زرعی زمین کی حفاظت دراصل اپنی بقا کی حفاظت ہے۔ زرعی زمین کسی بھی ملک کی معیشت، خوراکی تحفظ اور ماحولیاتی توازن کی بنیاد ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں جہاں لاکھوں افراد کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے، وہاں زرعی اراضی کا کالونیوں اور کنکریٹ کے شہروں میں تبدیل ہونا ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اور منافع کی دوڑ نے زرخیز زمینوں کو رہائشی اسکیموں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نذر کر دیا ہے۔
اگر زرعی زمین کی اہمیت کی بات کی جائے تو زرعی زمین نہ صرف خوراک کی پیداوار کا ذریعہ ہے بلکہ دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،لاکھوں کسان خاندانوں کا روزگار فراہم کرتی ہے،ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں مددگار ہےاورزیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔
ویسے تو پاکستان کے صوبہ پنجاب کو “پاکستان کا اناج گھر” کہا جاتا ہے، جہاں کی زرخیز زمین ملک کی بڑی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے۔ ایسے میں اگر یہی زمین کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔
کالونیوں اور کنکریٹ شہروں کا پھیلاؤ خصوصاً بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے گرد و نواح میں زرعی زمین تیزی سے ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ نجی ڈیولپرز اور ہاؤسنگ اسکیمیں کسانوں سے زمین خرید کر اسے پلاٹوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ بظاہر یہ ترقی کا عمل محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔
اس رجحان کی وجوہات :آبادی میں تیز اضافہ , رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت,زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتیں , کسان فوری منافع کے لیے زمین فروخت کردیتےہیں,کمزور حکومتی پالیسی , زرعی زمین کے تحفظ کے مؤثر قوانین کا فقدان,شہری سہولیات کی کشش اور دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی ہیں ۔
اگرچہ اس رجحان کی طرف موجودہ نسل تیزی سے متاثر ہو رہی ہے مگر اس کے منفی اثرات بھی دیرپا ہیں۔ جیسے۔ 1. خوراک کی کمی کا خطرہ:
جب زرخیز زمین کم ہوتی جائے گی تو فصلوں کی پیداوار میں کمی آئے گی، جس سے خوراک کی قلت اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔
2. ماحولیاتی نقصان:
درختوں کی کٹائی اور زمین کی قدرتی ساخت میں تبدیلی سے درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے نظام میں خلل اور فضائی آلودگی بڑھتی ہے۔
3. زیرِ زمین پانی کی کمی:
کنکریٹ کی تہہ پانی کو زمین میں جذب ہونے سے روکتی ہے، جس سے زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جاتی ہے۔
4. دیہی معیشت کی تباہی:
کسان زمین بیچنے کے بعد وقتی طور پر مالدار تو ہو جاتے ہیں، مگر مستقل روزگار کھو بیٹھتے ہیں، جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔
تاہم یہی صورتحال اگر برقرار رہی تو آئندہ نسلوں کو خوراک کی شدید قلت، پانی کے بحران اور ماحولیاتی آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کنکریٹ کے بے ہنگم شہر نہ صرف قدرتی وسائل کو ختم کر دیں گے بلکہ رہنے کے لیے غیر صحت مند ماحول بھی پیدا کریں گے۔
اس مسئلے کے حل کےلئے حکومت پاکستان کوموزوں اقدامات اور تجاویز پیش کرنی چاہیے جیسے کہ زرعی زمین کے تحفظ کے قوانین سخت کیے جائیں،منصوبہ بند شہری ترقی کو فروغ دیا جائے، شہروں کی عمودی توسیع کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ افقی پھیلاؤ کم ہو،کسانوں کو مالی مراعات اور سبسڈی دی جائے تاکہ وہ زمین فروخت نہ کر پائے اور عوام میں شعور بیدار کیا جائے کہ زرعی زمین قومی اثاثہ ہے۔
نتیجتاً زرعی زمین کا کالونیوں اور کنکریٹ کے شہروں میں تبدیل ہونا وقتی ترقی کا مظہر تو ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ قومی نقصان ہے۔ ہمیں ترقی اور تحفظِ زمین کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سبز کھیتوں کی جگہ صرف کنکریٹ کے جنگل رہ جائیں گے، اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک غیر محفوظ اور غیر مستحکم مستقبل چھوڑ جائیں گے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں