لبرل ازم ، دوسرا روسی انقلاب1991۔۔عمیر فاروق

  ہمارے شمال مغرب یعنی روس میں عہد جدید کے دو بڑے سیاسی نظریات انقلاب کے ذریعے آز مائے جا چکے ہیں۔ ۱۹۱۹ کے سوشلسٹ انقلاب پہ بہت کچھ لکھا گیا۔ لیکن یہ کسی نے دھیان نہیں دیا کہ ۱۹۹۱ میں سوویت یونین اور سوشلزم کا خاتمہ بھی ایک عوامی انقلاب ہی تھا جس کے بعد لبرل ڈیموکریسی کا سیاسی نظریہ پورے طور آزمایا گیا۔ اس کے کیا نتائج نکلے اور ترقی پذیر ایشیائی ممالک کے لئے اس میں کیا اسباق پنہاں  ہیں؟ عوام پہ اس کے کیا اثرات مرتب  ہوئے ؟ ہم نے اس پہ پورے طور غور ہی نہیں کیا۔ مغرب بوجہ اس پہ بات کرنے سے شرماتا ہے کیونکہ اس آئینے میں اس کی لبرل جمہوریت کا دوسرا رخ نظر آتا ہے جو بہت کریہہ ہے۔

۱۹۹۱ میں سوشلزم کے دھماکے کے ساتھ ختم ہوجانے کی وجہ یہ تھی کہ پریسٹرائیکا کی معاشی اور گلاسنوسٹ کی سیاسی اصلاحات کے بعد عوام کی توقعات بہت زیادہ بلند ہوچکی تھیں ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے چھوٹے پیمانے پہ ذاتی جائیداد اور کاروبار کی آزادی نے ایک چھوٹی سی بزنس کلاس پیدا کردی تھی جو کافی خوشحال تھی۔ منظم یا کنٹرولڈ معیشت میں طلب اور رسد کا روایتی عدم توازن بھی کم ہورہا تھا۔ لیکن عوام نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فرد کی زیادہ سے زیادہ آزادی اور ریاست کی کم سے کم مداخلت ( جو کہ لبرل جمہوریت کی اساس ہے) ہی زیادہ سے زیادہ خوشحالی کی ضمانت ہے۔ گورباچوف کے سوشل ڈیموکریسی کے مقابلے میں بورس یلسن لبرل ڈیموکریسی کے غیر متنازعہ چیمپیئن کے طور پہ ابھرا اور اس نے سوشلزم کی کسی بھی شکل کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا بھرپور عوامی طاقت اس کی پشت پہ تھی اور یوں روس نے ایک ہی صدی میں دوسرے انقلاب کو دیکھا۔

بورس یلسن کو کچھ خوف سوشلسٹوں کی واپسی کا بھی تھا اور وہ لبرل معیشت کا بھی قائل تھا اس لئے اس کا فیصلہ تھا کہ ریاستی اثاثہ جات کی جلد سے جلد نجکاری کردی جائے۔ تب یہ بتایا گیا کہ نجی ہاتھوں میں جانے کے بعد روسی صنعت میں مقابلے کا رجحان بڑھے گا جس سے عمومی پیداوار میں  اضافہ ہوگا اور عوامی معیار زندگی بلند ہوگا۔ روس پسماندہ معیشت کا حامل ملک نہ تھا اس کی وسیع صنعت موجود تھی جو ٹیکنالوجی میں مغرب سے پیچھے ضرور تھی لیکن باقی ترقی پذیر دنیا سے بہت آگے تھا۔ وہ تعلیم یافتہ آبادی اور عمدہ انفراسٹرکچر کا حامل ملک تھا۔ یلسن کا معاشی مشیر اناطولی چوبائیس روسی نژاد امریکی ماہر معیشت تھا ،نجکاری کے بارے میں اس کا پلان تھا کہ روسی اثاثوں کا تخمینہ لگا کر اس کے شیئرز عوام میں تقسیم کردیے جائیں۔ تاکہ جب نجکاری ہو تو عوام ان کو مارکیٹ ویلیو پہ فروخت کرکے پیسے لے لیں یا ان شیئرز پہ منافع حاصل کریں۔ روسی پارلیمنٹ کو اس پلان پہ بجا طور پہ بہت سے خدشات تھے۔ ان کا خیال تھا کہ عوام سرمایہ دار معیشت کی ابجد سے بھی واقف نہیں وہ نقصان اٹھائیں گے۔ ذرائع پیداوار نا تجربہ کار ہاتھوں میں جانے کے بعد ناکام ہونا شروع ہوجائیں گے، جس سے معیشت ابتری کا شکار ہوگی۔ نیز ان کا شک جو درست ثابت ہوا ، یہ تھا کہ یہ پلان امریکیوں نے بنایا ہے جس کے نتیجے میں روسی سٹریٹیجک اثاثے غیر ملکیوں کے ہاتھ لگ جائیں گے اور معیشت بھی ان کے کنٹرول میں چلی جائے گی اور تباہ ہوجائے گی۔ ( بعد میں یہ سب درست ثابت ہوا) پارلیمنٹ نے یلسن کے معاشی پلان کو منظور کرنے سے انکار کردیا تو یلسن نے اس پہ ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ کیا۔

یہاں ایک اور قوت یلسن کی حمایت میں داخل ہوئی۔ گورباچوف کی اصلاحات کے دوران روس میں ایک کامیاب اور خوشحال کاروباری طبقہ پیدا ہوا جس کے پاس سرمایہ کی فراوانی تھی۔ اس میں سے ایک چھوٹے سے طبقے کا عالمی سرمایہ داروں سے رابطہ ہوچکا تھا اور یہ روس کی نجکاری میں عالمی سرمایہ دار کے مڈل مین بننے کو تیار تھے۔ ان میں سے ایک ولادیمیر گوزنسکی روس کے پہلے پرائیویٹ ٹی وی نیٹ ورک کا بھی مالک تھا۔ ان کے مفادات کا تقاضا تھا کہ یلسن کی نجکاری کا عمل جلد شروع ہو۔ یہ آٹھ دس لوگ امیر کبیر اور روس میں امریکہ کے نمائندے یا مڈل مین تھے۔ میڈیا کیمپین نے عوام کو یقین دلایا کہ یلسن کی اصلاحات ملک کے فائدے میں ہیں اس طرح یلسن ریفرینڈم میں کامیاب ہوا۔ لیکن پارلیمنٹ سخت شکوک و شبہات کا شکار ہوچکی تھی انہوں نے یلسن کو عہدے سے معزول کردیا۔ اس ڈیڈ لاک پہ یلسن نے اکتوبر ۱۹۹۳ میں فوجی ٹینکوں کو پارلیمنٹ کے محاصرے کا حکم دے دیا اور پارلیمنٹ پہ گولہ باری کرکے ارکان کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد اس نے آئینی ترامیم کرکے زیادہ سے زیادہ اختیار سنبھال لیا اور نجکاری کا عمل شروع ہوگیا۔ کاروباری لوگوں کا یہ چھوٹا سا گروہ جسے بعد میں روسی تاریخ میں اولی گارکس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کے لئے اب سنہری موقع تھا۔ ان کے عالمی سرمایہ دار سے روابط تھے، وہ سسٹم اور اس کی کمزوریوں کو سمجھتے تھے انہیں پتہ تھا کہ کس کو رشوت دے کر اپنی  مرضی کاکام کروایا جاسکتا ہے۔ ان کا کاروباری ماڈل سیدھا سادا تھا کرپشن اور سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سرمائے کا حصول اس سرمایہ کو واپس سیاست میں انویسٹ کرنا اور سیاسی طاقت کے بل پہ مزید کرپشن اور سرمایہ جمع کرنا۔ انہوں نے بہت جلد روس کا سرکاری میڈیا بھی خرید لیا اور خود اپنے میڈیا ہاؤسز اور بینکس قائم کرلئے۔ نجکاری میں اس قدر لوٹ مار ہوئی کہ روس کی تیسری بڑی پٹرولیم فرم اپنے آئل فیلڈز کے ساتھ دس لاکھ ڈالر میں خریدی گئی۔ جبکہ روس سعودی عرب جتنا پٹرولیم پیدا کرتا ہے۔

یہ ایسے ہی ہے  جیسے سعودیہ کی بیس فیصد پٹرولیم کی استعداد دس لاکھ ڈالر میں بیچ دی جائے۔ عوام کو سمجھ ہی نہ تھی کہ ان شیئرز کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے اونے پونے داموں دس ہزار روبل مالیت کے شیئرز بعض اوقات دو ڈالر میں خرید لئے۔ جن فیکٹریوں کو نیلام کیا گیا بعض اوقات انہیں سکریپ کرکے فروخت کیا گیا( یعنی ان کی مالیت کباڑ سے بھی کم لگائی گئی) سخوئی لڑاکا طیارہ بنانے والی ایک فیکٹری بائیسیکل بناتی پائی گئی۔ ایک اسلحہ ساز فیکٹری کو سگریٹ بنانے والی فیکٹری سے تبدیل کردیا گیا( حالانکہ اس کے پاس اسلحہ کے آرڈرز بھی موجود تھے) روسی آئل فیلڈز کو اس طرح بیچا گیا کہ نہ تو اس تیل پہ روس کو رائلٹی حاصل ہوتی تھی اور نہ اس پہ ٹیکس لگ  سکتا تھا، اس پہ مستزاد یہ کہ روس پہ غیرملکی قرضہ جات بھی بے تحاشا چڑھ گئے۔ جیکب برگر اپنی کتاب میں اس کو “ ریپ آف رشیا” یعنی روس کے بلات کار سے عنوان کرتا ہے۔ یلسن خود الکوحلک تھا جو دن میں دو گھنٹے بمشکل کام کرتا تھا۔ اس کا باڈی گارڈ اس کا فرنٹ مین تھا جو مناسب پیسے لے کر ہر فائل پہ دستخط کرادیتا تھا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ فیکٹریاں بند ہونے کے باعث بیروزگاری پھیل گئی، تیل سے روس کو رائلٹی یا ٹیکس نہ ہونے کے برابر مل رہا تھا ، ٹیکس نیٹ محدود ہوچکا تھا غیرملکی قرضوں کی قسط کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس اکثر ملازمین کی تنخواہ کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔ روبل کی قیمت بے تحاشا گرنے کے باعث غربت پھیل گئی۔ ریاست عملاً ختم ہوچکی تھی اور روس پہ مافیا کا راج تھا۔ لیکن یہ سب اولی گارکس کے حق میں جاتا تھا وہ ریاستی اداروں اور قانون کے بے لاگ نفاذ کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ وہ کرپشن سے پیسہ کمار ہے تھے۔ اسی دور میں جارج سوروس اور مغربی این جی اوز کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا دیا گیا جن کا اصل مقصد رائے عامہ پہ اثرانداز ہونا تھا۔ اس طرح طاقت بالآخر  یلسن کے ہاتھ سے بھی پھسلتی جارہی تھی اور اولی گارکس، ان کا میڈیا، عالمی  سرمایہ دار اور ان کا این جی اوز کا نیٹ ورک زیادہ سے زیادہ سیاسی طاقت حاصل کرتا گیا۔

۱۹۹۶ کے الیکشن تک یلسن کو احساس ہوچکا تھا کہ  وہ الیکشن ہار جائے گا۔ عوام کی حالت ابتر تھی اور اس کے مقابلے میں دو بہت طاقتور امیدوار سامنے تھے جن میں ایک سوشلسٹ اور دوسرا نیشنلسٹ تھا اور یہ دونوں اس کی پالیسیوں پہ کھل کے تنقید کررہے تھے۔ الیکشن جیتنے کے لئے اسے ان آٹھ دس اولی گارکس یا بزنس ٹائیکونز کی ضرورت تھی کیونکہ یہی روس کے بینکوں کے مالک تھے اور نوے فیصد میڈیا بھی ان کے ہاتھ میں تھا، یہی لوگ اس کی الیکشن کیمپین پہ خرچ کرسکتے تھے اور انہی کا میڈیا سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرسکتا تھا۔ ان کو امریکہ کی مدد بھی حاصل تھی۔ اس نے ان سے ملاقات کی، ٹائیکونز نے مزید سودے بازی کی اور یلسن کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مخالف امیدواروں کا میڈیا بلیک آؤٹ کردیا اور یلسن دوبارہ کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد بہت جلد وہی روس جس کے پچھتر فیصد ذرائع پیداوار عوام کی ملکیت تھے اس سٹیج پہ آپہنچا کہ پچھتر فیصد ذرائع  پیداوار ان دس لوگوں کے پاس تھے۔ اور روس کی ریاست اور ریاستی ادارے عملاً ان کے سامنے منہدم ہوچکے تھے۔ بعد میں ولادیمیر پوتن نے اس صورت حال کو سنبھالا اس کے دور کو یوں کہا جاسکتا ہے کہ State strikes back پوتن کے دور میں دوبارہ ریاستی اداروں کو طاقت ملی اور اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونا شروع ہوئے۔ پٹرولیم فرموں کے ساتھ کمیشن لے کر کئے گئے غیرمنصفانہ معاہدات کی منسوخی کے بعد روس اپنے پٹرولیم کا خود مالک بنا تو پٹرولیم کی مد میں روسی ریاست کو ملنے والے ٹیکسز میں اسی فیصد اضافہ ہوا۔ ریاست سنبھلتی گئی ،اولی گارکس پہ مقدمات چلے ان میں سے کچھ جیل میں ہیں ،بقایا دہری شہریت کے حامل ملک سے فرار ہوگئے، اسرائیل یا برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔

روس میں کل جو ہوا اس کا ہماری زندگیوں سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اس کے بعد عالمی منظر نامہ پہ تین نئے مظہر نظر آئے۔ گلوبلائزیشن، نیو ورلڈ آرڈر یا یک قطبی دنیا اور نیو لبرل ازم۔ ۔یہ تینوں آپس میں اتنے گتھے ہوئے اور ہم آہنگ ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ گلوبلائزیشن یعنی سرمائے کی عالمگیریت کو ایک چھتری درکار ہے جو امریکی یک قطبیت مہیا کرتی ہے اور نیولبرل  ازم  اسے نظریاتی جواز دیتا ہے۔ روسی اولی گارک بیریزووسکی کہتا ہے کہ ابتدا میں جب اس نے امریکی سرمایہ کاروں کو روس میں جوائنٹ وینچرز کی پیشکش کی تو جارج سوروس جیسے شخص نے بھی انکار کردیا کیونکہ انہیں روس کے اندر سیاسی تحفظ نہ ہونے کا خوف تھا۔ یلسن کے ہاتھوں پارلیمنٹ کو بلڈوز کیے  جانے کے بعد بھی وہ روس کے اندر اپنی ایک مستقل سیاسی نمائندہ قوت چاہتے تھے جو ان کے مفادات کی نمائندگی کرے۔ اس مقصد کے لئے وہاں این جی اوز کا جال بچھایا گیا۔ جو نیولبرل نظریہ کو ترویج کرتے تھے اس طرح روایتی بائیں بازو کو یقین دلایا گیا کہ آج کے دور کا بایاں   بازو نیولبرلازم ہے۔

روایتی لبرلازم ڈیموکریسی کے ساتھ ری پبلک یعنی ریاست کا بھی اتنا ہی قائل تھا لیکن نیولبرلازم صرف ڈیموکریسی کا علمبردار ہے اور ریاست کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھتا ہے کیونکہ خود سرمایہ کار بھی ریاستی کنٹرول کو اپنے لئے نقصان دہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح غیرملکی سرمایہ کاری کا پیٹرن بھی تبدیل ہوا۔ اس سے پہلے ترقی پذیر ممالک میں ہونے والی غیرملکی سرمایہ کاری کے نتیجے میں نئے صنعتی یا پیداواری یونٹ لگائے جاتے تھے لیکن تب سے یہ پیٹرن تبدیل ہوگیا اور ریاستی اثاثوں کو نجکاری کے ذریعے خریدنے کا رجحان سامنے آیا۔ نجکاری کے بعد ان سہولیات کو لیپا پوتی کرکے عوام کو کافی مہنگے نرخوں پہ فروخت کیا جانا شروع ہوا۔ خاص طور پہ انرجی کے سیکٹر میں قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کی قوت خرید کو بھی کم کیا اور صنعت کو بھی تباہ کیا۔ نیو لبرلازم کرپشن کے بارے میں بہت غیر حساس ہوتا ہے بلکہ عملاً اسے جمہوریت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ مقامی سرمایہ دار اور سیاستدان بھی اس عمل میں شامل ہوتے ہیں پہلے کرپشن اور بدانتظامی کے ذریعے ریاستی اداروں اور اثاثوں کو تباہ کیا جاتا ہے پھر ناکام قرار دے کر اونے پونے اس کی نجکاری کردی جاتی ہے۔ اس پیٹرن کا آغاز یلسن کے روس سے ہوا اور بہت جلد اسے باقی دنیا میں پھیلا دیا گیا۔

مقامی سرمایہ دار کا اس میں رول کیا ہوتا ہے؟ امریکی محکمہ خارجہ کے ڈی کلاسیفائیڈ پیپرز میں روسی اولی گارک گوزنسکی کا تبصرہ بہت دلچسپ ہے ،جہاں وہ امریکی حکام کو بتاتا ہے کہ روس یورپ ہے ہی نہیں بلکہ ایک ایشیائی ملک ہے جہاں جمہوریت کی توقع فضول ہے اور یہاں  جمہوریت کے نام پہ طاقتور بزنس ٹائیکونز ہی حکومت کریں گے۔ یہ وہ آج کی دنیا ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔

غور سے دائیں بائیں جائزہ لیں گے تو روسی کہانی کے بہت سے کردار آپ کو اپنے ہاں بھی یہی رول نبھاتے نظر آئیں گے!!!

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لبرل ازم ، دوسرا روسی انقلاب1991۔۔عمیر فاروق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *