گراموفون پر پہلی ہندوستانی آواز ‘ گوہر جان۔۔اسلم ملک

سب کچھ خدا نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا۔۔

گوہر جان (26 جون 1873 ـ۔ 17 جنوری 1930) معروف ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ تھیں۔ وہ گراموفون کمپنی آف انڈیا کے 78 آر پی ایم ریکارڈ   کے لیے گانا ریکارڈ کروانے والی پہلی ہندوستانی گلوکارہ تھیں۔ انہیں ’’ کلکتہ کی پہلی رقاصہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بنگالی،ہندی،گجراتی، تامل، مراٹھی، عربی، فارسی، پشتو، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں اور متعدد اصناف موسیقی میں اپنی گائیکی ریکارڈ کروائی۔ گوہر جان بادشاہ جارج پنجم، نواب واجد علی شاہ اور کرشنا راجا واڈیار چہارم والی ء میسور سمیت متعدد امراء کے درباروں کے ساتھہ وابستہ رہیں۔

26 جون 1873ء کو اعظم گڑھ میں پیدا ہونے والی گوہر جان کا پیدائشی نام انجلینا ییوارڈ تھا، جو آرمینی نسل کےایک ڈرائی آئس فیکٹری انجینئر  ولیم رابرٹ ییوارڈ کی بیٹی تھی۔انجلینا نے اعظم گڑھ کے ایک میتھڈسٹ چرچ میں بپتسمہ لیا۔ اس کی ماں وکٹوریہ ہیمنگز بھی ایک کلاسیکی رقاصہ اور گلوکارہ تھی۔ 1879ء میں وکٹوریہ کی اپنے شوہر سے علیحدگی ہوئی تو وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بنارس کی مسلم اشرافیہ کے ایک شخص خورشید کے ساتھ  رہنے لگی۔ خورشید فنون لطیفہ کا دلدادہ تھا، اس دوران دونوں ماں بیٹی نے اسلام قبول کر لیا اور وکٹوریہ نے اپنا نام ملکہ جان رکھا، جبکہ اپنی بیٹی انجلینا کو گوہر جان کا نام دیا۔ بنارس ان دنوں فنون لطیفہ کا ایک اہم مرکز تھا، ملکہ جان نے گائیکی اور رقص کا پیشہ اختیار کیا اور رقص و موسیقی میں تربیت کے آٹھ  سال گزارنے کے بعد بائی جی کہلوانے لگی۔ اپنے معاصروں میں بہت سی ہم نام فنکاراؤں (مثلا ملکہ جان آگرے والی، ملکہ جان ملک پکھراج والی اور ملکہ جان آف چلبلی) میں ممتاز مقام کی وجہ سے اسے بڑی ملکہ جان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

1883ء میں گوہر جان اپنی ماں اور خورشید کے ہمراہ کلکتہ چلی آئی۔ ان دنوں بنارس، لکھنؤ اور آگرہ کی بائیاں کلکتے کے باؤ بازار میں معاش تلاش کرتی تھیں۔ تین برس کے عرصے میں بڑی ملکہ جان نے کلکتہ میں ایک ممتاز مقام حاصل کر لیا اور 24 چت پور روڈ پر 40,000 روپے میں ایک بہت بڑی عمارت خریدی۔ نوعمر گوہر جان کے گنڈ بندھن کی رسم کے بعد اس کی فنی تربیت کے لیے یکتائے زمانہ اساتذۂ فن کو مامور کیا گیا۔ گوہر جان نے ہندوستانی کلاسیکی گائیکی اور کچا گانا کی تربیت استاد کالے خاں آف پٹیالہ(کالو استاد)، استاد وزیر خاں آف رامپور اور استاد علی بخش (پٹیالہ گھرانہ کے بانی) سے حاصل کی، کتھک کی تربیت بریندادین مہاراج (برجو مہاراج کے چچا دادا) سے،دھرپد دھمار کی تربیت سریجن بائی سےپائی اور بنگالی کیرتن ، چرن داس سے سیکھا۔ ان کے علاوہ اس نے اپنے معاصر فنکاروں مثلاََ موج الدین خاں، بھیا گنپت راؤ اور پیارا صاحب سے بھی اکتساب فن کیا۔ گوہر جان ایک غزل گو شاعرہ بھی تھی اور شاعری میں ہمدم تخلص کرتی تھی۔اس نے ٹیگور کے لکھے ہوئے متعدد گیت بھی گائے، جو بعد ازاں بنگالی گائیکی میں ’’ رابندر سنگیت‘‘ کے اصطلاحی نام سے معروف ہوئے ہیں۔

رسمی تربیت مکمل ہونے کے بعد گوہر جان نے اپنے فن کا سب سے پہلا مظاہرہ ریاست دربھنگا میں پندرہ سال کی عمر میں کیا۔ 1896ء میں وہ کلکتے کے امراء کی محفلوں سے باقاعدہ متعارف ہوئی اور اس کی مقبولیت عوام الناس تک پہنچنے لگی۔

گوہر جان نے راگداری سنگیت، ٹھمری، دادرا، بھجن، کجری، چیٹی اور ترانہ گائیکی میں کمال اور بے پناہ شہرہ پایا۔ اس نے پورے ہندوستان کا سفر کیا اور مؤقر موسیقی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1911ء میں اسے1000 روپے کے عوض پریاگ سنگیت سمیتی میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ بادشاہ جارج پنجم کی تاجپوشی کے موقع پر اسےدہلی دربار مدعو کیا گیا جہاں اس نے جانکی بائی الہ آباد والی کے ساتھ  مل کر تاجپوشی کا مجرا گایا ۔
یہ ہے تاجپوشی کا جلسہ، مبارک ہو، مبارک ہو۔
اس مجرے پر انہیں بادشاہ کی طرف سے بھاری انعامات سے نوازا گیا۔

گوہر جان نے 1902 سے 1920 تک 600 کے لگ بھگ گانے ریکارڈ کروائے ۔ یہ ریکارڈز ابتدا میں جرمنی کے شہر ہانوور سے پریس کروا کر منگوائے جاتے تھے، تاوقتیکہ کلکتہ میں سیالدہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ریکارڈز فیکٹری کا افتتاح ہوا، جس میں گوہر جان کو گراموفون پر متعارف کروانے والے گراموفون کمپنی لندن کے ولیم گیسبرگ کو بھی مدعو کیا گیا، جس نے اس موقع پر گوہر جان کے مزید گانے بھی ریکارڈ کیے۔

بیسویں صدی کے اوائل تک انگلستان، امریکہ، فرانس اور جرمنی کی متعدد گراموفون کمپنیاں مقامی صنعتوں سے باہر ایشیائی اور خاص طور پر ہندوستان میں گراموفون ریکارڈ کی ممکنہ صنعت کی طرف متوجہ ہو رہی تھیں۔ 1898ء میں گراموفون کمپنی لندن نے اپنی پہلی مشرق بعید گراموفون ریکارڈنگ مہم کے آغاز پر ایک مقامی ایجنٹ کو مامور کیا لیکن اس نے چند اینگلو ہندوستانی آوازوں کی ریکارڈنگ پر اکتفا کرتے ہوئے کسی ہندوستانی فن کار کی آواز کی ریکارڈنگ کا حصہ نہیں بنایا۔

لیکن اس مہم کے آغاز سے تین ہفتے پہلے ہی گراموفون کمپنی لندن کے فریڈرک ولیم گیسبرگ کلکتے پہنچ چکےتھے۔ گیسبرگ گراموفون ریکارڈنگ کے باواآدم ایمیلے برلینر کے معاون تھے۔ گیسبرگ نے موسیقی کی مقامی محافل اور تھیٹروں تک رسائی کے لیے مقامی پولیس سپرنٹنڈنٹ کی مدد حاصل کی۔ بالآخر وہ ایک ایسی فنکارہ کو منتخب کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ہندوستان کی مقامی صنعت میں پہلے سے ہی ہر خاص و عام کی پسند تھی۔ گوہر جان نے 3000 روپے کے معاوضے پر راگ جوگیا میں گائے گئے ایک خیال سے  اس ریکارڈنگ کا آغاز کیا۔

14 نومبر 1902ء کو کلکتے کے ایک ہوٹل میں صبح 9 بجے 30 سالہ گوہر جان قیمتی زیورات میں لدی پھندی، اپنے سازندوں کے ٹولے کے ساتھ  پہلی ریکارڈنگ کروانے آئی۔ بھیروی میں گائے گئے تین منٹ دورانیےکے اس ریکارڈ کے آخر پر وہ انگریزی میں یہ کہتی ہوئی سنائی دیتی ہے؛
’’مائی نیم از گوہر جان‘‘
اس زمانے میں ریکارڈ پر لیبل لگانے میں آسانی کے لیے یہ طور اپنایا گیا، جو گوہر جان کے متعدد ریکارڈز کے آخر پر سننے میں آتا ہے۔

گوہر جان نے ایک شاہانہ زندگی بسر کی، لیکن نجی تعلقات کے حوالے سے متعدد تلخیاں بھی اس کی زندگی کا حصہ رہیں۔ وہ گھڑ سواری کی رسیا تھی، اس کے دن کا زیادہ تر حصہ انجانی بائی مالپیکر کے ساتھ  مہالکشمی ریس کورس میں گھڑ سواری میں گزرتا جبکہ شامیں اور راتیں فن کا مظاہرہ کرنے میں ۔ وہ چار گھوڑوں کی بگھی میں سفر کرتی اور ایک دفعہ غیر محتاط سواری کی پاداش میں اسے 1000 روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

وہ اپنی شاہ خرچی کے حوالے سے بھی شہرت رکھتی تھی، مثلاً ایک بار جب اس کی بلی نے بچے جنے تو اس خوشی میں اس نے 20,000 روپے خرچ کر کے ایک بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس نے گاندھی جی کے ’’سوراج فنڈ ‘‘ کے لیے چندہ دینے کی ہامی بھری، لیکن جب گاندھی جی اس کے چندہ کنسرٹ میں وعدے کے باوجود نہ آئے تو اس نے طے شدہ رقم کا نصف چندے کے لیےدیا۔

معروف ہندوستانی گائیکہ ہیرا بائی (1905-1989) اپنے طفولیت کے زمانے میں جب اپنے والدین کی علیحدگی کے بعد پریشان حال زندگی گزار رہی تھی، گوہرجان نے اس کے والد عبدالکریم خاں سے درخواست کی کہ وہ ہیرابائی کو گود لینا چاہتی ہے۔ جب ہیرابائی کی ماں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ  پونے منتقل ہوئی تو گوہر جان نے ہیرا بائی اور اس کی بہن سندر بائی کو موسیقی کی تربیت دی اور گراموفون ریکارڈز کے ذریعے انہیں متعارف کروانے کا اہتمام کیا۔

اس کی شادی پشاور کے ایک جوان سید غلام عباس کے ساتھ ہوئی، جو اس کا سیکرٹری اور عمر میں اس سے دس برس چھوٹا تھا۔ لیکن یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی اور خانگی چشمکوں سے ہوتی ہوئی عدالتی تنازعوں اور علیحدگی پر منتج ہوئی۔ علیحدگی کے بعد اس نےبمبئی میں گجراتی تھیٹر سے وابستہ اداکارامرت کیشو نائک کے ساتھ  رہنا شروع کر دیا۔ تعلق کے اس عرصے میں اس نے متعدد مشہور گانے لکھے اور گائے۔ اس کا مشہور دادرا ’’ ان بن جیا میں لاگی‘‘ اسی عرصہ کی یادگار ہے۔

تین چار سال پر محیط اس رفاقت کا انجام امرت کی موت پر ہوا، جو گوہر جان کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ اس واقعے کے بعد اس کے اقارب اسے واپس کلکتے آ جانے پر اصرار کرتے رہے، لیکن وہ ہمیشہ اپنے اقارب کی بے وفائی کا گلہ کرتی رہی۔وہ کچھ  عرصہ ریاست دربھنگہ میں قیام کے بعد میسور چلی گئی، جہاں وہ مہاراجہ کرشناراجہ واڈیار کے دربار سے وابستہ رہی۔ یہیں میسور میں مکمل تنہائی اور اداسی کے عالم میں اس کی موت واقع ہوئی۔

گوہر جان نے 150 کے قریب ریکارڈ چھوڑے ہیں۔ ان تاریخی اہمیت کے حامل ریکارڈز کی بحالی اور دوبارہ اجرا کے لیے متعدد اقدام ہوئے ہیں۔ سارے گاما انڈیا (سابقہ گراموفون کمپنی آف انڈیا، یا’ہز ماسٹر وائس’ ایچ ایم وی) نے گراموفون کمپنی لندن کے تعاون سے ان ریکارڈز کے دوبارہ اجرا کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

1994 میں گراموفون کمپنی نے گوہر جان کے 18 ریکارڈز ’’چیئرمین وائس‘‘ کے نام سے آڈیو کیسٹ اور آڈیو سی ڈی میں جاری کیے۔ 2006ء میں جاری ہونے والے البم ’’ونٹیج میوزک آف انڈیا‘‘ میں بھی ان ریکارڈز کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریکارڈ جمع کرنے والے شائقین موسیقی کے نجی ذخیرے بھی ان ریکارڈز کی عوامی اشاعت کا ایک ذریعہ بنتے رہے ہیں۔

ایک دلچسپ واقعہ!

ﮔﻮﮨﺮ ﺟﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﻟٰﮧ ﺁﺑﺎﺩ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮑﯽ ﺑﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﭘﺮ ﭨﮭﮩﺮﯼ-ﺟﺐ ﮔﻮﮨﺮ ﺟﺎﻥ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺧﺎﻥ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺳﯿﺪ ﺍﮐﺒﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ-ﺟﺎﻧﮑﯽ ﺑﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ ﮐﻞ ﭼﻠﯿﮟ ﮔﮯ-
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﮧ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ-
ﺟﺎﻧﮑﯽ ﺑﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻠﮑﺘﮧ ﮐﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻭ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻣﻐﻨﯿﮧ ﮔﻮﮨﺮ ﺟﺎﻥ ﮨﯿﮟ-
ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺍﺷﺘﯿﺎﻕ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻼ‌ﻧﮯ ﻻ‌ﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﮐﺒﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺯﮨﮯ ﻧﺼﯿﺐ، ﻭﺭﻧﮧ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﮞ ، ﻧﮧ ﺍﻣﺎﻡ ، ﻧﮧ ﻏﻮﺙ ، ﻧﮧ ﻗﻄﺐ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻟﯽ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻞِ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺅﮞ، ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺞ ﺗﮭﺎ ﺍﺏ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﮐﺒﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ، ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭﮞ‘‘

ﮔﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ” ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﻌﺮ ﮨﯽ ﻟﮑھہ ﺩﯾﺠﺌﮯ‘‘

ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﮧ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﯾﮧ ﻟﮑھہ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ

ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺁﺝ ﺑﮭﻼ‌ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﮔﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ
ﺳﺐ ﮐﭽھہ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *