امرتا پریتم جو ابھی تک امر ہے۔۔عظمٰی عارف/قسط1

ایسا لگتا ہے تاریخ نے اپنےا وارق پلٹے ہوں ، گھڑی کی سوئیاں  تھم  گئی ہوں ، ماضی کے دریچے پرت در پرت کھل رہے ہوں۔ وقت، امرتا کے لازوال استعارے کی طرح حیران و پریشان کہیں میرے کمرے میں ہی اٹک گیا ہو۔۔

امرتا کی کتاب رسیدی ٹکٹ میرے ہاتھ میں ہےاور ایسا لگتا ہے یہ رسیدی ٹکٹ نہیں امرتا خود میرے سامنے بیٹھی ہے اور محو کلام ہے۔

امرتا ایک باغی عورت تھی ، یہ بغاوت بچپن سے ہی اس کے مزاج کا حصہ تھی- اس نے گھر میں آنے والے (مسلمان)مہمانوں کے لیے الگ برتن رکھنے پر بغاوت کی ، باپ کے حفاظتی قلعے کو توڑنے کے لیے اور اپنے خیالی محبوب (راجن) کے لیے بغاوت کی،اور پھر یہ سلسلہ آخری سانس تک چلتا رہا-

یہ بھی پڑھیں :  خواجہ سرا ، سماج ، اہلِ مذہب اور ریاست ۔۔آصف محمود

امرتا سے میرا پہلا تعارف ساحر کےنام کے ساتھ ہوا ۔مگر میرے خیال میں امرتا کو صرف ساحر کے نام کے ساتھ جوڑنا بہت بڑی زیادتی ہے ۔وہ ایک مکمل شخصیت  تھی ،اس کا کارنامہ ساحر سے محبت کرنا نہیں تھا ، اس کا کارنامہ تمام تر مخالفت اور طعن و تشنیع کے باوجود اس محبت کو کھلے عام اپنانے کا تھا ۔امرتا نے برصغیر کی ڈرپوک عورتوں کی طرح اپنے دل میں ہی چپکے چپکے پیار نہیں کیا،اس کا واضح ثبوت اس کا بیٹا نوراج تھا جو ساحر جیسی شبیہ لے کر پیدا ہوا لیکن وہ ساحر کا بیٹا نہیں تھا۔۔۔۔

امرتا ایک آزاد خیال عورت تھی مگر بدکردار نہیں تھی لیکن اس کے معاصر ین نے اسے بدچلن ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور اس حد تک چلے گئےکہ اسے “شہو ت کی کیڑی “کا لقب دینے سے بھی نہ چوکے ۔۔۔امرتا لکھتی ہے

“میرے ایک ہم عصر نے مجھ سے الگ ہوئے میرے خاوند پر زور دیا کہ اگر وہ ایک بار کاغذ پر دستخط کردیں تو وہ مجھ کو سالہا سال عدالتوں میں خراب کرتا رہے گا ”

امرتا بھی پھر امرتا ہی تھی ۔ امرتا نے کبھی اپنے پہلے خاوند کو اپنی تحریروں میں نہیں گھسیٹا ۔جب بھی ذکر کیا مختصر اور عزت کے ساتھ ۔اس کا ساتھ ہی اتنا تھا!کسی نے کہا امرتا کو کمپلیکس تھا مگر مجھے تو ایسا کچھ نظر نہیں آیا،وہ ایک خود اعتماد عورت تھی اور جن مردوں سے اس کی خود اعتمادی برداشت نہیں ہوتی تھی وہ اسے احساس کمتری کا شکار سمجھتے ہیں –

1960کا سال امرتا کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا سال تھا امرتا لکھتی ہے۔۔

“المیہ یہ نہیں کہ آپ اپنے عشق کے ٹھٹھرتے بدن کے لیے ساری عمر گیتوں کے پیراہن سیتے رہیں – المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان پیراہنوں کو سینے کے لیے آپ کے پا س خیالوں کا دھاگا ختم ہو جائے اور آپ کی قلمی سوئی کی نوک ٹوٹ جائے”

یہ بھی پڑھیں :  پانی کی تلاش۔۔خطیب احمد

ان دنوں امرتا کو عجیب و غریب خواب آتے رہے ، ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب سارے منظر دھندلا جاتے ہیں ،وہ دھند اتنی گہری ہوتی ہے کہ آپ اپنا راستہ بھول جاتے ہیں اور حدنظر تک کچھ نظر نہیں آتا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں اور کیوں ۔۔؟؟؟یہ کیفیت ایک دن بھی رہ سکتی ہے اور ایک سال بھی لیکن آہستہ آہستہ دھند کے یہ بادل چھٹنے لگتے ہیں اور انسان کو راستہ صاف صاف نظر آنے لگتا ہے یہی سب کچھ امرتا کے ساتھ بھی ہوا ۔۔۔

رسیدی ٹکٹ کا بہترین حصہ وہ ہے جہاں امرتا نے اپنے ادبی سفر کے بارے میں لکھا ہے ، وہ ساری جگہیں جو دنیا کے عظیم ادیبوں ، شاعروں سے جڑی ہوئی ہیں اور جن کا ذکر ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں ،وہاں امرتا نے بذات خود حاضری دی تھی ، ان جگہوں کو دیکھ کر اور چھو کر آئی تھی ،اب کہاں وہ لوگ کہاں وہ ادبی محفلیں ،ایسا لگتا ہے امرتا کے بعد سب کچھ اجڑ گیا ہو، ویران ہو گیا ہووہ گلیاں بھی اور وہ ادبی محفلیں بھی ۔۔

امرتا اپنے قلبی اور ذہنی حالت کے سفر کو چار مراحل سے گزرتے دیکھتی ہے،پہلا مرحلہ تھا لاشعور، دوسرا شعور، تیسرا دلیری اور چوتھا تنہائی ۔۔تنہائی بھی ایسی کہ جس میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ جائے – 1960 کے آغاز سے ہی امرتا نیپال سے ہوتے ہوئے  ماسکو ،ازبک سے ہوتی ہو ئی تاشقند گئی – امرتا اپنی سفری ڈائری میں ” گنگا جل سے لے کر دوڈ “تک کا سفر بیان کرتی ہے،اس دوران امرتا کو کئی بار امتیازی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا جیسے جب ہندوستا ن سےادیبوں کا وفد جانا تھا تو پنجابی ادیبوں نے سخت اعتراض کیا اور کہا “اگر امرتا وفد کے ساتھ گئی تو ہماری عورتیں ہمیں اس سفر پر نہیں جانے دیں گی”، یہاں پر آپ عورت ذات کی عورت سے دشمنی کو بغور سمجھ سکتے ہیں۔

عورت ذات نے خود کوہمیشہ مرد کے نام کے ساتھ جوڑ کر ہی دیکھا ہے اور مرد کے بغیر آزاد ، بہادر اور معاشرے کے مروجہ قوانین کی مخالف سمت چلنے والی عورت کو طوائف خیال کیا ۔۔بقول کنہیا لال کپور” ہر آزاد اورخودمختار عورت کو طوائف سمجھنے کا رحجان ہمارے معاشرے میں عام دیکھا جاسکتاہے “-

یہ بھی پڑھیں :  سیاہ حاشیہ ۔۔رفعت علوی

اس کے جواب میں امرتا نے کمال شان بے نیازی سے کہا کہ آپ نے ناحق تکلیف کی میں جب بھی جاؤں  گی اکیلی جاؤ ں گی ،اگر سویت روس کو میری ضرورت ہو گی تو مجھ اکیلی کو بلا لیں گے ، وہ دن اور اس کے بعد امرتا کا نا ختم ہونے والا ادبی سفر شروع ہو گیا، ماسکو، جارجیا، یوگو سلاویہ ، آرمینیا، ہنگری ، تہران ، چیکو سلواکیہ ، فرانس ، اٹلی ، ، لندن ، مصر ، قاہرہ سمیت پوری دنیا گھوم لی ۔۔ رسیدی ٹکٹ نہ صرف امرتا کی زندگی کی کہانی ہے بلکہ تاریخ نامہ بھی ہے جس میں امرتا تاریخ کی اہم شخصیات کی زیارت کاشرف حاصل کرتی ہیں ۔۔۔۔

جاری ہے!

عظمٰی عارف
عظمٰی عارف
ادب کی ایک طالبہ جو زمانے کو دیکھنے اور پرکھنے کے تمام مروج آئینوں سے بے زار ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”امرتا پریتم جو ابھی تک امر ہے۔۔عظمٰی عارف/قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *