سعودی عرب کا عالمی سیاسی کردار

سعودی عرب کا شمار دنیا کےان چند ممالک میں ہوتا ہے ۔جو کہ عالمی سیاست اور عالمی طاقتوں کے نزدیک نہایت اہمیت کے حامل ہیں ۔وسائل کی دولت سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک میں بھی سعودی عرب کو مرکزی مقام حاصل ہے۔مسلم امہ کے مقدس ترین مقامات مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سعودی عرب میں موجود ہیں ۔

مقامات ِ مقدسہ کی بدولت ہر مسلمان کا دل سعودی عرب کے لیے بے پایاں محبت اور تقدیس کے جذبات سے لبریز ہے۔بالخصوص پاکستان میں سعودی عرب کو مذہبی ،سیاسی جماعتیں آئیڈیل اسلامی سلطنت کے طور پر پیش کرتی ہیں اور ہر دوسرے تیسرے مہینے تحفظ حرمین شریفین کے نام پر جلسے جلوس منعقد کرتی نظر آتی ہیں ۔حالانکہ اللہ تعالی اپنےگھر اور اپنے حبیب تاجدار کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کے روضہ اقدس کی حفاظت کے لیے ان جماعتوں کی کانفرنسوں کا محتاج نہیں ۔

اللہ تعالی قادر مطلق ہے۔ سعودی عرب کے بے پناہ وسائل اور اسلامی ممالک کے مابین اس کے مرکزی مقام سے عالمی طاقتیں بخوبی آگاہ ہیں اور سعودی عرب کا کردار عالمی سیاست پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس پر دنیا کے طاقتور ممالک نے اپنی پوری توجہ مرکوز رکھی اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جب سعودی عرب کے نام سے آل سعود نے یہ سلطنت قائم کی تو عالمی طاقتیں سعودی عرب کے کردار کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہو گئیں۔

سعودی عرب کو قدرت نے بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔عالمی سیاست کے شہ دماغ ان وسائل کو اپنے مفادات کے حصول میں بطور ایندھن استعمال کر رہے ہیں مگر سعودی عرب کی یہ دولت اور مرکزیت امت مسلمہ کے دکھوں کا مداوا کرنے سے محروم ہے۔عالمی سیاست کے طاقتور ممالک امریکہ اور اس کے تمام حواری اسلامی ممالک کی بربادی کے لیے اب اپنے مادی اور مالی وسائل استعمال کرنے کی بجائے سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کے وسائل کو استعمال کر رہاہے اور سعودی عرب کے کردار کی فعالیت اسلامی ممالک کی بقاء کی بجائے فنا کے لیے نظر آتی ہے ۔

عراق پر حملہ ہویالیبیا کی تباہی ، یا افغانستان پر حملہ ۔۔سعودی عرب عالمی سیاست میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔عراق پر کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگا کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور بعد میں امریکہ اور برطانیہ نے تسلیم بھی کیا کہ الزامات سچ پر مبنی نہیں تھے مگر مقام حیرت اور استعجاب ہے کہ آئیڈیل اسلامی سلطنت نے عراق کی تباہی میں فعال کردار ادا کیا اور ٹونی بلیئر جیسا غیر مسلم تو تاسف کا اظہار کرتا ہے مگر ان حکمرانوں کو کوئی پشیمانی نہیں ہوتی۔

شام کے حکمران پر سفاکیت اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات لگ رہے ہیں اور امریکہ نے شام پر حملہ کر دیا۔سعودی عرب نے فعال کردار ادا کرتے ہوئے اس حملے کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔مستقبل میں اگر عراق کے حکمران صدام حسین پر لگائے گئے الزامات کی طرح بشارالاسد پر لگائے گئے الزامات جھوٹے نکلے تو کیا اس کردار کو تعمیری کردار کہا جائے یا تخریبی ؟

امت مسلمہ کا جو تصور ہمارے علماء ہمیں سالوں سے بتاتے آرہے ہیں کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ۔۔ تو یہ جسم تو جگہ جگہ سے لہولہان ہو رہاہے ۔ان زخموں کے مداوے کے لیے سعودی عرب کا کردار مفقود ہے۔فلسطینی بچوں پر اسرائیل کی بمباری پر سعودی عرب کا کردار ساکن ہو جاتا ہے اور جب اسرائیل کے درندوں کی خون کی پیاس بجھتی ہے تو پھر سعودی عرب کا کردار متحرک اور فعال ہوتا ہے

اورکنگ عبداللہ 20ملین ریال کی امداد کا اعلان فرما کر محو استراحت ہوتے ہیں ۔سعودی عرب کا سیاسی کردار امت مسلمہ کے نفاق کے لیے فعال اور اتفاق کے لیے ناپید ہے۔جب کہ ہمارے سیاسی علماء عشروں سے سعودی عرب کو آئیڈیل اسلامی سلطنت قرار دے کر عوام کو جھوٹ پر مبنی خواب دکھا رہے ہیں ۔جذبات کے کھیل سے سیاسی مفاد حاصل کیے جا رہے ہیں ۔پاکستان کی عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *