کہ ایسا کبھی نہ ہو ، لیکن بادی النظر میں اس تہذیبی جنگ کے گھٹا ٹوپ بادل بڑی تیزی سے دنیا کے افق پر منڈلا رہے ہیں ،

اس لئے تمام عالمی برادریوں اور تنظیموں کو اس واقعہ پر فی الفور مداخلت کرتے ہوئے دنیا کے امن و چین کو بچانا چاہیے ، وگرنہ ان کی پر اسرار خاموشی بجائے خود ان کے امن کے قیام کے دعوٰی کی چغلی کھائے گی اور کئی گھروں کو اجاڑ کر ان کے چراغ گل کر کے رکھ دے گی ، اور پھر ان کے حقوق انسانی کے بلند بانگ دعوے بھی ہمیشہ کی طرح دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ، اس موقع پر برطانیہ کے مسلمانوں سے پر زور اور مخلصانہ گزارش ہے کہ انہیں مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔

ہماری دعا ہے کہ مولٰی کریم ایسے شر پسند عناصر سے تمام مسلمانوں کی ہر جگہ حفاظت فرمائے ۔آمین یا رب العالمین

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *