کشور ناہید۔۔۔۔ روشنی گھور اندھیروں سے کبھی ڈر نہیں سکتی

کشور ناہید
روشنی گھور اندھیروں سے کبھی ڈر نہیں سکتی

کئی سال پہلے کی بات ہے کہ مجھے ’’بری عورت کے خط نوزائیدہ بیٹی کے نام‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ سردیوں کی طویل اور شفیق راتیں تھیں۔ نوزائیدہ بیٹی کے نام لکھے جانے والے خط پڑھنے کے بعد اچانک وہ بری عورت مجسم ہو گئی اور میں نے اس کے وجود میں آخری کروٹ لی اور باہر آ گئی۔ آنکھیں کھولنے کے بعد میں نے اپنی نئی ماں کا چہرہ دیکھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اس کی نظروں اور اس کے وجود میں اپنائیت ہی اپنائیت تھی۔
میرے دل نے ماں کی پر سکون نظروں سے پوچھا۔
ماں: میری پیدائش نے اگر تجھے اتنا ہی مسرور کرنا تھا تو مجھے گٹر کے حوالے کیوں کیا تھا؟
کیا تو یہ سمجھی تھی کہ میری ذات میری شناخت خون کے ٹکڑوں میں بٹ کر بہہ گئی ہے اور اب تو آزاد ہے؟ اب تو صرف بیٹوں کی ماں ہے۔ بیٹے جو کبھی بدنامی اور رسوائی کا باعث نہیں بنتے۔ اپنی ماں کے لئے۔۔ دوسروں کی ماؤں کے لئے نہیں۔ ماں تیرے اندر بیٹی کی اتنی شدید چاہت تھی تو لے اب تیری یہ بیٹی پیدا ہو گئی ہے۔ تو اس کے وجود سے انکاری نہیں ہو سکتی۔
نوزائیدہ بیٹی کا یہ مکالمہ ماں کے ساتھ ساری رات چلتا رہا۔
پیاری ماں: جس نے بیٹی محض اس لئے نالیوں کے اندر بہا دی کہ کل کو مردانہ معاشرے کے گٹر میں گرنے سے بچ جائے۔
لوگ کہتے ہیں کشور ناہید بڑی جگر گردے والی خاتون ہیں۔ میں کہتی ہوں یہ جگر گردے ’ماں‘ نے اپنے جگر گردے کاٹ کر کمائے ہیں۔ وہ جو بیٹی کے دھرتی پر وجود کے تصور سے اس وجہ سے کپکپا اٹھتی ہے کہ وہ بیٹی ذات کے دکھ کے معاملے میں اتنی نازک دل اور محتاط ہے۔ وہ بیٹیوں کو دفن کر کے تن تنہا اس معاشرے میں پورے وقار کے ساتھ ایستادہ ہے۔ اس ماں کے بدن کے اندر کتنا حساس اور نازک دل ہے کوئی بھی نہیں جانتا۔
میں کشور ناہید صاحبہ پر ایک متعلّم کے طور پر لکھنے کی حیثیت میں نہیں ہوں کیونکہ اس حیثیت میں رہ کر لکھنے کے لئے بڑا وسیع مطالعہ اور گہرا مشاہدہ چاہیے۔ چار کتابیں پڑھ کر اور چند لوگوں سے سن کر کسی ہستی کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس حیثیت میں رہ کر ان کے ساتھ مکالمہ کروں گی۔ جس حیثیت میں میرا جنم ہوا تھا۔ چند سال قبل سردیوں کی ایک طویل رات کو۔
میں نے ان سے پوچھا:
آپ کون ہیں؟
انہوں نے چمکتی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور حیرت بھری سرگوشی کی۔
کیا؟؟؟ تم کیا پوچھ رہی ہو ’’میں کون ہوں‘‘؟
کیا تم نہیں جانتی میں کون ہوں؟
میں نے کہا۔ نہیں میں جانتی۔
انہوں نے کہا۔ کیسی بیٹی ہو تم؟ جو خود بخود جنم لے کر پہلو میں بھی لیٹی ہوئی ہے اور یہ بھی کہتی ہے کہ مجھے نہیں جانتی۔ کہ میں کون ہوں۔
موزے بیچتی جوتے بیچتی عورت میرا نام نہیں
میں تو وہی ہوں جس کو تم دیوار میں چن کے مثل صبا بے خوف ہوئے
یہ نہیں جانا
پتھر سے آواز کبھی بھی دب نہیں سکتی
میں تو وہی ہوں رسم و رواج کے بوجھ تلے جسے تم نے چھپایا
یہ نہیں جانا
روشنی گھور اندھیروں سے کبھی ڈر نہیں سکتی۔
میں تو وہی ہوں گود سے جس کے پھول چنے انگارے اور کانٹے ڈالے
یہ نہیں جانا
زنجیروں سے پھول کی خوشبو چھپ نہیں سکتی
میں تو وہی ہوں میری حیا کے نام پہ تم نے مجھ کو خریدا مجھ کو بیچا
یہ نہیں جانا
کچے گھڑے پہ تیر کے سوہنی مر نہیں سکتی
میں تو وہی ہوں جس کو تم نے ڈولی بٹھا کے اپنے سر سے بوجھ اتارا
یہ نہیں جانا
ذہن غلام اگر ہے قوم ابھر نہیں سکتی۔
اب گودوں اور ذہنوں میں پھولوں کے کھلنے کا موسم ہے۔ پوسٹروں پر نیم برہنہ
موزے بیچتی جوتے بیچتی عورت میرا نام نہیں
ماں بولتی گئی اور میں حیرت سے ماں کے شفیق پر نور چہرے کی طرف دیکھتی رہی جب وہ اپنا تعارف کروا چکی تو میں نے تڑپ کر سینے میں اپنا منہ چھپایا اور کہا مجھے اپنی اسی خوبصورت آواز میں کوئی کہانی سناؤ نا ماں!
ماں ہولے سے مسکرائی اور بولی۔ ابھی سے تم کہانیاں سننے لگی ہو؟؟؟
ایک کہانی
کاٹھ کے گھوڑے پر بیٹھ کے
بچہ ہلکورے لیتا ہے
گھوڑا لکڑی کا ہے
لمس نا آشنا ہے
وہ بے جان کو خوب مارتا ہے
خوب الٹا سیدھا کرتا ہے
اور خوش رہتا ہے
جوان ہوتا ہے
پھر کاٹھ کے گھوڑے پہ سوار ہوتا ہے
اور نفیریاں بجوا کر اپنے جوان ہونے کا اعلان کرتا ہے
رات گزرتے ہی کاٹھ کا گھوڑا بدل جاتا ہے
مارنے والا اور خوش ہونے والا، وہی رہتا ہے
ہمارا تمہارا مجازی خدا
اپنے وقار اور دبدبے کے ساتھ رہنے والی۔ سچی بات کرنے والی اور کبھی نہ ڈرنے والی۔ اپنی من مرضی کرنے والی میری ماں نے میری طرف سے بھی ایک دعا مانگی تھی۔ کیا آپ لوگ اس دعا سے واقف ہیں؟ اگر نہیں تو میں بتا دیتی ہوں کہ وہ دعا کیا تھی۔ یہ پیدائش سے پہلے کی دعا ہے۔
میری پیدائش سے پہلے میرا کہا مانو
گلاب کو ہلدی کے رنگ میں ڈبو کر
اور بات کو پتھر کے تعویز میں پرو کر
آنے والوں کو
مجھے دیکھنے مت دینا
میری پیدائش سے پہلے میرا کہا مانو
جو شخص خود کو خدا سمجھتا ہو
اور جو شخص وحشی اور ظالم ہو
اسے میرے قریب مت آنے دینا
کسی پیوند لگے جسم سے کوئی پیوند ادھار مانگ کر
میرا بدن لپیٹ دینا

منزہ احتشام
افسانہ نگار،محقق،نقاد،کالم نگار،نظم گو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *