زکوٰۃ کے منتظر اور مستحق/ڈاکٹر اظہر وحید

جکارتہ سے ایک پاکستانی نوجوان نے یہ سوال رکھا ہے: ’’ہم لوگ ایک عرصے سے جن کوزکوٰۃ دے رہے ہیں، دیکھا یہ جا رہا ہے کہ ان کی حالت جوں کی توں ہے، اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ ہر سال رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پھر سے زکوٰۃ کے منتظر ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے کے احکامات تو موجود ہیں لیکن کیا زکوٰۃ لینے کے لیے بھی کچھ ہدایات موجود ہیں؟‘‘ اس سوال کے بعد انہوں نے درخواست کی، کہ اس موضوع پر ایک کالم تحریر ہو جائے تو بہتوں کو افادہ ہو گا۔
رمضان کی آمد آمد ہے اور زکوٰۃ کا ’’موسم‘‘ بھی آیا چاہتا ہے۔ یہ سوال دراصل ایک فقہی سوال سے زیادہ اخلاقی اور سماجی نوعیت کا سوال ہے۔ قبل ازیں چند برس قبل ’’خیر سے محروم خیرات‘‘ کے عنوان سے ایک کالم تحریر ہوا تھا، جس میں زکوٰۃ دینے کے باب میں جن اخلاقی اقدار کو بے دردی سے کچلا جاتا ہے، لینے والوں کی جس طرح عزتِ نفس کو پامال کیا جاتا ہے، اور ایک دوسرے کے خیراتی اداروں کو ’’باہمی تعاون‘‘ کی بنیاد پر احسان مند کیا جاتا ہے، اس کے متعلق تفصیل سے ذکر کیا گیا تھا۔ زکوٰۃ کے فقہی مسائل کے باب میں بہتر ہے کہ مفتیانِ کرام سے سوال کیا جائے، کہ فقہ ، یعنی قانونِ شریعت پر عبور حاصل کے بغیر اپنی ذہنی افتادِ طبع کی بنیاد پر سوالوں کے جواب دینا ہرگز مناسب نہیں۔ ہم صرف اس کے معاشرتی آداب پر کچھ روشنی ڈالنے کی جسارت کر سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زکوٰۃ کے مصارف قرآن ہی میں گنوا دئیے گئے ہیں۔ فقہا اس کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ ’’اول خویش بعد درویش‘‘ کا معاملہ یہاں بھی درپیش ہے۔ یعنی سب سے پہلے اپنے غریب رشتہ داروں کی خدمت کی جائے، پھر قریبی ہمسایوں میں مستحقین کو تلاش کیا جائے اور پھر اس کے بعد کہیں اور … اور یہ بھی طے ہے کہ زکوٰۃ حکومتی اداروں، بینکوں، سکولوں، ہسپتالوں، مسجدوں اور مدرسوں کو نہیں دی جا سکتی۔ زکوٰۃ کے لیے ایک فرد کو ملکیت منتقل کرنا لازم ہے۔ اس میں کسی حیلے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ چند بنیادی اصول طے کرنے کے بعد اب ہم اس نوجوان کے سوال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
کشف المحجوب میں سیّد علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ نے زکوٰۃ کے باب میں ایک واقعہ درج کیا ہے۔ سیّدِ ہجویرؒ اپنا واقعہ بیان فرما رہے ہیں: ’’ایک مرتبہ میں مبتدی لوگوں کے درمیان زکوٰۃ کے مسائل بیان کر رہا تھا۔ ایک جاہل بھی آ کر بیٹھ گیا، میں زکوٰۃ میں اونٹوں کا ذکر کر رہا تھا اور بنت لبون (وہ مادہ اونٹ ہے جو اپنی زندگی
کے دو سال مکمل کر چکی ہو)، بنتِ مخاص (اونٹ کا وہ مادہ بچہ جس نے ایک سال مکمل کر لیا ہو) اور حِقَہ (وہ اونٹ یا اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو، عمر کے چوتھے سال میں ہو) کے متعلق احکامِ زکوٰۃ سمجھا رہا تھا، اس جاہل کو ناگوار گذرا۔ وہ تنگ آ کر اُٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میرے پاس تو کوئی اونٹ ہی نہیں تو بنتِ لبون وغیرہ کا علم میرے کس کام کا؟ میں نے کہا: او! نا سمجھ! یہ اچھی طرح سمجھ لے کہ جس طرح زکوٰۃ دینے کے لیے علم کی ضرورت ہے، اسی طرح لینے کے لیے بھی علم چاہیے، کیونکہ اگر کوئی تجھے بنتِ لبون دے تو اس وقت بھی تجھے علم کی ضرورت ہے۔ ترکِ علم سے یہاں بہت نقصان ہے۔ اسلام میں اگر کسی کے پاس مال نہ ہو اور اسے مال سے مناسبت بھی نہ ہو، تو بھی اس سے فرضیتِ علم ساقط نہیں ہوتی۔ ہم جہل سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں‘‘۔
یوں مستند ذرائع سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ لینے والے کو بھی کچھ بنیادی باتوں کا علم ہونا لازم ہے۔ زکوٰۃ دینے والا ایک فرض کے طور اللہ کے احکام کی بجاآوری میں اپنے مال میں سے کچھ مال ہر سال بحکمِ شرع تقسیم کر رہا ہے، لینے والا پر لازم ہے کہ وہ اسے اپنا حق نہ سمجھے۔ کسی کے فرض کو اپنا حق نہ سمجھ لینا چاہیے۔ دینے والا بحکم الٰہی ’’واقرضو اللہ قرضاً حسنا‘‘ (اور اللہ کو قرض دو، قرضِ حسنہ) پر کاربند ہے۔ اللہ خزانوں کا مالک ہے، خزانے پیدا کرنے والا ہے، اسے قرض لینے کی کیا ضرورت ہے بھلا … راز یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد کے لیے اپنے نام پر اپنے کچھ بندوں سے قرض مانگ لیتا ہے۔ عالمِ تخلیق کا آئین کچھ ایسا ہے کہ اس نے یہاں فرشتوں کے ہاتھ انسانوں کو پیسے نہیں بھیجنے، بلکہ انسانوں کی دنیا میں انسانوں ہی کے ہاں مستعمل کرنسی سے، انسانوں ہی کے ذریعے انسانوں کی مدد کرنی ہے۔ اس باب میں جو اُس کا معاون ہے، وہ اُسے محبوب ہے۔ جو اِس میں مزاحم ہے، وہ مبغوض ہے … وہ جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، جو مسکین کو کھانا کھلانے میں رغبت نہیں دلاتا، بحکمِ قرآن اُس کی عبادت اَکارت ہے … فویل للمصلین۔ اب یہاں لینے والے کو اِس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کے نام پر لے رہا ہے، یہ اس کا پیدائشی حق نہ تھا۔ وہ اسے اپنے اوپر قرض سمجھے۔ وہ جان لے کہ اسلام اس پر احسان کر رہا ہے، کہ اللہ کے نام پر قرض لے کر اسے سامانِ معیشت مہیا کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اس مالی مدد کے ذریعے جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی تگ و دو کرے، تا آن کہ وہ لینے والوں کی بجائے دینے والوں کی فہرست میں شامل ہو، کیوں کہ بحکمِ قولِ رسولِ مقبولؐ ’’اوپر والا نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘۔ ایک حدیث میں یوں بھی درج ہے کہ جو شخص قرض واپس دینے کی نیت کر لیتا ہے، اللہ اس کے لیے غیب سے اسباب مہیا کر دیتا ہے۔
دراصل ہر عبادت کی ایک غایت ہوتی ہے۔ نماز کی غایت ہے ’’فحش کاموں اور منکرات سے روکتی ہے‘‘۔ روزے کی غایت ہے ’’تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ‘‘۔ اسی طرح صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی بھی ایک غایت ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے ’’کہیں ایسا نہ ہو کہ دولت تم دولت مندوں کے درمیان ہی گھومتی رہ جائے‘‘۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر سوچنا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے، ہمارے ہاں صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی اتنی خطیر رقم کی تقسیم کے باوجود معاشرہ مجموعی طور پر سطحِ غربت سے اوپر نہیں آ رہا، دولت مند مزید دولت مند ہوتا جا رہا ہے اور غریب ہر سال غریب تر۔ کیا اس باب میں ہمارا اندازِ تقسیم و ترتیب کہیں افراط و تفریط کا شکار تو نہیں؟ ہر عبادت ادا کرنے کے بعد دیکھنا چاہیے کہ ہم اس کی غرض و غایت کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔ اگر ہم عبادت کی غایت پر پورا نہیں اُتر رہے تو ہماری عبادات محض معاشرتی رسومات کی حد تک رہ جائیں گی۔ زکوٰۃ کی مذکورہ غرض و غایت کو دیکھا جائے تو دینے والوں پر بھی یہ لازم آتا ہے کہ وہ زکوٰۃ کو محض ایک خیرات سمجھ کر ریوڑیوں کی طرح بانٹ کر فارغ نہ ہو جائیں بلکہ مسلم معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد ہونے کی حیثیت سے اسے کسی خاندان کی معاشی بحالی اور معاشرتی نگہبانی کا فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔ اس کے لیے انہیں مستحقین کے ساتھ ذاتی سطح پر راہ رسم بڑھانا چاہیے، ان کے مسائل کو سمجھنا چاہے، انہیں معاشی دھارے میں لانے کے لیے سوچنا چاہیے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کی اس کم علمی کا مداوا بھی کرنا چاہیے کہ یہ ہر سال انہیں ملنے والی لازمی خیرات ہے۔ زکوٰۃ دراصل مسلم معاشرے کا ایک مجموعی بہبودی فنڈ ہے، اس فنڈ کا ناجائز مصرف قابلِ گرفت ہونا چاہیے۔
لازم ہے کہ سائل اور بھکاری کے درمیان فرق ملحوظ رکھا جائے۔ بقول مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ، سائل وہ ہوتا ہے جس کا چہرہ سوال ہوتا ہے اور بھکاری وہ ہے جو ہر روز ایک ہی جگہ ایک ہی صدا لگا رہا ہے۔ اپنے صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کو سائلین کی مدد اور ان کی معاشی بحالی پر مرکوز کرنا چاہیے۔ معاشی مدد، معاشرتی مدد کے بغیر ادھوری ہے۔ مال سے محرومی عزتِ نفس سے محرومی نہیں۔ امداد معاشی ہو یا معاشرتی، اس کی قیمت کسی کی عزت نفس نہ ہونی چاہیے۔
اَز رْوئے حدیث، زکوٰۃ مال کو پاک کر دیتی ہے۔ سائیں فضل شاہ صاحبؒ فرمایا کرتے: زکوٰۃ دے کر تمہارا مال پاک ہو گیا ہے، گویا یہ پاک مال اب اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے کے لائق ہو گیا ہے، اب اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply