جماعت اسلامی اوربے وقت کی راگنیاں!

جوں جوں الیکشن قریب آتے جارہے ہیں، تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی شعبدہ بازیوں کو بامِ عروج پر لے جانے کی بھر پور کوشش میں ہیں تاکہ کسی طرح سیاسی منظر نامے میں اپنی موجودگی کا احساس برقرار رکھ سکیں۔جماعت اسلامی بھی اب قاضی حسین احمد صاحب مرحوم والی جماعت نہیں رہی جس کی میچور سیاست دیکھتے ہم بڑے ہوئے ، اب یہ تدبر اور فراست سےمحروم اسلامی جمیعت طلبہ کا سینئر ونگ بن چکی ہے ۔ بدقسمتی سے جماعت کے گزشتہ اور موجودہ دونوں امراء اپنے آپ کو طلبہ سیاست کی سطح سے بلند کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، اور اسی وجہ سے جماعت کی علاقائی قیادت پربھی سستی شہرت کے متلاشی کم فہم اور تدبر سے عاری لوگ حاوی ہو چکے ہیں۔ امیر کراچی حافظ نعیم الرحمٰن صاحب ایسے لوگوں میں سر فہرست ہیں جنہیں شاید وقت سے پہلے ان کے سیاسی فہم اور قد سے بڑی ذمہ داریاں دے دی گئیں ۔ نتیجہً ان کی ناقص اور بے وقت کی پالیسیوں کی وجہ سے جماعت کی مقبولیت کو کراچی میں جونقصان گزشتہ 5-4سال میں پہنچا ہے، اتنا تو شاید ان کے دور امارت سے قبل جماعت کی پوری تاریخ میں نہ پہنچا ہو۔ ایک زمانہ تھا جب کراچی شہر میں جماعت کی زمام کار نعمت اللہ خان اورپروفیسر غفور مرحوم جیسے جہاندیدہ اور بردبار لوگوں کے ہاتھ میں ہو کرتی تھی جنہوں نے ایم کیوایم کے سیاسی افق پر چھاجانے کے بعد بھی جماعت کو شہر میں ایک موثر سیاسی قوت کے طور پر برقرار رکھا ہوا تھا۔ سن 2002 کے انتخابات میں پرویز مشرف کی جانب سے متحدہ کی مکمل سرپرستی کے باوجود جماعت کراچی سے نہ صرف صوبائی اسمبلی، بلکہ قومی اسمبلی کی نشستیں نکالنے میں کامیا ب رہی تھی۔ جبکہ 2013 کے انتخابات میں حالت یہ تھی کی پولنگ بوتھس پر خالی کرسیاں اور اڑتی دھول دیکھ کر دو پہر 1 بجے ہی حافظ صاحب کو الیکشن سے بھاگتے بنی تاکہ ضمانتیں ضبط ہونے کی خفت سے بچا جاسکے۔ اس عجلت میں کئے جانے والے بچکانہ بائیکاٹ کی وجہ سے پولنگ کی لائنوں میں صبح سے خوار ہو رہے جماعتی ووٹرز کی خفت اور کوفت کا میں عینی شاہد ہوں!

حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کی ان ہی بے وقت کی راگنیوں میں تازہ ترین موصوف کا اچانک کے الیکٹرک کے خلاف بجایا گیا طبل جنگ ہے! حضرت ہم بھی اسی کراچی شہر میں رہتے ہیں اور اسی کے الیکٹرک کے صارف ہیں۔ نجانے اچانک اس شہر میں بجلی کی صورتحال میں ایسا کیا تغیر برپا ہوگیا ہے جس سے صرف آپ ہی واقف ہیں اور متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر بات لوڈشیڈنگ کی ہے تو بجائے رات نسیم حجازی اورعبدالحلیم شرر کے ناول پڑھ کے صبح خودکو صلاح الدین ایوبی سمجھ کر سڑکوں پر دھاوے بولنے کے کچھ اعداد و شمار توپیش کریں، اور گزشتہ سال اوررواں سال کا تقابلہ کر کے بتائیں کہ کون سے علاقوں میں کتنی اضافی لوڈشیڈنگ کی گئی ہے؟ اگر آپ واقعی بڑے ہوچکے ہیں تو لائیں ثبوتوں کے پلندے اور دھجیاں اڑا دیں کے الیکٹرک کے اس دعوے کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ شہر کا 65 فیصد حصہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہے! اگر آپ مہنگی بجلی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں تو قوم کو کم از کم یہ تو بتادیں کہ گزشتہ ایک سال میں کے الیکٹرک نے نرخوں میں آخر کتنے فیصد اضافہ کیاہے؟ کیا آپ کو معلوم بھی کے کہ کے الیکٹرک تو کیا، پاکستان میں بجلی کی ترسیل کرنے والا کوئی بھی سرکاری یا نجی ادارہ نیپرا کی منظوری کے بغیر از خود صارفین کے لئے نرخوں میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ شاید آپ کو خبر نہیں کہ پاور سیکٹر پاکستان میں انتہائی رگیولیٹد سیکٹرز میں سے ایک ہے جس میں صارفین کے لئے نرخوں کے تعین کا اختیار صرف اور صرف نیپرا کے پاس ہے۔ اگر بالفرض کے الیکٹرک نے نرخوں میں خلاف قانون اضافہ کر بھی دیا ہے تو کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ نے نیپرا میں اس حوالے سے اب تک کتنی پٹیشنز دائر کیں ہیں جن کی شنوائی نہ ہونے کے سبب آپ کو آج سڑکیں بند کرکے عوام کی ایذا رسانی کر نا پڑ رہی ہے؟ لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیجئے کہ اس ’’طویل لوڈشیڈنگ‘‘ اور ’’مہنگی‘‘ بجلی سے متاثر کتنے صنعتکار آپ کے دھرنوں میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں؟ حقیقت یہ کہ آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ پاکستان میں ٹیرف کے کیا اصول و ضوابط ہیں اور ٹیرف اسٹرکچر کس طرح کام کرتا ہے، ہاں! مگر آپ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کی طرح آپ کے کارکنان اور عوام کی اکثریت بھی اس حوالے سے لاعلم ہے اس لئے اس میدان میں اپنا سیاسی منجن بیچنا آسان ہے، سو آپ اپنے جذباتی کارکنان کو لے کر سڑکیں بند کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں، بنا یہ سوچے کہ آج کی تاریخ میں کراچی کے عوام سڑک بند کرنے پر تو ایم کیوایم تک کو نہیں بخشتے، آپ کو کیونکر پھولوں کے ہار پہنائیں گے؟
تیسری وجہ جو بیان کی جارہی ہے وہ اضافی بلنگ ہے! یقیناً اس حوالے سے لوگوں کی جائز شکایات بھی موجود ہیں اور ادارے کا رویہ بھی کبھی کبھار نامناسب رہتا ہے مگر ایسا نہیں کہ صورتحال کلی طور پر خراب ہو۔ اوور بلنگ کی شکایات کے لیے کمپنی نے صارفین کو فورم مہیا کیا ہوا ہے جہاں یہ معاملات درست کروائے جا سکتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ ایک طویل اور صبرآزما کام ہےاور کسی بھی حل سے قبل صار ف کو بل بہر حال ادا کرنا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں کے الیکٹر کی خامیوں میں سب سے بڑی خامی ہی ان کا اوور بلنگ کی درستی کا طریقہ کار ہے، جس کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، تاہم ایسا نہیں ہے کہ اوور بلنگ کی شکایات کبھی دور نہ کی جاتی ہوں۔ میں اس سلسلے میں اپنا حالیہ ذاتی تجربہ بیان کر سکتا ہوں۔ 6-5 مہینے قبل ہمارا میڑ خراب ہوگیا تھا جس کے باعث کے الیکٹرک نے کچھ ماہ ہمیں ایوریج بل بھیجا۔ جب میٹر تبدیل کر دیا گیا، اس کے بعد بھی 3-2 مہینے ایوریج بل بھیجا گیا، جس کی ہم نے شکایت کی کیونکہ ایوریج بل اصل کھپت سے بہت زیادہ تھا۔ 2-1 مہینے کی خط وکتابت اور فالو اپ کے بعد بالآخر کے الیکٹرک نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اضافی رقم ایڈجسٹ کی اور بطور کریڈٹ ہمارے کھاتے میں منتقل کردی۔ چنانچہ گزشتہ دو ماہ سے ہمیں بل کی مد میں کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑی۔

اس سب کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جماعت اسلامی کراچی اپنی حالیہ روش کے مطابق ایک بار پھر نان ایشوز کو ہمالہ کے پہاڑ بنا کر اپنی توانائی ضائع کر رہی ہے، جبکہ آواز اٹھانے کو اس شہر میں مسائل کی کوئی کمی نہیں۔ پیپلز پارٹی نے 9 سالہ دور حکومت میں ماشااللہ سب ہی کے لئے وافر مقدار میں مسائل چھوڑے ہیں۔ کیا آپ کو اس شہر میں جا بجا کچرے کے ڈھیر نظر نہیں آتے؟ ٹوٹی سڑکیں، گندا پانی، ہوا چھوڑتے نلکے، کوٹہ سسٹم ، اجڑے پارک (جن میں سے بہت سے آپ ہی کے دور نظامت کی یادگار ہیں )، ٹرانسپورٹ کی حالت کچھ بھی آپ کو نظر نہیں آیا جو آپ ایک ایسے پرائیویٹ ادارے کے خلاف کمر بستہ ہو کر نکل کھڑے ہوئے جو اپنے منافع کا حقیقی تعین بھی خود نہیں کر سکتا؟ کبھی آپ نے بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات کے حوالے سے کوئی دھرنا دیا تاکہ عوامی مسائل آئین کے مطابق حل ہو سکیں اور عوام کو ترقیاتی کاموں کے لئے الیکشن سے پہلے کے آخری سال کا انتظارنہ کرنا پڑے ؟ آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا کیونکہ بلدیاتی اداروں میں آپ کے سیاسی مخالف حکومت بنائے بیٹھے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے الیکٹرک پر دباؤ ڈال کر ہائی لاسسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کم کروا کے اپنے کچھ ووٹ بڑھا لیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ ایسا تو ایم کیو ایم جیسی جماعت لیاقت آباد میں الکرم اسکوائر کے کیس میں نہیں کروا سکی تھی، آپ کن خیالوں میں ہیں؟ اگر آپ واقعی شہر کی سیاست میں ’’اِن‘‘ رہنا چاہتے ہیں تو اب بھی وقت ہے، اپنی توانائیوں کو شہر کے حقیقی مسائل کے حل کے لئے صرف کریں، کے الیکٹرک کے خلاف سڑکیں بند کر کے دھرنے دینے جیسے نمائشی اقدامات سے آپ شہر کے لوگوں مزید اذیت میں تو مبتلا کر سکتےہیں، اپنا ووٹ بینک نہیں بڑھا سکتے۔ ہم صرف آپ کو احساس ہی دلا سکتے ہیں کہ اب آپ اسلامی جمیعت طلبہ جامعہ کراچی کے نہیں جماعت اسلامی کراچی کے امیر ہیں، باقی آپ کی مرضی!

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *