مجسموں کی مسماری۔۔ریحان خان

 2001ء کے اوائل میں افغانستان کے وسطی صوبے بامیان میں چھٹی صدی عیسوی کے بنے بودھا کے مجسمے کو طالبان کے امیر ملا محمد عمر کے حکم پر گرا دیا گیا تھا۔ اس مجسمے کا شمار آثار قدیمہ میں ہوتا تھا اور علاقے میں شاید ہی کوئی فرد ایسا تھا جو بودھا کے مجسمے کی عبادت کرتا ہو جسے روکنے کیلئے طالبان کو سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہونا پڑے۔ طالبان کے اس اقدام کو مخالفین اور حامیوں نے مذہبی نکتہ نظر سے دیکھا جو درحقیقت طاقت کا اعلان تھا کہ ہم خطے کے طول و عرض پر قابض ہیں اور ہم جو چاہیں گے وہ کریں گے۔

امریکہ عراق جنگ کے بعد جب امریکی فوجیں عراق میں داخل ہوگئیں اس وقت بھی یہی صورتحال تھی جب سکیولر امریکی فوج نے صدام حسین کے مجسموں کو تاراج کیا۔ یہ عراق میں امریکی فتح کا اعلان تھا۔ گزشتہ سال اتر پردیش انتخابات میں ناقابل یقین فتح کے بعد بی جے پی کے کچھ کارکنان نے یوپی بھر میں مایاوتی، کانشی رام اور بی ایس پی کے انتخابی نشان ہاتھی کے مجسموں کو گرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ بھی فتح کے سرور سے وابستہ تھا۔

مجسموں توڑ کر طاقت کا اعلان کرنے کی یہ روش گزشتہ دنوں روز روشن کی طرح واضح ہوگئی جب طاقت، فتح اور اقتدار کے نشے میں چور ہزار اقسام کے بتوں کی پرستش کرنے والے ایک ہجوم نے تری پورہ میں کمیونسٹ رہنما ولادیمیر لینن کے مجسمے کو مسمار کردیا کیونکہ دنیا اب تہذیب یافتہ ہوگئی ہے اور فاتحین اپنا جشن مفتوحین کے گھروں کو جلا کر یا ان کی عورتوں کی عصمتیں تاراج کر کے منانے سے قاصر ہیں۔ نہ افغان میں بودھا کے مجسمے کی پرستش کی جاتی تھی نہ عراق میں صدام حسین کے مجسموں کو سجدے کئے جاتے تھے اور نہ ہی تری پورہ میں لینن کے مجسمے کو پوجا جاتا تھا۔ اس لئے مذہبی نکتہ نظر  سے ان معاملات کو نہیں دیکھنا چاہیے ۔

لینن کون تھا اور اس کا مجسمہ کیوں گرایا گیا یہ بھی ایک طویل داستان ہے۔ لینن روس میں کمیونسٹ انقلاب کے تحت پہلا مطلق العنان حکمراں گزرا ہے جو عوام میں اس قدر مقبول تھا کہ اس کی موت کے  وقت  جوزف اسٹالن نے اپنے سیاسی عزائم کیلئے لینن کے مردہ وجود پر عقیدتوں کے مینار کھڑے کرنے کا تہیہ کرتے ہوئے اسے  دفن کرنے سے انکار کردیا اور لینن کی لاش کی ممی بنا کر محفوظ کیا۔ خدا کے وجود کے منکر مارکسیوں کو لینن سے اس درجہ عقیدت تھی کہ انہوں نے اسے اوتار تک تسلیم کرلیا۔

لینن وہ تھا جسے صرف دیکھنے کیلئے منفی درجہ حرارت میں بھی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی تھیں۔ اس کے لئے عقیدتوں کے اظہار کے بڑے انوکھے اور نرالے ڈھنگ تھے۔ اس لینن کا مجسمہ تری پورہ میں مسمار کیا گیا ہے۔

نومبر 2015ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ برطانیہ کے موقع پر برطانوی اخبار ‘دی گارجیئن’ نے لکھا کہ ہندوستان پر ہندو طالبان کی حکومت ہے۔ گارجیئن نے یہ دعوی کسی اور پس منظر میں کیا تھا لیکن تری پورہ میں لینن کے مجسمے کو گرا کر تین سال قبل کئے گئے گارجیئن کے دعوے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ایک جانب بی جے پی مہاراشٹر میں چھتر پتی شیواجی اور گجرات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مجسموں پر ہزاروں کروڑ کی رقم صرف کررہی ہے اور دوسری جانب اس کے کارکنان تری پورہ میں لینن کا مجسمہ گرا رہے ہیں۔

وجہ صرف یہی ہے کہ شیواجی کے مجسمے سے مراٹھا ووٹ اور سردار ولبھ بھائی کے مجسمے سے پٹیل برادری کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا جاسکتا ہے جبکہ لینن کی فکر سے بی جے پی کا راست مقابلہ ہے مارکس یا لینن کے مجسمے تعمیر کرکے کمیونسٹ ووٹ ہتھیائے نہیں جاسکتے کیونکہ کامریڈ ہر حال میں کامریڈ ہی رہتا ہے۔

بلکہ لینن کے مجسمے کی تعمیر سے بی جے پی خود اپنے فکری محور سے ہٹ سکتی ہے، لینن کے نظریات میں بی جے پی کی فکر کے تئیں کوئی لچک بھی نہیں ہے کہ سردار پٹیل کی طرح لینن کے مجسمے بھی تعمیر کرنے میں بی جے پی کو کوئی احتیاج نہ ہو ،ا گر ایسا ہوتا تو مرکزی حکومت کی جانب سے ویسٹ بنگال میں لینن کا اس قدر طویل مجسمہ تیار کیا جاتا جو خود روس میں بھی نہیں تعمیر کیا گیا ہو۔

ہم یہ نہیں کہتے کی تری پورہ میں لینن کا مجسمہ بی جے پی کی ایماء پر توڑا گیا ہے۔ وہ صرف ایک فتح کا جشن تھا جس طرح ماضی میں فتح کے بعد مفتوحہ علاقوں میں لوٹ مار کرنے کیلئے سپہ سالار کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *