ماڑی پور ایبٹ آباد کے سید سلطان شاہ کاظمی اپنی خانقاہ میں مرشدی حضرت واصف علی واصف کی تصانیف سے درس دیتے ہیں اور اپنے مریدوں کو واصفیات کی خوب تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے والد محترم سید اسحاق شاہ کاظمی علاقے کی معروف روحانی شخصیت گزرے ہیں، صاحبِ مزار بھی ہیں اور صاحبِ عرس بھی۔ یہ مری والے بابا لال شاہ قلندر کے جانشین ہیں۔ لوگ انہیں پیر مانتے تھے۔ اس طرح انہیں بھی ’’پیر‘‘ بن کر گدی پر بیٹھنے کا ایک قدرتی ’’حق‘‘ حاصل تھا، لیکن شاہ صاحب محترم نے پیر بننے کی بجائے فقیر بننا پسند کیا۔ کسی روائتی پروٹوکول کے بغیر زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس لیے میرے دل کے بہت قریب ہیں۔ ظاہر کی بجائے باطن کو ترجیح دینے والا ہر خخص دل کے قریب ہوا کرتا ہے۔ کیا کریں، دل بھی تو فقط باطن کی آواز سنتا ہے۔ سلطان شاہ صاحب سوشل میڈیا پر ایک مہذب طریق سے ایکٹو بھی ہیں۔ سوشل میڈیا بھی ایک بے ہنگم اور پُرشور بازار ہے۔ یہاں اتنا شور ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، جو آواز سنائی بھی دے، اس پر دل کان نہیں دھرتا۔ یہاں مہذب طریق پر باوقار انداز سے چلنے والے لوگ کم کم ہیں۔ گزشتہ دنوں محترم شاہ صاحب نے اپنے سوشل میڈیا پر مرشدی حضرت واصف علی واصف کی کتاب ’’کرن کرن سورج‘‘ سے ایک پوسٹ لگائی: زِندگی اور عقیدے میں فاصلہ رکھنے والا اِنسان منافق ہوتا ہے۔ ایسا شخص نہ گناہ چھوڑتا ہے، نہ عبادت۔ اللہ اس کی سماجی یا سیاسی ضرورت ہوتا ہے، دِینی نہیں۔ ایسے آدمی کے لیے مایوسی اور کربِ مسلسل کا عذاب ہے۔ اس کے جواب میں کسی نے ایک اعتراض نما سوال جڑ دیا۔ شاہ صاحب نے اپنی پوسٹ اس سوال سمیت مجھے ارسال کر دی کہ اس پر سیر حاصل خامہ فرسائی کی جائے ، تا آن کہ مخلص متلاشیان کے ذوق کا کچھ سامان ہو جائے۔
’’کرن کرن سورج‘‘ کے اس پیراگراف میں قطعاً کوئی اشکال نہیں۔ حیرت ہے، اعتراض کس سمت سے وارد ہوا ہے۔ معترض لکھتا ہے: زندگی ایک بامقصد امتحان، محبت، امید اور صبر کے ساتھ گزاری جانے والی ایک خوبصورت مسافت ہے جس کی منزل موت ہے۔ عقیدہ ’’دل میں جمایا ہوا پختہ یقین‘‘، ’’گرہ باندھنا‘‘ یا ’’مضبوط عہد کرنا‘‘ ہے۔ اب اس مسافت میں شعور لازمی قرار دیا گیا۔ ان کی لاجک سے اتفاق نہیں ہے۔ باقی انسان کی
سوچ اور قلم چلتی ہے، دل کی باتیں قلم بند نہیں کر سکتا۔ قرب کی آمد الفاظ میں کم تقسیم ہوتی ہے، یہاں ایسا ہے۔ عجیب بات ہے یا تو کسی کے قرب کو تسلیم کر لیا جائے، یا پھر اپنے قرب کی تاثیر بیان کی جائے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ خود سے کبھی کوئی مصوری کی نہ ہو اور پکاسو کے شاہکار پر اعتراض وارد کرتا پھرے۔ معترض دراصل معرض ہوتا ہے۔ یہ تو ایک نصیحت ہے۔ نصیحت میں لاجک تلاش کرنے والا، نصیحت سے فرار حاصل کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ نصیحت بھی نصیب سے میسر آتی ہے۔ باادب بانصیب کلیہ یہاں خوب معانی آشکار کرتا ہے۔ محبت اور نصیحت میں لاجک تلاش نہیں کرتے۔ بلکہ اس میں بھیگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
یہ ایک سادہ نصیحت ہے، کہ اپنی زندگی میں اگر اپنے عقیدے اور عمل میں فاصلہ رکھو گے تو منافقت کا شکار ہو جاؤ گے۔ منافق آدمی کی نشانی یہی ہوتی ہے کہ اس کی زبان پر تو اس کا عقیدہ بیان ہوتا ہے، لیکن اس کا کردار اس عقیدے کے برعکس عقیدہ رکھنے والوں کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے ، عقیدہ اپنے یقین کی ایک گرہ کا نام ہے اپنے یقین اور خیال کو کسی نظریہِ حیات سے باندھ لینے کا نام ۔ یہ گرہ باندھنے کا عمل اگر کسی دینی شخصیت سے وابستہ ہوتو یہ عقیدت کہلائے گا۔ اب اس گرہ بندی کا لازمی نتیجہ راتوں رات عمل میں بہتری نہیں ۔ لوگ عہد کرتے ہیں اور پھر توڑ بھی دیتے ہیں۔کلمہ طیبہ سے بڑا عہد کون سا ہو سکتا ہے؟ لوگ کلمہ پڑھتے ہیں اور کردار ایسا رکھتے ہیں کہ ’’دیکھ کے شرمائیں یہود‘‘۔ عقیدہ بیان کرنے والے اپنے ہی عقیدے پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔ لوگ ایک سے بڑھ کر ایک نیک شخصیت سے وابستہ ہوتے ہیں، ان سے بیعت بھی ہو جاتے ہیں، لیکن نیک عمل ندارد۔ وفا کا جوہر خال خال ملتا ہے میاں!
سقراط کی طرح اتنا سادہ دل نہ ہو جاؤ کہ تصور کر لو کہ صحیح علم لازمی طور پر صحیح عمل کی صورت میں منتج ہو گا۔ سقراط کے نقادوں کا کہنا تھا کہ حضرت سقراط اپنی ذات میں اس قدر قول و فعل میں دیانت دار تھے کہ ان کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ کوئی شخص اپنے علم اور عقیدے کے برعکس بھی کام کر سکتا ہے۔ سقراط یہی کہا کرتے کہ جس کا عمل خراب ہے ، لازم ہے کہ اس کا علم ناقص ہوگا، اگر اس کا علم
درست کر دیا تو لازمی طور پر اس کا عمل درست ہو جائے گا۔ دراں حالے کہ اچھے خاصے باعلم اشخاص اپنے علم کے تقاضوں سے دور پائے گئے ہیں۔ انتہا کے باشعور لوگ جبلتوں کے ہاتھوں مجبور پائے گئے۔ اپنے نظریہ حیات ، یعنی عقیدے اور عقیدت کے برعکس زندگی گزارنے والے لوگ عام ہیں۔ کلمہ مومنانہ اور عمل کافرانہ رکھنے والے ہی منافق کہلاتے ہیں۔ ایک منافق شخص دو کشتیوں میں پاؤں رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کا ظاہر مسلمان اور باطن کافر ہوتا ہے۔ بجاارشاد فرمایا صاحبِ ارشاد حضرت واصف علی واصف نے ، کہ ایسے شخص کے لیے مایوسی اور کربِ مسلسل کا عذاب ہے۔ یہ اپنی سماجی اور سیاسی ضرورت کے تحت اللہ اللہ کرتا ہے، وگرنہ اللہ اس کے باطن کی ضرورت نہیں ہوتا ۔ یعنی اس کے باطن میں خدا کا خوف اور شوق دونوں نہیں ہوتے۔ یہ وجہ ہے کہ باطن کی دنیا میں محبت کا دعویٰ کرنے والے کے لیے شب بیداری اور آہِ سحر گاہی ایک لٹمس ٹیسٹ کی طرح ہے۔ رات کے پچھلے پہر بقول مرشد ’’رات ہے یا حق کی ذات ہے‘‘۔ رات کے اس سمے مخلوق ہماری عبادات اور مناجات کی گواہ نہیں ہوتی ۔ ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ دعا بھی ساؤنڈ سسٹم میں اور کیمرے کے سامنے مانگی جاتی ہے۔ گویا یہ اللہ کے حضور نہیں، بلکہ بندوں کے کانوں تک پہنچائی جا رہی ہے۔ اللہ اللہ معاذاللہ! درحقیقت رات ہمارے باطن کا اصل تعارف ہے۔ جیسی ہماری رات ہے ، ویسی ہماری ذات ہے۔ اقبال سمیت سب قلندروں کا طریق نالہ ہائے نیم شب ہی ہے۔ انہیں دن کی روشنی بار لگتی ہے۔ وہ رات میں نور کے طالب جو ٹھہرے۔ مخلوق سے میل ملاقات ان کے لیے بلائے جان ہوا کرتی ہے، کجا یہ کہ دین ور روحانیت کو سوشیلائزیشن کے لیے استعمال کیا جائے۔
ہماری صفات ظاہر ہیں، اور ہماری ذات باطن میں قیام پذیر ہے۔ لازم نہیں کہ ظاہر باطن کا تعارف ہو۔ جہاں ظاہر باطن کا عین تعارف ہوتاہے ، وہی مقامِ اخلاص ہے۔ جہاں ظاہر خوب صورت اور باطن کم صورت ہے، وہاں منافقت ہے۔ اخلاص راحت ہے، منافقت اذیت۔ حق تعالی ہمیں منافقت کے عذاب سے بچائے اور اخلاص کی راحت سے روشناس کرائے۔ اپنی زندگی میں جہاں بھی قول و فعل میں تضاد نظر آئے، زندگی اور عقیدے میں فرق دکھائی دے، وہاں توبہ درکار ہے۔ توبہ اور توفیق ہی نفاق سے نجات کا ذریعہ ہیں۔ اپنی کم علمی اور کم فہمی کا دفاع دراصل اپنی منافقت کا دفاع ہے۔ نصیحت میں منطق کی تلاش انتہائی غیرمنطقی طرزِ فکر و عمل ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں