بکھرے موتی

مظہر نے عالیہ کے ہاتھ سے تسبیح چھین کے دور پھینکی، اور پوری شدت سے دھاڑا۔۔۔
میں بتا رہا ہوں کہ ہرگز کوئی بدعت اپنے گھر میں برداشت نہیں کروں گا۔ عالیہ جو اس اچانک ہونے والی افتاد کو سمجھنے سے قاصر تھی، سہم گئی مگر بولی کچھ نہیں، سمجھ سے بالا تھا کے تسبیح یا اذکار پڑھنا کب سے بدعت ہو گیا؟ مظہر نے تشہد کی اگلی اشارہ کرتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں تنبیہ کی، تسبیح یا ازکار پڑھو مگر ان دانوں پہ گن گن کے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ حدیث سے ثابت نہیں اس لئے بدعت ہے اور میرے گھر میں خلاف حدیث کوئی کام ہو یہ مجھے گوارا نہیں۔ خورشید بیگم نے بھی بیٹے کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بیٹی کو ہی سمجھانے لگیں کہ نیکی کو بھلا کیا گننا۔۔۔ عالیہ انتہائی تحمل سے بات سننے کے بعد بولی۔۔ بھائی!
آج کتاب ذکر اللہ کے فضائل و مسائل کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ روایت نظر سے گزری ہے، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرمﷺ کے ساتھ ان کی ایک بیوی کے پاس پہنچے اور انکے آگے کھجور کی کچھ گٹھلیاں تھیں (یا سنگریزے تھے) وہ ان گٹھلیوں (یا سنگر یزوں) پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو وہ نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے۔ وہ یہ ہے کے تمام اور طرح کہو سبحان اللہ عدد ما خلق فی السماء و سبحان اللہ عدد ما خلق فی الأرض و سبحان اللہ عدد ما بین ذالک و سبحان اللہ عدد ما ھو خالق۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے عہدِ نبوی میں تسبیح کا رواج تو نہیں تھا مگر بعض حضرات اس مقصد کے لیے گٹھلیاں یا سنگریزے استعمال کرتے تھے اور ہمارے نبی کریمﷺ نے ان کو اس عمل سے منع نہیں فرمایا۔ آپ کی نبی کریمﷺ سے محبت احترام کے قابل ہے مگر ہمارے نبیﷺ نے نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور نرمی اختیار کرنے والوں کو پسند فرمایا ہے۔ آپ کے اس طرح چیخنے سے وقتی طور پر کوئی چپ تو ہو سکتا ہے مگر قائل نہیں۔ یہ کہہ کر عالیہ نے پلکوں پر اٹکے آنسو پونچھے اور زمین پہ جھک کر بکھرے موتی سمیٹنے لگی!!

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *